Musnad Imam Ahmad 22891

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

22891Musnad Imam Ahmad

حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ قَالَ دَخَلَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ هُوَ وَذُو الْكَلَاعِ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ عِنْدَكَ ابْنُ عَمِّكَ فَقَالَ ذُو الْكَلَاعِ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ أَوْ مِنْ أَصْلَحِ النَّاسِ فَقَالَ عَوْفٌ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ

ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک ؓ اور ذوالکلاع مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حضرت عوف ؓ نے ان سے فرمایا کہ آپ کے پاس تو آپ کا بھتیجا (کعب احبار) ہے ذوالکلاع نے کہا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے بہترین آدمی ہے حضرت عوف ؓ نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔