Musnad Imam Ahmad 16837

حضرت عیاض بن حمار مجاشعی (رض) کی حدیثیں

16837Musnad Imam Ahmad

حضرت عیاض بن حمار مجاشعی (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ وَكَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْرِفَةٌ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً قَالَ أَحْسَبُهَا إِبِلًا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا وَقَالَ إِنَّا لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ قُلْتُ وَمَا زَبْدُ الْمُشْرِكِينَ قَالَ رِفْدُهُمْ هَدِيَّتُهُمْ

حضرت عیاض ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور ان کی باہمی شناسائی بعثت سے قبل ہی ہوچکی تھی، جب نبی ﷺ مبعوث ہوچکے تو انہوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک ہدیہ غالباً اونٹ پیش کیا، نبی ﷺ نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا ہم مشرکوں کے زبد قبول نہیں کرتے، راوی نے زبد کا معنی پوچھا تو بتایا کہ اس کا معنی ہدیہ اور تحفہ ہے۔