Musnad Imam Ahmad 19769

حضرت عمر وبن سلمہ کی حدیثیں۔

19769Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر وبن سلمہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ الْحَدَّادُّ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ أَبُو الْحَارِثِ الْجَرْمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ الْجَرْمِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَاهُ وَنَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ أَمْرُهُ وَتَعَلَّمَ النَّاسُ فَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ مَنْ يُصَلِّي لَنَا أَوْ يُصَلِّي بِنَا فَقَالَ يُصَلِّي لَكُمْ أَوْ بِكُمْ أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ فَقَدِمُوا عَلَى قَوْمِهِمْ فَسَأَلُوا فِي الْحَيِّ فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا جَمَعَ أَكْثَرَ مِمَّا جَمَعْتُ فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَصَلَّيْتُ بِهِمْ وَأَنَا غُلَامٌ عَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي قَالَ فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا

حضرت عمرو بن سلمہ سے مروی ہے کہ ان کے قبیلے کا ایک وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب ان کا واپسی کا ارادہ ہوا تو وہ کہنے لگے یارسول اللہ ہماری امامت کون کرائے گا؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے قرآن جسے سب سے زیادہ آتاہو اس وقت قرآن کسی کو اتنا یاد نہ تھا جتنا مجھے یاد تھا چناچہ انہوں نے مجھے نوعمر ہونے کے باوجود آگے کردیا میں جس وقت ان کی امامت کرتا تھا تو میرے اوپر ایک چادرہوتی تھی اور اس کے بعد میں قبیلہ جرم کے جس مجمعے میں موجودرہا ان کی امامت میں نے ہی کی اور اب تک میں ان کو ہی نماز پڑھا رہا ہوں۔