Musnad Imam Ahmad 15038

حضرت اسود بن سریع کی حدیثیں۔

15038Musnad Imam Ahmad

حضرت اسود بن سریع کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِكِينَ فَأَفْضَى بِهِمْ الْقَتْلُ إِلَى الذُّرِّيَّةِ فَلَمَّا جَاءُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكُمْ عَلَى قَتْلِ الذُّرِّيَّةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانُوا أَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ أَوَهَلْ خِيَارُكُمْ إِلَّا أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ نَسَمَةٍ تُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا

حضرت اسود بن سریع سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پرا یک دستہ روانہ فرمایا انہوں نے مشرکین سے قتال کیا جس کا دائرہ وسیع ہوتے ہوتے ان کی اولاد کے قتل تک جاپہنچا جب وہ لوگ واپس آئے تو نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں بچوں کو قتل کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ وہ مشرکین کے بچے تھے نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے جو بہترین لوگ ہیں وہ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے جو روح بھی دنیا میں جنم لیتی ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اپنا مافی الضمیر ادا کرنے لگے۔