Musnad Imam Ahmad 12648

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

12648Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا فُلَانَةُ تُصَلِّي فَإِذَا غُلِبَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ لِتُصَلِّ مَا عَقَلَتْ فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْض

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا کہ یہ کیسی رسی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں خاتون کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اسے کھول دو، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔