Musnad Imam Ahmad 21182

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

21182Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حُسَيْنٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ اسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ قَوْمٌ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ مُقَرَّنِينَ فِي السَّلَاسِلِ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ مسکرا رہے تھے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے تعجب ہوتا ہے اس قوم پر جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے)