Musnad Imam Ahmad 13945

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

13945Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ اضْطَرَبَتْ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَنَزَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَزَمَهَا فَسَكَنَتْ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرَوْحٌ اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ وَقَالَ رَوْحٌ فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَنَتْ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَسَكَتَتْ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک درخت کے تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے جب منبر بن گیا اور نبی ﷺ اس پر بیٹھے تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے اور مسجد میں تمام موجود لوگوں نے اس کی آواز سنی نبی ﷺ اس کے پاس چل کر آئے اور اسے گلے لگایا تو وہ خاموش ہوگیا۔