Musnad Imam Ahmad 13765

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

13765Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا قَالَ فَحَنَّ الْجِذْعُ قَالَ جَابِرٌ حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَوْ لَمْ يَأْتِهِ لَحَنَّ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک درخت کی جڑ یا تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا کہ مسجد میں موجود سارے لوگوں نے اس کی آواز سنی نبی ﷺ اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر نبی ﷺ ان کے پاس نہ جاتے تو وہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔