Musnad Imam Ahmad 14499

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

14499Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دُفِنَ سَعْدٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحَ النَّاسُ مَعَهُ طَوِيلًا ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ ثُمَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ سَبَّحْتَ قَالَ لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کی تدفین ہوچکی تو نبی ﷺ نے دیر تک تسبیح کی ہم بھی تسبیح کرتے رہے پھر تکبیر کہتے رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے تسبیح اور تکبیر کیوں کہی فرمایا کہ اس بندہ صالح پر قبر تنگ ہورہی تھی بعد میں اللہ نے اسے کشادہ کردی۔