Musnad Imam Ahmad 15544

حضرت عبداللہ بن زبیر بن عوام کی مرویات۔

15544Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن زبیر بن عوام کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَمْعَةَ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَكَانَ يَطَؤُهَا وَكَانُوا يَتَّهِمُونَهَا فَوَلَدَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ أَمَّا الْمِيرَاثُ فَلَهُ وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكِ بِأَخٍ

حضرت عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ زمعہ کی ایک باندی تھی جسے وہ روندا کرتا تھا لوگ اس باندی پر الزامات بھی لگاتے تھے اتفاقا اس کے یہاں ایک بچہ بھی پیدا ہوا گیا نبی ﷺ نے حضرت سودہ سے فرمایا سودہ میراث تو اسے ملے گی لیکن تم اس سے پردہ کیا کرو کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے بلکہ گناہ کا نتیجہ ہے۔