Musnad Imam Ahmad 19520

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

19520Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ بَحْرِ بْنِ مَرَّارٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ مَنْ يَأْتِينِي بِجَرِيدَةِ نَخْلٍ قَالَ فَاسْتَبَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ آخَرُ فَجِئْنَا بِعَسِيبٍ فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ فَجَعَلَ عَلَى هَذَا وَاحِدَةً وَعَلَى هَذَا وَاحِدَةً ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ سَيُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا كَانَ فِيهِمَا مِنْ بُلُولَتِهِمَا شَيْءٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ فِي الْغِيبَةِ وَالْبَوْلِ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا نبی ﷺ نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور ایک آدمی بائیں جانب بھی تھا اچانک ہمارے سامنے دو قبریں آگئیں نبی ﷺ نے فرمایا ان دونوں مردوں کو عذاب ہورہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہورہا۔ تم میں سے کون میرے پاس ایک ٹہنی لے کر آئے گا ہم دوڑ پڑے میں اس پر سبقت کرگیا اور ایک ٹہنی لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی ﷺ نے اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا اور فرمایا جب تک یہ دونوں سرسبز رہیں گے ان پر عذاب میں تخفیف رہے گی۔ اور ان دونوں کو عذاب صرف پیشاب اور غیبت کے معاملے میں ہورہا ہے۔