Musnad Imam Ahmad 10209

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

10209Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صَفِيَّةَ وَقَالَ يَعْقُوبُ صُبَيَّةَ وَهُوَ الصَّوَابُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ يَقُولُ قَائِلٌ أَلَا دَاعٍ يُجَابُ أَلَا سَائِلٌ يُعْطِيهِ أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔ کیونکہ تہائی یا نصف رات گذرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطاء کروں؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ اس کی پکار کو قبول کروں؟