Musnad Imam Ahmad 12059

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

12059Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْخَزَّازَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَسْوَدَ كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ فَدُفِنَ لَيْلًا وَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ فَانْطَلَقُوا إِلَى قَبْرِهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَيْهِ قَالَ فَأَيْنَ قَبْرُهُ فَأَخْبَرَهُ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْأَنْصَارِيِّ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک حبشی مسجد کی صفائی کرتا تھا، ایک دن وہ فوت ہوگیا اور لوگوں نے راتوں رات اس کو دفن کردیا، نبی ﷺ کو پتہ چلا تو آپ ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا اس کی قبر پر چلو، چناچہ وہ اس کے قبر پر گئے، نبی ﷺ نے فرمایا ان قبروں میں رہنے والوں پر ظلمت چھائی ہوئی ہے، میری نماز کی برکت سے اللہ انہیں منور کر دے گا، چناچہ نبی ﷺ نے اس کی قبر پر جا کر نماز جنازہ پڑھی، اس پر ایک انصاری کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ! میرا بھائی فوت ہوا تھا لیکن آپ نے اس کی قبر پر نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کی قبر کہاں ہے؟ انصاری نے اس کی نشاندہی کی تو نبی ﷺ اس کے ساتھ بھی چلے گئے۔