حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الطَّوَافِ بِالْكَعْبَةِ فَقَالَ كُنَّا نَطُوفُ فَنَمْسَحُ الرُّكْنَ الْفَاتِحَةَ وَالْخَاتِمَةَ وَلَمْ نَكُنْ نَطُوفُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَطْلُعُ الشَّمْسُ عَلَى قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے طواف کعبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم لوگ طواف کرتے ہوئے پہلے اور آخری رکن کو ہاتھ لگاتے تھے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک ہم طواف نہیں کرتے تھے اور میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔