Musnad Imam Ahmad 13740

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

13740Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ الْعَمَلُ أَفِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ فِي شَيْءٍ نَسْتَأْنِفُهُ فَقَالَ بَلْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سراقہ بن مالک آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ عمل کس مقصد کے لئے ہے کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہوگئے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہوگیا ہے یا پھر ہم خود ہی بناتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا قلم خشک ہوچکے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہوگیا ہے انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائد؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اس عمل کو آسان کردیا جاتا ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔