Musnad Imam Ahmad 18294

حضرت ابو عبداللہ صنابحی (رض) کی حدیثیں

18294Musnad Imam Ahmad

حضرت ابو عبداللہ صنابحی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ الصُّنَابِحِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِذَا طَلَعَتْ قَارَنَهَا فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا وَيُقَارِنُهَا حِينَ تَسْتَوِي فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَصَلُّوا غَيْرَ هَذِهِ السَّاعَاتِ الثَّلَاثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بِحَدِيثِ الشَّمْسِ

حضرت صنابحی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہوجاتا ہے جب سورج وسط میں پہنچتا ہے تو پھر اس کے قریب آجاتا ہے اور زوال کے وقت جدا ہوجاتا ہے پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ قریب آجاتا ہے اور غروب کے بعد پھر جدا ہوجاتا ہے اس لئے ان تین اوقات میں نماز مت پڑھا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔