Musnad Imam Ahmad 16807

حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات

16807Musnad Imam Ahmad

حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ حَدَّثَنِي مَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ قَالَ اسْتُرْ عَلَيْهِمْ قَالَ مَا أَسْتُرُ عَلَيْهِمْ أُرِيدُ أَنْ أَذْهَبَ أَجِيءَ بِالشُّرَطِ عَلَيْهِمْ قَالَ فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ وَيْحَكَ مَهْلًا عَلَيْهِمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ اسْتَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا

دخین جو حضرت عقبہ ؓ کا کاتب تھا، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عقبہ ؓ سے عرض کیا کہ ہمارے پڑوسی شراب پیتے ہیں، میں پولیس کو بلانے جا رہا ہوں تاکہ وہ آکر انہیں پکڑ لے، حضرت عقبہ ؓ نے فرمایا ایسا نہ کرو، بلکہ انہیں سمجھاؤ اور ڈراؤ،۔ کاتب نے ایسا ہی کیا لیکن وہ باز نہ آئے، چناچہ دخین دوبارہ حضرت عقبہ ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے اور اب تو میں پولیس کو بلا کر رہوں گا، حضرت عقبہ ؓ نے فرمایا افسوس! ایسا مت کرو، کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے، گویا وہ کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو بچا لیتا ہے۔