Musnad Imam Ahmad 12605

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

12605Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ابْنًا لِأُمِّ سُلَيْمٍ صَغِيرًا كَانَ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهِ ضَاحَكَهُ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَا بَالُ أَبِي عُمَيْرٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ نُغَيْرُهُ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی ﷺ نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا کیا بات ہے ابوعمیر! غمگین دکھائی دے رہا ہے؟ گھر والوں نے بتایا کہ اس کی ایک چڑیا مرگئی جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، اس پر نبی ﷺ کہنے لگے اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی)