Musnad Imam Ahmad 15024

حضرت حکیم بن حزام کی حدیثیں۔

15024Musnad Imam Ahmad

حضرت حکیم بن حزام کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ عُرْوَةَ وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولَانِ سَمِعْنَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يَقُولُ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى

حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے کچھ مال کی درخواست کی اور کئی مرتبہ کی نبی ﷺ نے فرمایا اے حکیم یہ مال سرسبز و شیریں ہوتا ہے جو شخص اس کے حق کے ساتھ وصول کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو شخص اشراف نفس کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ شخص اس کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا ہے اور سیراب نہ ہو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہترہوتا ہے۔