Musnad Imam Ahmad 18638

حضرت یزید بن ثابت (رض) کی حدیثیں

18638Musnad Imam Ahmad

حضرت یزید بن ثابت (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ فَطَلَعَتْ جِنَازَةٌ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَارَ وَثَارَ أَصْحَابُهُ مَعَهُ فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى نَفَذَتْ قَالَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مِنْ تَأَذٍّ بِهَا أَوْ مِنْ تَضَايُقِ الْمَكَانِ وَلَا أَحْسِبُهَا إِلَّا يَهُودِيًّا أَوْ يَهُودِيَّةً وَمَا سَأَلْنَا عَنْ قِيَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت یزید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ صحابہ ؓ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ آگیا نبی کریم ﷺ اسے دیکھ کر کھڑے ہوگئے صحابہ کرام ؓ بھی کھڑے ہوگئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک جنازہ گذر نہ گیا واللہ میں نہیں جانتا کہ کتنے لوگوں کو اس جنازے کیوجہ سے یا جگہ کے تنگ ہونے کی وجہ سے تکلیف ہوئی اور میرا خیال یہی ہے کہ وہ جنازہ کسی یہودی مرد یا عورت کا تھا لیکن ہم نے نبی کریم ﷺ سے کھڑے ہونے کی وجہ نہیں پوچھی۔