Musnad Imam Ahmad 1497

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

1497Musnad Imam Ahmad

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنْ الزَّرْعِ وَبِمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْهَا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَأَذِنَ لَنَا أَوْ رَخَّصَ بِأَنْ نُكْرِيَهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور با سعادت میں ہم لوگ اپنے کھیت کرائے پردے دیا کرتے تھے اور اس کا عوض یہ طے کرلیا کرتے تھے کہ نالیوں کے اوپر جو پیداوار ہو اور جسے پانی خود بخود پہنچ جائے وہ ہم لیں گے، نبی ﷺ نے اس طرح کرائے پر زمین دینے سے منع فرما دیا اور سونے چاندی کی بدلے زمین کو کرایہ پر دینے کی اجازت دے دی۔