Musnad Imam Ahmad 16064

حضرت صعب بن جثامہ (رض) کی بقیہ مرویات

16064Musnad Imam Ahmad

حضرت صعب بن جثامہ (رض) کی بقیہ مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَيْتُ لَهُ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِي الْكَرَاهِيَةَ قَالَ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ

حضرت صعب بن جثامہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ میرے پاس سے گذرے، میں اس وقت مقام ابواء یاودان میں تھا، نبی ﷺ احرام کی حالت میں تھے، میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی گدھے کا گوشت ہدیۃ پیش کیا، لیکن نبی ﷺ نے وہ مجھے واپس کردیا اور جب میرے چہرے پر غمگینی کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اسے واپس کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم محرم ہیں۔