Musnad Imam Ahmad 19932

حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات

19932Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا ثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ كَثِيرًا كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ قَامَ وَكَانَ يُطِيلُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ كَثِيرَ الصُّمَاتِ فَيَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ

سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ نبی ﷺ کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہاں نبی ﷺ جس جگہ پر نماز فجر پڑھتے تھے طلوع آفتاب تک وہاں سے نہیں اٹھتے تھے جب سورج طلوع ہوجاتا تو اٹھ جاتے تھے اور زیادہ وقت خاموش رہتے تھے اور کم ہنستے تھے البتہ نبی ﷺ کی موجودگی میں صحابہ باتیں بھی کہہ لیا کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کرکے ہنستے بھی تھے لیکن نبی ﷺ تبسم فرماتے تھے۔