سیدالمرسلین کے فضائل ومناقب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 177 · 56 hadiths · Page 3 of 3

5682Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ اور ختم نبوت :

وعن العرباض بن سارية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : إني عند الله مكتوب : خاتم النبيين وإن آدم لمنجدل في طينته وسأخبركم بأول أمري دعوة إبراهيم وبشارة عيسى ورؤيا أمي التي رأت حين وضعتني وقد خرج لها نور أضاء لها منه قصور الشام . وراه في شرح السنة

اور حضرت عرباض ابن ساریہ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اسی وقت سے خاتم النبین لکھا ہوا ہوں جب کہ آدم (علیہ السلام) اپنی گندھی ہوئی مٹی میں پڑے تھے۔ اور میں تمہیں بتاتا ہوں میرا پہلا امر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہے اور میری ماں کا خواب ہے جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا تھا، حقیقت یہ ہے کہ میری ماں کے سامنے ایک نور ظاہر ہوا تھا جس نے ان پر شام کے محلات کو روشن کردیا تھا۔ اس روایت کو بغوینے (اپنی اسناد کے ساتھ) شرح السنۃ میں نقل کیا ہے۔ نیز امام احمد نے بھی اس روایت کو ساخبرکم سے آخرتک ابوامامہ سے نقل کیا ہے تشریح وان ادم لمنجدل فی طینہ۔ میں لفظ طینہ کے معنی گوندھی ہوئی مٹی، کیچڑ اور گارے کے ہیں خلقت اور جبلت کو بھی طینت کہتے ہیں۔ حضور ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ میرا خاتم النبیین کی حیثیت سے اس دنیا میں مبعوث ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت لکھا جا چکا تھا جب آدم (علیہ السلام) آب وگل کے درمیان تھے اور نہ صرف یہ کہ ان کے پتلے میں جان نہیں پڑی تھی بلکہ ان کا پتلا بن کر تیار بھی نہیں ہوا تھا بن رہا تھا۔ اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق و پیدائش سے بھی پہلے متعین ومقرر ہوجانے سے کیا مراد ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر الہٰی میں ہونا مراد ہے تو یہ بات تمام ہی انبیاء کے متعلق کہی جاسکتی ہے، آنحضرت ﷺ کی تخصیص کے کیا معنی اور اگر آنحضرت ﷺ کی نبوت کا بالفعل ظاہر ہونا مراد ہے تو یہ خلاف واقعہ ہوگا، کیونکہ بالفعل کا تعلق اس دنیا سے ہے اور ظاہر ہے کہ اس دنیا میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کا کا اظہار حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق و پیدائش کے ہزاروں سال بعد ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل مراد آنحضرت ﷺ کی نبوت کا تمام فرشتوں اور روحوں میں ظاہر و متعارف کردیا جانا ہے، جیسا کہ ایک روایت میں آنحضرت ﷺ کے اسم شریف کا عرش، آسمان اور جنت کے محلات وبالاخانوں پر حورعین کے سینوں پر، جنت کے درختوں اور طوبی درخت کے پتوں پر اور فرشتوں کی آنکھوں اور بھوؤں پر لکھا ہونا منقول ہے۔ اور بعض عارفین نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روح مبارک عالم ارواح میں تمام روحوں کی تربیت و اصلاح کرتی تھی جیسا کہ اس دنیا میں تشریف لانے کے بعد آپ ﷺ کی ذات گرامی اس دنیا میں اجسام انسانی کی مربی ومصلح ہوئی اور یہ بات کسی شک وشبہ کے بغیر ثابت ہے کہ تمام روحیں اپنے اجسام سے بہت پہلے عالم وجود میں آچکی تھیں۔ میرا پہلا امر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہے۔۔۔۔۔۔ الخ۔ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے یہ واضح فرمایا کہ میرا خاتم النبیین ہونا نہ صرف یہ کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے وجود پذیر ہونے سے پہلے تجویز اور عالم بالا میں ظاہر ہوچکا تھا بلکہ اس دنیا میں بھی میری جسمانی پیدائش سے بہت پہلے مختلف انبیاء کے ذریعہ میری نبوت و رسالت اور میرے علو مرتبہ کا ظہور ہوچکا تھا اس کی دلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وہ دعا ہے جو انہوں نے میری رسالت کے متعلق خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت کی تھی اور جس کو قرآن کریم میں اس طرح نقل کیا گیا ہے ربنا وابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم ایتک ویعلمہم الکتب والحکمۃ ویزکیہم انک انت العزیزالحکیم۔ میرے پروردگار اور اس جماعت (اسمٰعیل کی اولاد) میں ان ہی کا ایک ایسا پیغمبر بھی مقرر کردیجئے جوان لوگوں کو آپ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیا کرے اور ان کو پاکیزہ کردیں بلاشبہ آپ ہی غالب القدرۃ اور کامل الانتظام ہیں۔ اسی طرح اس دنیا میں میری آمد سے کہیں پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے میری نبوت و رسالت کی خوشخبری دے دی تھی، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔ اور (اے بنی اسرائیل) میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں اور جن کا نام احمد ہوگا میں ان کی بشارت دینے والا ہوں۔ نیز میری پیدائش سے پہلے میری والدہ محترمہ کا بشارت انگیز خواب دیکھنا اور میری پیدائش کے وقت ان کے ساتھ حیرت ناک واقعات و حالات کا پیش آنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ میری نبوت و رسالت کانور، اس دنیا میں میرے مبعوث ہونے سے پہلے ہی پر تو فگن ہوچکا تھا۔ حدیث کے اس جملہ جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا تھا کے تحت طیبی وغیرہ شارحین نے لکھا ہے کہ ان الفاظ کی مراد خواب میں دیکھنا بھی ہوسکتا ہے اور حالت بیداری میں دیکھنا بھی، پہلی صورت میں پیدائش کے وقت سے کچھ پہلے عرصہ مراد ہوگا جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کے ہاں ولادت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے خواب میں دیکھا ایک فرشتہ آیا اور کہہ رہا ہے کہ کہو میں اس بچہ کو (جو میرے پیٹ سے پیدا ہونے والا ہے یعنی آنحضرت ﷺ ہر حسد کرنے والے کے شر سے خدائے واحد کی پناہ میں دیتی ہوں حضرت آمنہ نے اس سے پہلے استقرار حمل کے وقت بھی خواب میں دیکھا تھا کہ ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ کیا تم جانتی ہو تمہارے پیٹ میں اس امت کا سردار نبی ہے۔ دوسری صورت میں بحالت بیداری دیکھنا مرادہو، کہا جائے گا کہ انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا تھا۔ کا تعلق اس چیز کے دیکھنے سے ہے جس کا ذکر اس جملہ میں محذوف ہے، مگر آگے کی عبارت اس کی پوری وضاحت کرتی ہے اور بعض روایتوں میں بھی آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش کے وقت ایسا نور ظاہر ہوا کہ جس سے شام کے محلات تک روشن و نمایاں ہوگئے، اس کی حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ اس وقت دنیا میں اس ہستی کا ظہور ہوا ہے جس کی نبوت و رسالت کی روشنی مشرق سے لے کر مغرب تک پوری روئے زمین کو منور کردے گی اور کفروضلالت کا اندھیرا ہلکا پڑجائے گا۔

5683Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے خصائص :

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا سيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر وبيدي لواء الحمد ولا فخر . وما من نبي يومئذ آدم فمن سواه إلا تحت لوائي وأنا أول من تنشق عنه الأرض ولا فخر . رواه الترمذي

اور حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میں تمام بنی آدم کا سردار بنوں گا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا (قیامت کے دن مقام محمود میں) حمد کا نیزہ میرے ہاتھ میں ہوگا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا، اس دن کوئی بھی نبی خواہ وہ آدم ہوں، یہ کوئی اور، ایسا نہیں ہوگا جو میرے نیزے کے نیچے نہیں آئے گا۔ اور (قیامت کے دن) سب سے پہلے میں زمین پھٹ کر اٹھوں گا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا۔ (ترمذی) تشریح اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا۔ سے آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ میرا یہ کہنا شیخی مارنے، اترانے اور خواہ مخواہ کی بڑائی جتانے کے طور پر نہیں ہے بلکہ پروردگار نے اس فضل و برتری کی جو نعمت مجھے عطا فرمائی ہے اس کا اقرار و اظہار کرنے، اس نعمت پر شکر ادا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم واما بنعمۃ ربک فحدث کی بجا آوری کے لئے ہے، علاوہ ازیں میں اس بات اظہار و اعلان اس لئے بھی کررہا ہوں تاکہ لوگ میری قدرومنزلت اور میری حیثیت و عظمت کو جانیں اس پر اعتقاد رکھیں اور اس کے مطابق میری تو قیر و تعظیم اور میری محبت کے ذریعہ ایمان کو مضبوط بنائیں۔ لوائ کے معنی جھنڈے اور پرچم کے ہیں لیکن نیزہ کو بھی کہتے ہیں حمد کا نیزہ میرے ہاتھ میں ہوگا سے مراد قیامت کے دن آنحضرت ﷺ کا اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا میں نام آور ہونا ہے، اگر ترجمہ یوں کیا جائے کہ حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہوگا تو اس کی مراد بھی یہی ہوگی کیونکہ جس طرح اہل عرب کسی معاملہ میں اپنی شہرت وناموری کے اظہار کے لئے نیزہ کھڑا کردیا کرتے تھے اسی طرح پرچم بھی عظمت و بلندی اور ناموری کے اظہار کی علامت سمجھا جاتا ہے مطلب یہ کہ اس دن جب یہ نیزہ یا جھنڈہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں آئے گا تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا دل ایسا کھول دے گا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کو وہ تعریف کریں گے جو کوئی دوسرا نہ کرسکے گا واضح رہے کہ آپ کی امت حمادین کہلاتی ہے یعنی ایسے لوگ جو ہر حالت میں، خواہ خوشی کا موقع ہو یا غمی کا، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرتے ہیں قیامت کے دن آپ ﷺ کی ذات حامد بھی ہوگی اور محمود بھی اور آپ اللہ تعالیٰ کے حمد کے ذریعہ ہی شفاعت کا دروازہ کھلوائیں گے جیسا کہ اس دنیا میں بادشاہوں اور سرابر اہان مملکت کی عظمت و شوکت کے اظہار اور ان کی حیثیت کو ممتاز کرنے کے لئے ان کا اپنا الگ پرچم نصب ہوگا۔

5684Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ اللہ کے حبیب ہیں :

وعن ابن عباس قال : جلس ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فخرج حتى إذا دنا منهم سمعهم يتذاكرون قال بعضهم : إن الله اتخذ إبراهيم خليلا وقال آخر : موسى كلمه الله تكليما وقال آخر : فعيسى كلمة الله وروحه . وقال آخر : آدم اصطفاه الله فخرج عليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : قد سمعت كلامكم وعجبكم إن إبراهيم خليل الله وهو كذلك وآدم اصطفاه الله وهو كذلك ألا وأنا حبيب الله ولا فخر وأنا حامل لواء الحمد يوم القيامة تحته آدم فمن دونه ولا فخر وأنا أول شافع وأول مشفع يوم القيامة ولا فخر وأنا أول من يحرك حلق الجنة فيفتح الله لي فيدخلنيها ومعي فقراء المؤمنين ولا فخر وأنا أكرم الأولين والآخرين على الله ولا فخر . رواه الترمذي والدارمي

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کے کچھ صحابی (مسجد نبوی میں) بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ آنحضرت ﷺ اپنے حجرہ مبارکہ سے نکلے اور جب ان کے قریب پہنچے تو ان کی باتیں کان میں پڑیں آپ ﷺ نے ایک صحابی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل قرار دیا دوسرے صحابی نے کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے شرف تکلم سے نوازا، ایک اور صحابی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں (یعنی وہ نظام قدرت کے مروجہ اسباب و ذرائع کے بغیر محض اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے شیرخواری کے زمانہ میں پالنے میں لوگوں سے باتیں کیں اور اللہ تعالیٰ نے روح الامین کو ان کی ماں کے پاس بھیجا جس نے پھونک ماری اور اس کے نتیجہ میں ان کی پیدائش ہوئی، اس کے علاوہ ان کی روحانیت کے امور بہت سے آثار وکرشمے ظاہر ہوئے یہاں تک کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتے تھے) ایک صحابی نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو برگزیدہ کیا (یعنی انسان اول ہونے کے لئے انہیں کا انتخاب کیا ان کو تمام چیزوں کے نام سکھائے اور ان کے سامنے فرشتوں سے سجدہ کرایا) بہرحال (صحابہ اپنی باتوں کے دوران نبیوں کے خصوصی اوصاف تعجب کے ساتھ ذکر کر رہے تھے کہ) رسول کریم ﷺ ان کی مجلس تک پہنچ گئے اور فرمایا کہ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں، تمہیں تعجب ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے خلیل یعنی دوست ہیں تو بیشک ان کی یہی شان ہے ( تمہیں تعجب ہے کہ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں تو بیشک ان کی بھی شان ہے، (تمہیں تعجب ہے کہ) حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے برگزیدہ کیا، تو بیشک ایسا ہی ہے اور ان کی یہی شان ہے۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہے کہ میں اللہ کا حبیب ہوں اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا، قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والا میں ہوں گا، سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا، جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والوں میں سب سے پہلا شخص میں ہی ہوں گا چناچہ اللہ تعالیٰ (فرشتوں کو حکم کے ذریعہ) جنت کا دروازہ میرے لئے کھول دے گا اور (سب سے پہلے) مجھے جنت میں داخل کرے گا اس وقت میرے ساتھ مؤمن فقراء ہوں گے اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا اور بلاشبہ تمام اگلے پچھلوں (خواہ وہ انبیاء ہوں یا دوسرے لوگ) سب ہی سے افضل واکرم ہوں اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا۔ (ترمذی) تشریح میں اللہ کا حبیب ہوں کے ضمن میں بعض شارحین نے تو یہ لکھا ہے کہ خلیل اور حبیب کے معنی دوست کے ہیں، لیکن حبیب اس دوست کو کہتے ہیں جو مجبوبیت کے مقام کو پہنچا ہوا ہو جب کہ خلیل مطلق دوست کو کہتے ہیں۔ اور ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ خلیل وہ دوست ہے جس کی دوستی کسی حاجت اور غرض کے تحت ہو جبکہ حبیب وہ دوست ہے جو اپنی دوستی میں بالکل بےلوث اور بےغرض ہو۔ واضح رہے کہ یوں تو تمام ہی انبیاء و رسول بلکہ تمام ہی اہل ایمان بارگاہ رب العزت کے دوست اور محبوب ہیں، لیکن دوستی اور محبوبیت کے بھی چونکہ مختلف درجات و مراتب ہوتے ہیں اس لئے یہاں گفتگو دوستی و محبوبیت کے اس درجہ و مرتبہ کے بارے میں ہے جو سب سے اعلی اور سب سے بہتر ہیں رہی یہ بات کہ بار گاہ رب العزت میں دوستی و محبوبیت کا سب سے بلندو برتر درجہ آنحضرت ﷺ کو حاصل ہے، تو اس کی سب سے بڑی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے (قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ) 3۔ ال عمران 31) (اے محمد) کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تم سے دوستی رکھے گا۔ اس وقت میرے ساتھ مؤمن فقراء ہونگے، کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ داخل ہوں گے اور پھر اہل ایمان میں سے جو طبقہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا وہ مہاجر و انصار صحابہ میں سے وہ حضرات ہوں گے جو مفلس وبے مایہ تھے اور جو اپنے اپنے درجات و مراتب کے اعتبار سے آگے پیچھے جنت میں جائیں گے، جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت کے فقراء اغنیاء سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صبر و استقامت کی راہ اختیار کرنے والا فقیر (بھکاری نہیں) شکر گذار غنی سے بہتر ہے اور صوفیاء کے نزدیک فاقہ و احتیاج کا نام فقر نہیں بلکہ ان کے ہاں صرف اللہ تعالیٰ کا محتاج ہونے اور اللہ تعالیٰ سے بھی اس کی رضا و خوشنودی کے علاوہ اور کچھ نہ مانگنے کا نام فقر ہے امام ثوری نے کہا ہے کہ فقر یہ ہے کہ مال و اسباب نہ ہونے پر تسکین خاطر حاصل ہو اور مال میسر ہو تو اس کو خرچ کیا جائے آنحضرت ﷺ نے نفس کے فقر سے پناہ مانگی ہے اور غنائے نفس کی تعریف فرمائی ہے حاصل یہ کہ اصل چیز اللہ تعالیٰ رضا و خوشنودی ہے جو بھی حالت، خواہ وہ فقر ہو یا غنا اس چیز کے حصول سے باز رکھے وہ بری ہے تاہم عام طور پر غنا یعنی دولت مندی کی حالت انسان کو برائیوں میں مبتلا کرتی ہے جب کہ فقر کی حالت بہت سی برائیوں میں مبتلا ہونے سے باز رکھتی ہے، اس لئے حق تعالیٰ نے زیادہ تر انبیاء اور اولیاء کو فقر کی حالت میں رکھا اور ان کا فقر، ان کے ان کے مراتب و درجات میں بلندی کا باعث بنا، ایک دلیل یہ ہے کہ جب فقیر کافر کو دوزخ میں غنی کافر سے ہلکا عذاب ہوگا تو پھر کیسے ممکن ہے کہ وہی فقر مؤمن کو جنت میں فائدہ نہیں پہنچائے گا۔

5685Mishkaat-al-Masabih

امت محمدی کی خصوصیت :

وعن عمرو بن قيس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : نحن الآخرون ونحن السابقون يوم القيامة وإني قائل قولا غير فخر : إبراهيم خليل الله وموسى صفي الله وأنا حبييب الله ومعي لواء الحمد يوم القيامة وإن الله وعدني في أمتي وأجارهم من ثلاث : لا يعمهم بسنة ولا يستأصلهم عدو ولا يجمعهم على ضلالة . رواه الدارمي

اور حضرت عمرو بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (دنیا میں ظہور وجود کے اعتبار سے) ہم آخر میں ہیں لیکن قیامت کے دن ( جنت میں داخل ہونے اور اعلیٰ مراتب و درجات کے اعتبار سے) ہم اول ہوں گے اور میں تم سے ایک بات کہتا ہوں اور اس بات کے کہنے سے اظہار فخر مقصود نہیں ہے ( بلکہ ایک حقیقت کا اظہار مقصود ہے اور وہ یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو اللہ کے خلیل ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ ہیں اور میں اللہ کا حبیب ہوں کہ دنیا وآخرت میں میری حیثیت محب کی بھی ہے اور محبوب کی بھی) اور قیامت کے دن ( مقام محمود میں) حمد کا پرچم میرے پاس ہوگا ( جو میرے احمد اور محمد ہونے کی علامت ہوگا) نیز اللہ تعالیٰ نے میری امت کو (خیر کثیر عطا کرنے کا اور تین چیزوں سے بچانے کا وعدہ کیا ہے ایک تو یہ کہ وہ مسلمانوں کو عام قحط میں ہلاک نہیں کرے گا دوسرے یہ کہ کوئی دشمن ان کا استیصال نہ کرسکے گا یعنی دشمنان اسلام سارے مسلمانوں کو نیست ونابود نہ کرسکیں گے اور تیسرے یہ کہ تمام مسلمان کسی گمراہی پر اتفاق نہیں کریں گے یعنی یہ ممکن نہیں ہوگا کہ ساری اسلامی دنیا کسی ایسی بات پر اتفاق کرلے جو گمراہی کا باعث ہو۔ (دارمی )

5686Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ قائد المرسلین علیہم السلام اور خاتم النبیین ہیں :

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أنا قائد المرسلين ولا فخر وأنا خاتم النبيين ولا فخر وأنا أول شافع ومشفع ولا فخر . رواه الدارمي

اور حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) میں تمام نبیوں اور رسولوں کا قائد ہوں گا (کہ تمام نبی و رسول میدان حشر میں آنے کے لئے میرے پیچھے آئیں گے اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا میں انبیاء (علیہم السلام) کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں یعنی نبوت مجھ پر ختم ہوگئی ہے اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا، شفاعت کرنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول ہوگی اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا۔ (دارمی)

5687Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن آنحضرت ﷺ کی عظمت وبرتری :

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا أول الناس خروجا إذا بعثوا وأنا قائدهم إذا وفدوا وأنا خطيبهم إذا أنصتوا وأنا مستشفعهم إذا حبسوا وأنا مبشرهم إذا أيسوا الكرامة والمفاتيح يومئذ بيدي ولواء الحمد يومئذ بيدي وأنا أكرم ولد آدم على ربي يطوف علي ألف خادم كأنهن بيض مكنون أو لؤلؤ منثور . رواه الترمذي والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث غريب

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) جب لوگوں کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا تو سب سے پہلے قبر میں سے میں نکلوں گا جب لوگ بار گاہ الٰہی میں پیش ہوں گے تو ان کی قیادت میں کروں گا، جب تمام لوگ خاموش ہوں گے تو میری زبان سب کی ترجمانی کرے گی اور جب لوگوں کو موقف میں روک دیا جائے گا تو ان کی خلاصی کے لئے شفاعت وشفارش میں کروں گا، جب لوگوں پر نا امیدی اور مایوسی چھائی ہوگی تو (اہل ایمان کو) مغفرت ورحمت کی بشارت دینے والا میں ہوں گا، اس (قیامت کے) دن شرف و کر امت اور جنت کی کنجیاں میرے ہاتھ میں (یعنی میرے تصرف) میں ہوں گی، اس دن حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہوگا، اس دن پروردگار کے نزدیک آدم کے بیٹوں میں سب سے بزرگ و اشرف میری ہی ذات ہوگی، میرے آگے پیچھے ہزاروں خادم پھرتے ہوں گے جیسے وہ چھپے ہوئے انڈے یا بکھرے موتی ہیں، اس روایت کو ترمذی ودارمی نے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح جب تمام لوگ خاموش ہوں گے۔۔۔۔۔۔ الخ۔ میں اس طرف اشارہ ہے کہ جب میدان حشر میں عام دہشت وہولنا کی چھائی ہوگی، ہر شخص متحیروسراسیمہ ہوگا کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوگی کہ اپنی زبان سے دو لفظ ادا کرسکے اور کوئی عذر و درخواست پیش کرے تو اس وقت سردار دو عالم ﷺ ہی کی ذات گرامی آگے آئے گی آپ ﷺ سب کی طرف سے عذر و معذرت بیان کریں گے شفاعت کی درخواست پیش فرمائیں گے اور اس وقت جب کہ عام لوگ تو درکنار بڑے بڑے انبیاء کو بولنے کی مجال نہیں ہوگی، آپ ﷺ بارگاہ رب العزت میں گویا ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف وثنا بیان فرمائیں گے جو اس کی شان کے لائق ہوگی اور اس طرح اس وقت آنحضرت ﷺ کے علاوہ اور کسی کو بولنے اور کچھ کہنے کی اجازت نہیں ہوگی پس قرآن کریم میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ہذا یوم لاینطقون ولا یؤذن لہم فیعتذورن۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں وہ لوگ نہ بول سکیں گے اور نہ ان کو (عذر کی) اجازت ہوگی، تو آنحضرت ﷺ کی ذات اس سے مستثنیٰ ہے کہ آپ ﷺ کے علاوہ اور کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہوگی، یا یہ کہ اس آیت میں ابتدائی مرحلہ کا ذکر ہے کہ شروع میں کسی کو بھی بولنے کی اجازت نہیں ہوگی مگر بعد میں آنحضرت ﷺ کو اجازت عطا فرمائی جائے گی اور یا یہ کہ اس آیت کا تعلق صرف اہل کفر سے ہے۔ جب لوگوں پر نا امیدی ومایوسی چھائی ہوگی۔ کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو لوگوں پر سخت خوف و دہشت طاری ہوگی اور دوسری طرف وہ ایک ایک کرکے تمام ہی بڑے بڑے انبیاء سے شفاعت و سفارش کی درخواست کریں گے اور کوئی نبی ان کی طرف سے بولنے اور شفاعت کرنے کی جرأت نہ کرسکے گا، تو ان پر رحمت و مغفرت کی طرف سے نا امیدی چھاجائے گی تب آنحضرت ﷺ بار گاہ رب العزت میں ان کی شفاعت کریں گے اور ان کی مایوسی ونا امیدی کو ختم فرمائیں گے۔ چھپے ہوئے انڈوں سے مراد شترمرغ کے انڈے ہیں، آپ ﷺ نے غلاموں، خادموں اور حوروں کو شترمرغ کے انڈوں سے اس لئے تشبیہ دی کہ وہ (انڈے) گرد و غبار وغیرہ سے محفوظ ہونے کی وجہ سے صفائی ستھرائی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، ان کا رنگ بھی ایسا سفید ہونے کی وجہ سے کہ جس میں کچھ زردی کی آمیزش ہو بہت پیارا مانا جاتا ہے اور مجمع البحار میں لکھا ہے کہ (چھپے ہوئے انڈوں سے) مراد سیپ کے موتی ہیں، جو لوگوں کے ہاتھوں اور نظروں سے بچے رہنے کی وجہ سے بڑی آب وتاب رکھتے ہیں۔ حاصل یہ کہ اس دن آنحضرت ﷺ کے آگے پیچھے دائیں بائیں جو خادم ہوں گے وہ صفائی ستھرائی، رنگ وروپ اور بالکل نئے نویلے ہونے کی وجہ سے نہایت بھلے معلوم ہونگے۔ یابکھرے ہوئے موتی ہوں۔ میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح آب وتاب رکھنے والے موتی، کسی لڑی میں پروئے ہوئے ہونے کی بہ نسبت یونہی بکھرے ہوئے زیادہ خوبصورت اور چمکدار لگتے ہیں اس طرح وہ خادم بھی آپ ﷺ کے چاروں طرف ادھر ادھر بکھرے ہوئے اور خدمت میں لگے ہوئے بہت زیادہ خوبصورت اور دلکش معلوم ہوں گے۔

5688Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ عرش الہٰی کے دائیں جانب کھڑے ہوں گے۔ :

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : فأكسى حلة من حلل الجنة ثم أقوم عن يمين العرش ليس أحد من الخلائق يقوم ذلك المقام غيري . رواه الترمذي . وفي رواية جامع الأصول عنه : أنا أول من تنشق عنه الأرض فأكسى

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہناجائے گا اور پھر میں عرش کے دائیں جانب کھڑا ہوں گا، جہاں میرے سوا مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہوگا۔ اور جامع الاصول کی روایت میں، جو حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے منقول ہے، یوں ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی اور میں باہر آؤں گا، پھر جنتی جوڑا پہنایا جائے گا الخ۔

5689Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے لئے |" وسیلہ |" طلب کرو

وعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : سلوا الله الوسيلة قالوا : يا رسول الله وما الوسيلة ؟ قال : أعلى درجة في الجنة لا ينالها إلا رجل واحد وأرجو أن أكون أنا هو . رواه الترمذي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ( مسلمانو! ) میرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ مانگا کرو صحابہ کرام نے ( یہ سن کر) عرض کیا کہ یا رسول ﷺ یہ وسیلہ کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جنت کے سب سے بڑے درجہ کا نام ہے جو صرف ایک شخص کو ملے گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ شخص میں ہوں۔ (ترمذی ( تشریح آنحضرت ﷺ کا امت کے لوگوں سے اپنے لئے وسیلہ منگوانا اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی بیچارگی کے اظہار کے لئے اور کسر نفسی کے طور پر ہے یا یہ مقصد ہے کہ میری امت کے لوگ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ کی درخواست کیا کریں گے۔ تو اس کی وجہ سے ان لوگوں کو فائدہ ہوگا اور ثواب پائیں گے اور یا یہ کہ اس حکم کے ذریعہ آپ ﷺ نے امت کے لوگوں کو باہمی الفت تعلق کے اظہار کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر عزیز اور ہر دوست کی ترقی درجات اور بلندی و مراتب کی دعا کیا کرے۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ شخص میں ہوں آپ ﷺ نے یہ بات بھی اظہار تواضع و انکساری اور بار گاہ رب العزت میں پاس ادب کی بنا پر فرمائی ورنہ یہ طے شدہ ہے کہ جنت کا وہ سب سے بڑا درجہ جس کو وسیلہ سے تعبیر کیا گیا ہے صرف آپ ﷺ ہی کو ملے گا۔

5690Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ تمام انبیاء علیہم السلام کے امام ہوں گے :

وعن أبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا كان يوم القيامة كنت إمام النبيين وخطيبهم وصاحب شفاعتهم غير فخر . رواه الترمذي

اور حضرت ابی ابن کعب ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو میں ( مقام محمود میں کھڑا ہونگا اور) تمام انبیاء کا امام و پیشوا بنوں گا (جب ان میں کوئی بھی بولنے پر قادر نہیں ہوگا تو میں ان کی ترجمانی کروں گا اور سب کی شفاعت وشفارش کروں گا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا۔ (ترمذی)

5691Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ :

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لكل نبي ولاة من النبيين وإن وليي أبي وخليل ربي ثم قرأ : [ إن أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين ] . رواه الترمذي

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر پیغمبر کے پیغمبروں سے ایک ایک رفیق اور ولی ہیں پس پیغمبروں میں جو پیغمبر میرے رفیق اور ولی ہیں وہ میرے باپ اور پروردگار کے خلیل حضرت ابر اہیم (علیہ السلام) ہیں۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے (اپنے اس قول کی دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھی (اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ وَھٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 3۔ ال عمران 68) ترجمہ بلاشبہ سب آدمیوں میں زیادہ خصوصیت رکھنے والے (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ البتہ وہ لوگ تھے جہنوں نے (ان کے زمانہ میں) ان کا اتباع کیا تھا اور یہ نبی ( محمد ﷺ ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ حامی و کارساز ہیں ایمان والوں کے۔ (ترمذی)

5692Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی بعثت کا مقصد :

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قا ل : إن الله بعثني لتمام مكارم الأخلاق وكمال محاسن الأفعال . رواه في شرح السنة

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں اور اچھے کاموں کو پورا کروں۔ (شرح السنۃ) تشریح مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا پیغمبر اور رسول بنا کر اس مقصد سے بھیجا ہے کہ میں مخلوق اللہ کی ہدایت کروں اور ان کو ظاہری اخلاق و معاملات اور عادات واطوار کے اعتبار سے بھی اور باطنی احوال و سیرت کے اعتبار سے بھی درجہ کمال پر پہنچادوں۔

5693Mishkaat-al-Masabih

تورات میں آنحضرت ﷺ اور امت محمدی ﷺ کے اوصاف کا ذکر :

وعن كعب يحكي عن التوراة قال : نجد مكتوبا محمد رسول الله عبدي المختار لا فظ ولا غليظ ولا سخاب في الأسواق ولا يجزي بالسيئة السيئة ولكن يعفو ويغفر مولده بمكة وهجرته بطيبة وملكه بالشام وأمته الحمادون يحمدون الله في السراء والضراء يحمدون الله في كل منزلة ويكبرونه على كل شرف رعاة للشمس يصلون الصلاة إذا جاء وقتها يتأزرون على أنصافهم ويتوضؤون على أطرافهم مناديهم ينادي في جو السماء صفهم في القتال وصفهم في الصلاة سواء لهم بالليل دوي كدوي النحل . هذا لفظ المصابيح وروي الدارمي مع تغيير يسير

اور حضرت کعب احبار (رح) (جو ایک جلیل القدر تابعی ہیں اور مسلمان ہونے سے پہلے زبردست یہودی عالم تھے) تورات کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے (تورات میں) یہ لکھا ہوا پایا ہے محمد ﷺ اللہ کے رسول اور اس کے برگزیدہ بندے ہونگے وہ نہ درشت خو ہونگے اور نہ سخت گونہ بازاروں میں شور مچاتے ہوں گے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے لینے والے بلکہ معاف کردینے والے اور بخش دینے والے ہوں گے۔ ان کی پیدائش کی جگہ مکہ ہوگی، ان کی ہجرت کی جگہ طیبہ (مدینہ) ہوگی اور ان کی حکومت کی جگہ ملک شام ہوگی، ان کی امت اللہ کی بہت زیادہ حمد و تعریف اور شکر کرنے والی ہوگی جو ہر حالت میں کیا غمی، کیا خوشی اور کیا فراخی، کیا تنگی، اللہ کی حمد وثنا اور شکر کرے گی، وہ لوگ جہاں بھی اتریں گے یا ٹھہریں گے، اللہ کا شکر بجا لائیں گے اور جہاں بھی چڑھیں گے اللہ کی بڑائی بیان کریں گے (یعنی جب اونچی جگہ پر چڑھیں گے تو اللہ اکبر کہیں گے) اور سورج کا لحاظ رکھا کریں گے، جب نماز کا وقت ہوگا نماز پڑھیں گے، اپنی کمر پر (یعنی ناف کے اوپر ازار باندھیں گے یعنی ستر پوشی کا بہت زیادہ خیال رکھیں گے) جسم کے اعضاء پر وضو کریں گے (یعنی ہاتھ پاؤں اور منہ دھوئیں گے اور پورا وضو کریں گے، ان کا منادی کرنے والا زمین و آسمان کے درمیان منادی کرے گا (یعنی مؤذن کسی بلند جگہ جیسے منارہ وغیرہ پر کھڑا ہو کر اذان دیا کرے گا) جنگ میں اور نماز میں ان کی صف یکساں ہوگی یعنی دشمنان اسلام کے خلاف میدان جنگ میں بھی صف بندی کے اصول وقواعد کی پابندی کریں گے اور بجماعت نماز ادا کرنے کے لئے بھی اپنی صفیں استوار کرے گے رات میں اپنے نفس اور شیطان کی سرکوبی کے لئے عبادت کے وقت ان کی آواز پست ہوگی یعنی تسبیح وتہلیل اور ذکر و تلاوت ہلکی آواز سے کیا کریں گے جیسے شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے مصابیح نے اس روایت کو ان ہی الفاظ کے ساتھ اور دارمی نے تھوڑے سے تغیر کے ساتھ نقل کیا ہے۔ تشریح ان کی حکومت کی جگہ ملک شام ہوگی میں حکومت سے مراد دین ونبوت کے ثمرات وآثار کا ظاہر ہونا اور جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ اللہ کا پرچم بلند ہونا ہے چناچہ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کی دعوت اسی ملک میں سب سے زیادہ پھیلی اور مسلمانوں کو جہاد بھی اسی علاقہ میں زیادہ کرنا پڑا ورنہ جہاں تک آنحضرت ﷺ کی دینی و دنیاوی حکومت کا تعلق ہے اس کا دائرہ اثر کسی خاص ملک یا علاقہ تک محدود نہیں ہے بلکہ کسی نہ کسی حیثیت میں پورے عالم تک پھیلا ہوا ہے یا اس جملہ کی یہ مراد ہے کہ آنحضرت ﷺ کا پایہ تخت آپ ﷺ کی حیات اور خلفاء راشدین کے زمانہ کے بعد ملک شام کو منتقل ہوجائے گا، چناچہ تاریخی طور پر ایسا ہی ہوا کہ حضرت معاویہ ؓ اور امیہ کے زمانہ میں مسلمانوں کا دارالخلافہ ملک شام میں رہا۔ سورج کا لحاظ رکھا کریں گے۔ کہ ذریعہ نماز روزے اور دیگر عبادت کے ایام واوقات کی پابندی و رعایت کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان سورج کے طلوع و غروب اور زوال کے اعتبار سے اپنی نماز و عبادت کے اوقات کا دھیان رکھیں گے اور جو وقت جس عبادت کا متعین ہوگا اس میں اس عبادت کا اہتمام کریں گے۔ ایک روایت میں، جس کو حاکم نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے مرفوعاً نقل کیا ہے فرمایا گیا ہے بلاشبہ اللہ کے بندوں میں بہتر لوگ وہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے (اوقات کے تعین کی خاطر) سورج چاند ستاروں اور سایوں کا دھیان رکھتے ہیں۔

5694Mishkaat-al-Masabih

تورات میں آنحضرت ﷺ اور امت محمدی ﷺ کے اوصاف کا ذکر :

عن عبد الله بن سلام قال : مكتوب في التوراة صفة محمد وعيسى بن مريم يدفن معه قال أبو مودود : وقد بقي في البيت موضع قبره رواه الترمذي

اور حضرت عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کے اوصاف کا ذکر ہے اور یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے حجرہ اقدس میں جمع کئے جائیں گئے۔ حضرت ابومودود (رح) جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کا بیان ہے کہ (حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے) حجرہ مبارک میں (جہاں آنحضرت ﷺ زیر زمین آرام فرما ہیں) ایک قبر کی جگہ باقی ہے (ترمذی) تشریح حجرہ مبارک میں جہاں آنحضرت ﷺ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ مدفون ہیں، تینوں قبروں کی ترتیب اس طرح ہے کہ سب سے آگے قبلہ کی جانب سرکار دو عالم ﷺ کی قبر مبارک ہے اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی قبر اس طرح ہے کہ جہاں آنحضرت ﷺ کا سینہ مبارک ہے وہاں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا سر ہے، حضرت ابوبکر ؓ کی قبر کے بعد حضرت عمر ؓ کی قبر اس طرح ہے کہ جہاں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا سینہ مبارک ہے وہاں حضرت عمر ؓ کا سر ہے اور حضرت عمر ؓ کے پہلو میں ایک قبر کی جگہ خالی ہے اس جگہ میں متعدد صحابہ نے دفن ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن خواہش وقصد کے باوجود کسی کو وہاں دفن ہونا نصیب نہ ہوا، اس سے معلوم ہوا کہ قدرت کی حکمت اس جگہ کو خالی رکھنے ہی میں تھی تاکہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اسی جگہ دفن کئے جائیں۔ چناچہ ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) (اس دنیا میں اپنی عمر کے آخری حصہ میں پہنچیں گے تو حج بیت اللہ کے لئے مکہ معظمہ تشریف لے جائیں گے وہاں سے واپس آرہے ہوں گے کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان انتقال فرما جائیں گے اور ان کی نعش مبارک مدینہ منورہ لائی جائے گی جہاں روضہ اقدس نبوی میں حضرت عمر ؓ کے پہلو میں دفن کئے جائیں گے۔ اس طرح یہ دونوں صحابی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ دونبیوں کے درمیان تاقیامت آرام فرما رہینگے۔

5695Mishkaat-al-Masabih

انبیاء پر اور آسمان والوں پر آنحضرت کی فضیلت

عن ابن عباس قال : إن الله تعالى فضل محمدا صلى الله عليه و سلم على الأنبياء وعلى أهل السماء فقالوا يا أبا عباس بم فضله الله على أهل السماء ؟ قال : إن الله تعالى قال لأهل السماء [ ومن يقل منهم إني إله من دونه فذلك نجزيه جهنم كذلك نجزي الظالمين ] وقال الله تعالى لمحمد صلى الله عليه و سلم : [ إنا فتحنا لك فتحا مبينا ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر ] قالوا : وما فضله على الأنبياء ؟ قال : قال الله تعالى : [ وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومه ليبين لهم فيضل الله من يشاء ] الآية وقال الله تعالى لمحمد صلى الله عليه و سلم : [ وما أرسلناك إلا كافة للناس ] فأرسله إلى الجن والإنس

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ( ایک دن اپنی مجلس میں فرمایا) اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام انبیاء (علیہم السلام) اور اہل آسمان (فرشوں) پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ حاضرین مجلس نے (یہ سن کر) سوال کیا کہ اے ابوعباس ؓ اہل آسمان پر آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کس طور پر فضیلت دی ہے؟ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اللہ تعالیٰ نے اہل آسمان سے تو یوں خطاب فرمایا۔ (گویا اس خطاب میں نہ صرف یہ کہ نہایت سخت انداز اور رعب ودبدبہ کا اظہار کیا بلکہ سخت عذاب کی دھمکی بھی دی گئی جب کہ آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا گیا تو بڑی ملائمت، مہربانی اور کرم و عنایت کا انداز اختیار فرمایا گیا چنانچہ) محمد ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا (اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْ بِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ) 48۔ الفتح 2-1) (اے محمد ﷺ ہم نے تمہارے لئے عظمتوں اور برکتوں کے دروازے پوری طرح کھول دیئے ہیں (جیسا کہ مکہ کا فتح ہونا) اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ نے تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے ہیں لوگوں نے عرض کیا کہ (اچھا یہ بتائے) تمام انبیاء پر آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کس طور پر فضیلت دی ہے؟ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء کی نسبت یوں فرمایا (وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِه لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَا ءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) 14۔ ابراہیم 4) ہم نے ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ قوم کے سامنے اللہ کے احکام و قوانین بیان کرے اور اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے الخ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے بارے میں یہ فرمایا (وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَا فَّةً لِّلنَّاسِ ) 34۔ سبأ 28) یعنی اے محمد ﷺ ہم نے آپ ﷺ کو تمام لوگوں کے لئے رسول بنا کربھیجا۔ تشریح اللہ نے تمہارے تمام اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے ہیں۔ اس آیت کے متعلق سوال اٹھتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ معصوم ہیں آپ ﷺ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی کوئی گناہ آپ ﷺ سے سرزد ہوا تو پھر یہ کہنے کے کیا معنی کہ آپ ﷺ کے تمام اگلے پچھلے گناہ بخش دئے گئے؟ چناچہ مفسرین اور شارحین اس آیت کی مختلف تاویلیں اور توج ہیں کرتے ہیں، ان میں سے سب سے بہتر تاویل یہ سمجھی جاتی ہے کہ آیت قرآنی کا یہ فقرہ اپنے اصل لفظی معنی پر محمول نہیں ہے بلکہ اس سے محض آنحضرت ﷺ کے تئیں کمال عنایت و مہربانی اور آپ ﷺ کی امتیازی خصوصیت و عظمت کا اظہار مقصود ہے اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جب کوئی آقا اپنے کسی غلام کی تابعداری سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے اور اس کے تئیں کمال رضا و خوشنودی کو ظاہر کرنا چاہتا ہے تو اس سے یہ کہتا ہے کہ جا میں نے تجھے بالکل معافی دے دی، تیری ساری خطائیں معاف تجھ پر کوئی داروگیر نہیں، چاہے اس غلام سے کبھی بھی کوئی خطا سرزد نہ ہوئی ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جن وانساں دونوں کا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ کے ذریعہ حضرت ابن عباس ؓ نے الفاظ قرآنی کافۃ للناس کی وضاحت فرمائی اگرچہ یہاں صرف انسان کا ذکر ہے اور وہ بھی اس بنا پر کہ اشرف المخلوقات انسان ہی ہے لیکن مراد جن و انسان دونوں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو انسانوں کی طرف بھی مبعوث فرمایا ہے اور جنات کی طرف بھی، اس کی دلیل متعدد آیات قرآنی اور احادیث نبوی ﷺ میں موجود ہے! اس آیت کا اصل مقصد اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کسی خاص علاقہ یا انسانوں کے کسی خاص طبقہ کے لئے نہیں بلکہ آپ کی بعثت تمام نوع انسانی کی طرف ہوئی ہے اور اس حقیقت کی وضاحت بھی اس لئے کی گئی ہے تاکہ ان اہل کتاب کی تردید ہوجائے جو کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ کی رسالت تو صرف عرت والوں کے لئے ہے۔

5696Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نے اپنی نبوت کو کیسے جانا :

وعن أبي ذر الغفاري قال : قلت : يا رسول الله كيف علمت أنك نبي حتى استيقنت ؟ فقال : يا أبا ذر أتاني ملكان وأنا ب بعض بطحاء مكة فوقع أحدهما على الأرض وكان الآخر بين السماء والأرض فقال أحدهما لصاحبه : أهو هو ؟ قال : نعم . قال : فزنه برجل فوزنت به فوزنته ثم قال : زنه بعشرة فوزنت بهم فرجحتهم ثم قال : زنه بمائة فوزنت بهم فرجحتهم كأني أنظر إليهم ينتثرون علي من خفة الميزان . قال : فقال أحدهما لصاحبه : لو وزنته بأمته لرجحها . رواهما الدارمي

اور حضرت ابوذر غفاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے (ایک دن) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے کیسے جانا کہ آپ ﷺ نبی ہیں اور پھر آپ ﷺ کو اپنی نبوت کا یقین کیونکر ہوا؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ابوذر میں بطحائے مکہ میں ایک جگہ تھا کہ میرے پاس دو فرشتے آئے، ان میں سے ایک فرشتہ تو زمین پر اتر آیا اور دوسرا فرشتہ زمین و آسمان کے درمیان رہا، پھر ان میں سے ایک نے (میری طرف اشارہ کرکے) اپنے ساتھی فرشتہ سے پوچھا کہ کیا یہی وہ شخص ہیں جن کے بارے میں اللہ نے ہمیں بتایا ہے کہ میرے ایک پیغمبر ہیں ان کے پاس جاؤ) فرشتہ نے جواب دیا کہ ہاں یہی وہ شخص ہیں۔ پھر پہلے فرشتے نے دوسرے فرشتے سے کہا کہ (ان پیغمبر کی امت میں سے) ایک آدمی کے ساتھ ان کو تول کر دیکھو، چناچہ مجھے ایک آدمی کے ساتھ تولا گیا اور میں اس آدمی سے بھاری رہا۔ پھر اس فرشتے نے کہا کہ اب دس آدمیوں کے ساتھ ان کو تولو، چناچہ مجھے دس آدمیوں کے ساتھ تولا گیا اور میں ان دس آدمیوں سے بھی بھاری رہا، پھر اس فرشتہ نے کہا اچھا سو آدمیوں کے ساتھ ان کو تولو، چناچہ مجھے سو آدمیوں کے ساتھ تولا گیا اور میں ان سو آدمیوں کے مقابلہ میں بھی بھاری رہا پھر اس فرشتہ نے کہا کہ اچھا ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ ان کو تولو، چناچہ مجھے ہزار آدمیوں کے ساتھ تولا گیا اور میں ان ہزار آدمیوں کے مقابلہ میں بھی بھاری رہا اور گویا (اب بھی) میں ان ہزار آدمیوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ جس پلڑے میں تھے وہ (میرے پلڑے کے مقابلہ میں) اتنا ہلکا تھا (اور اتنا اوپر اٹھ گیا تھا) کہ مجھے لگا جیسے وہ سب کے سب اب میرے اوپر گرے۔ اس کے بعد ان دونوں فرشتوں میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ اگر تم ان کو ان کی ساری امت کے ساتھ بھی تولو تو یہ یقینا ساری امت کے مقابلہ میں بھی بھاری رہیں گے۔ ان دونوں روایتوں کو دارمی نے نقل کیا ہے۔

5697Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ پر ہر حالت میں قربانی فرض تھی :

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كتب علي النحر ولم يكتب عليكم وأمرت بصلاة الضحى ولم تؤمروا بها . رواه الدارقطني

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھ پر (ہرحالت میں) قربانی فرض کی گئی ہے ( خواہ میں مالی استطاعت رکھوں یا نہ رکھوں) جب کہ تمہارے اوپر اس طرح فرض نہیں ہے (بلکہ اسی حالت میں فرض ہے جب تم مالی استطاعت رکھو) نیز مجھ کو چاشت کی نماز کا حکم (وجوب کے طور) دیا گیا ہے جب کہ تمہیں نہیں دیا گیا ہے بلکہ اس نماز کو تمہارے لئے سنت قرار دیا گیا ہے۔ (دارقطنی (