Musnad Imam Ahmad 13985

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

13985Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُقَلِّبُ ظَهْرَهُ لِبَطْنٍ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُفْطِرَ فَقَالَ أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَصُومَ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گزر ایک آدمی پر ہوا جو اپنی کمر اور پیٹ پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا نبی ﷺ نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے ہے نبی ﷺ نے اسے بلا کر روزہ توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا کیا تمہارے لئے اتناہی کافی نہیں ہے کہ تم اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے ہو رسول اللہ کے ساتھ ہو کہ پھر بھی روزہ رکھتے ہو۔