Musnad Imam Ahmad 18542

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

18542Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ارقم (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا الْأَجْلَحُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أُتِيَ فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ إِذْ كَانَ بِالْيَمَنِ اشْتَرَكُوا فِي وَلَدٍ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَضَمِنَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ وَجَعَلَ الْوَلَدَ لَهُ قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَضَاءِ عَلِيٍّ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ

حضرت زید ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی ؓ یمن میں تھے تو ان کی پاس ایک عورت کو لایا گیا جس سے ایک ہی طہر میں تین آدمیوں نے بدکاری کی تھی انہوں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور قرعہ میں جس کا نام نکل آیابچہ اس کا قرار دے دیا اور اس پر دوتہائی دیت مقرر کردی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو نبی کریم ﷺ اتنے مسکرائے کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔