Musnad Imam Ahmad 14575

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

14575Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِمْ إِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یہودیوں نے نبی ﷺ کو سلام کرتے ہوئے کہا السام علیک یا ابا قاسم نبی ﷺ نے جواب میں صرف وعلیکم کہا حضرت عائشہ نے پردے کے پیچھے سے غصے میں کہا کہ آپ سن نہیں رہے کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں میں نے سنا بھی ہے اور انہیں جواب بھی دیا ہے ان کے خلاف ہماری بددعا قبول ہوجائے گی لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعا قبول نہیں ہوگی۔