Musnad Imam Ahmad 13729

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

13729Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ الظُّهْرُ كَاسْمِهَا وَالْعَصْرُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ وَالْمَغْرِبُ كَاسْمِهَا وَكُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِي مَنَازِلَنَا وَهِيَ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ فَنَرَى مَوَاقِعَ النَّبْلِ وَكَانَ يُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَيُؤَخِّرُ وَالْفَجْرُ كَاسْمِهَا وَكَانَ يُغَلِّسُ بِهَا

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نماز ظہر اپنے نام کی طرح ہے نماز عصر سورج کے روشن اور تازہ دم ہونے کا نام ہے نماز مغرب بھی اپنے نام کی طرح ہے ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ دکھائی دیتی تھی اور نبی ﷺ نماز عشاء کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے ادا کرتے تھے اور نماز فجر بھی اپنے نام کی طرح ہی ہے اور نبی ﷺ نماز فجر اندھیرے میں پڑھتے تھے۔