Musnad Imam Ahmad 10863

حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات

10863Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى رَجُلٍ يَصْرِفُ رَاحِلَتَهُ فِي نَوَاحِي الْقَوْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ

حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنی سواری کو لوگوں کے آگے پیچھے چکر لگوا رہا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد سواری ہو، وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس ایک بھی سواری نہ ہو اور جس شخص کے پاس زائد ہو توشہ ہو، وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس بالکل ہی نہ ہو، حتیٰ کہ ہم سمجھنے لگے کہ کسی زائد چیز میں ہمارا کوئی حق ہی نہیں ہے۔