Musnad Imam Ahmad 11213

حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات

11213Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ غُلَامًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ ذَاتَ يَوْمٍ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّى لَكَ هَذَا التَّمْرُ فَقَالَ هَذَا صَاعٌ اشْتَرَيْنَاهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ وَاشْتَرِ مِنْ أَيِّ تَمْرٍ شِئْتَ

حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں، نبی ﷺ کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں، نبی ﷺ نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔