Musnad Imam Ahmad 18028

حضرت عبدالرحمن بن یعمر (رض) کی حدیثیں

18028Musnad Imam Ahmad

حضرت عبدالرحمن بن یعمر (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْحَجِّ فَقَالَ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَاتٍ أَوْ عَرَفَةَ مَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ

حضرت عبدالرحمن بن یعمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے عرفہ کے دن حج کے متعلق پوچھا تو میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حج تو ہوتا ہی عرفہ کے دن ہے جو شخص مزدلفہ کی رات نماز فجر ہونے سے پہلے بھی میدان عرفات کو پالے تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور منٰی کے تین دن ہیں سو جو شخص پہلے ہی دو دن میں واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو بعد میں آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔