Musnad Imam Ahmad 14960

حضرت سائب بن عبداللہ کی حدیثیں۔

14960Musnad Imam Ahmad

حضرت سائب بن عبداللہ کی حدیثیں۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ أَنَّهُ كَانَ يُشَارِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَةِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ جَاءَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي كَانَ لَا يُدَارِي وَلَا يُمَارِي يَا سَائِبُ قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تُقْبَلُ مِنْكَ وَهِيَ الْيَوْمَ تُقْبَلُ مِنْكَ وَكَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَةٍ

حضرت سائب سے مروی ہے کہ وہ اسلام سے قبل تجارت میں نبی ﷺ کے شریک تھے فتح مکہ کے دن وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا میرے بھائی اور شریک تجارت کو خوش آمدید، جو مقابلہ کرتا تھا اور نہ جھگڑتا تھا سائب تم زمانہ جاہلیت میں کچھ اچھے کام کرتے تھے لیکن اس وقت وہ قبول نہیں ہوتے تھے البتہ اب قبول ہوں گے حضرت سائب ضرورت مندوں کو قرض دیدیتے اور صلہ رحمی کرتے تھے۔