Musnad Imam Ahmad 15250

حضرت رافع بن خدیج کی مرویات۔

15250Musnad Imam Ahmad

حضرت رافع بن خدیج کی مرویات۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يُكْرُونَ الْمَزَارِعَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاذِيَانَاتِ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ وَشَيْئًا مِنْ التِّبْنِ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِرَاءَ الْمَزَارِعِ بِهَذَا وَنَهَى عَنْهَا و قَالَ رَافِعٌ لَا بَأْسَ بِكِرَائِهَا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ

حضرت رافع بن خدیج ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں لوگ قابل کاشت زمین سبزیوں پانی کی نالیوں اور کچھ بھوسی کے عوض بھی کرایہ پر دیدیتے تھے نبی ﷺ نے ان چیزوں کے عوض اسے اچھا نہیں سمجھا اس لئے اس سے منع فرمادیا البتہ درہم یا دینار کے عوض اسے کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔