حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عِمْرَانَ النَّخْلِيِّ عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى وَادٍ قَالَ فَجَعَلْتُ أَعْبُرُ النَّاسَ أَوْ أَحْمِلُهُمْ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنْتَ الْيَوْمَ إِلَّا سَفِينَةً أَوْ مَا أَنْتَ إِلَّا سَفِينَةٌ قِيلَ لِشَرِيكٍ هُوَ سَفِينَةُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حضرت ام سلمہ ؓ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھا ہم ایک وادی میں پہنچے، میں لوگوں کا سامان اٹھا کر اسے عبور کرنے لگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔