وعن فاطمة بنت قيس قالت سمعت منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قضى صلاته جلس على المنبر وهو يضحك فقال ليلزم كل إنسان مصلاه . ثم قال هل تدرون لم جمعتكم ؟ . قالوا الله ورسوله أعلم . قال إني والله ما جمعتكم لرغبة ولا لرهبة ولكن جمعتكم لأن تميما الداري كان رجلا نصرانيا فجاء فبايع وأسلم وحدثني حديثا وافق الذي كنت أحدثكم به عن المسيح الدجال حدثني أنه ركب في سفينة بحرية مع ثلاثين رجلا من لخم وجذام فلعب بهم الموج شهرا في البحر فأرفؤوا إلى جزيرة حين تغرب الشمس فجلسوا في أقرب سفينة فدخلوا الجزيرة فلقيتهم دابة أهلب كثير الشعر لا يدرون ما قبله من دبره من كثرة الشعر قالوا ويلك ما أنت ؟ قالت أنا الجساسة قالوا وما الجساسة ؟ قالت أيها القوم انطلقوا إلى هذا الرجل في الدير فإنه إلى خبركم بالأشواق قال لما سمت لنا رجلا فرقنا منها أن تكون شيطانة قال فانطلقنا سراعا حتى دخلنا الدير فإذا فيه أعظم إنسان ما رأيناه قط خلقا وأشده وثاقا مجموعة يده إلى عنقه ما بين ركبتيه إلى كعبيه بالحديد . قلنا ويلك ما أنت ؟ قال قد قدرتم على خبري فأخبروني ما أنتم ؟ قالوا نحن أناس من العرب ركبنا في سفينة بحرية فلعب بنا البحر شهرا فدخلنا الجزيرة فلقيتنا دابة أهلب فقالت أنا الجساسة اعمدوا إلى هذا في الدير فأقبلنا إليك سراعا وفزعنا منها ولم نأمن أن تكون شيطانة فقال أخبروني عن نخل بيسان قلنا عن أي شأنها تستخبر ؟ قال أسألكم عن نخلها هل تثمر ؟ قلنا نعم . قال أما إنها توشك أن لا تثمر . قال أخبروني عن بحيرة الطبرية قلنا عن أي شأنها تستخبر ؟ قال هل فيها ماء ؟ قلنا هي كثيرة الماء . قال أما إن ماءها يوشك أن يذهب . قال أخبروني عن عين زغر . قالوا وعن أي شأنها تستخبر ؟ قال هل في العين ماء ؟ وهل يزرع أهلها بماء العين ؟ قلنا له نعم هي كثيرة الماء وأهله يزرعون من مائها . قال أخبروني عن نبي الأميين ما فعل ؟ قلنا قد خرج من مكة ونزل يثرب . قال أقاتله العرب ؟ قلنا نعم . قال كيف صنع بهم ؟ فأخبرناه أنه قد ظهر على من يليه من العرب وأطاعوه . قال لهم قد كان ذلك ؟ قلنا نعم . قال أما إن ذلك خير لهم أن يطيعوه وإني مخبركم عني إني أنا المسيح الدجال وإني يوشك أن يؤذن لي في الخروج فأخرج فأسير في الأرض فلا أدع قرية إلا هبطتها في أربعين ليلة غير مكة وطيبة هما محرمتان علي كلتاهما كلما أردت أن أدخل واحدة أو واحدا منهما استقبلني ملك بيده السيف صلتا يصدني عنها وإن على كل نقب منها ملائكة يحرسونها . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وطعن بمخصرته في المنبر هذه طيبة هذه طيبة هذه طيبة يعني المدينة ألا هل كنت حدثتكم ؟ فقال الناس نعم فإنه أعجبني حديث تميم أنه وافق الذي كنت أحدثكم عنه وعن المدينة ومكة . ألا إنه في بحر الشأم أو بحر اليمن لا بل من قبل المشرق ماهو من قبل المشرق ماهو من قبل المشرق ماهو وأومأ بيده إلى المشرق . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں کہ ( ایک دن) میں نے رسول کریم ﷺ کے مؤذن کی یہ آواز الصلوۃ جامعۃ نماز جمع کرنے والی ہے) سن کر مسجد پہنچی اور پھر میں نے رسول کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آنحضرت ﷺ نماز سے فارغ ہونے کے بعد منبر پر تشریف فرما ہوئے اس وقت ( حسب عادت آپ کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کی قسم میں نے تمہیں نہ تو کسی مرغوب چیز کے لئے جمع کیا ہے اور نہ کسی دہشت ناک کے لئے یعنی تمہیں یہاں روکنے کا مقصد نہ تو تمہیں کوئی چیز دینا ہے اور نہ کسی دشمن وغیرہ سے ڈرانا ہے بلکہ میں نے تمہیں اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری، جو ایک نصرانی (عیسائی) شخص تھا، آیا اور مسلمان ہوا اور اس نے مجھ کو ایک ایسا واقعہ سنایا جو مسیح دجال کے بارے میں ان باتوں کے مطابق ہے جو میں تمہیں بتایا کرتا ہوں چناچہ میں نے مناسب جانا کہ تمیم داری کا وہ واقعہ تمہیں بھی سنا دوں تاکہ دجال کے بارے میں تمہارا یقین اور زیادہ پختہ ہوجائے اور میری بتائی ہوئی باتیں مشاہدہ کے قرین ہوجائیں تو سنو مجھ سے تمیم داری نے بیان کیا کہ وہ ایک ( دن) قبیلہ جذام کے تیس آدمیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہو کر روانہ ہوا تو پانی کی موج ایک مہینہ تک کشتی کے سواروں سے کھیلتی رہی ( یعنی کشتی سمندر کی ایک ایسی موج میں گھر گئی جو مسلسل ایک مہینہ تک اس کو ادھر ادھر لئے پھری اور اس نے سواروں کو منزل مقصود تک نہ پہنچنے دیا) یہاں تک کہ اس موج نے کشتی کو ( ایک دن) غروب آفتاب کے وقت ایک جزیرہ کے قریب پہنچایا دیا اور سارے سوار ان چھوٹی کشتیوں میں کہ جو بڑی کشتی کے ساتھ تھیں بیٹھ کر اس جزیرہ میں پہنچ گئے، وہاں انہیں ایک ایسا چوپایہ ملا جو بالوں والا تھا اور ان کی کثرت کی وجہ سے لوگوں کو اس کا پیچھا معلوم نہیں ہوتا تھا یعنی اس چوپایہ کے جسم پر اتنے زیادہ بال تھے کہ پورا جسم چھپ کر رہ گیا تھا اور ان کی کثرت کی وجہ سے لوگوں کو اس کا اگلا حصہ کونسا ہے اور پچھلا کونسا) لوگوں نے ( اس کو دیکھ کر بڑی حیرت سے) کہا کہ تجھ پر افسوس، تو کون ہے اور کیا ہے؟ یعنی آخر تیری اصل و ماہیت کیا ہے تو کوئی جن ہے یا انسان ہے؟ ) اس چوپابہ نے جواب دیا کہ میں جاسوس اور خبر رساں ہوں تم لوگ میرے ساتھ اس شخص کے پاس چلو جو دیر میں ہے کیونکہ اسے تمہاری خبریں سننے کا بہت شوق ہے تمیم داری نے بیان کیا کہ جب اس چوپایہ نے ہم سے ایک شخص کا ذکر کیا ( اور ہمیں اس کے پاس چلنے کو کہا) تو ہمیں بڑا ڈر لگا کر وہ شخص کہیں انسان کی شکل و صورت میں شیطان نہ ہو، بہر حال ہم تیزی کے ساتھ چل پڑے اور جب دیر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک سب سے بڑی ڈیل ڈول والا اور نہایت خوفناک آدمی موجود ہے، اسی جیسی شکل و صورت کا آدمی ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، وہ نہایت مضبوط اس طرح بندھا ہوا تھا کہ اس کے ہاتھ گردن تک اور گھٹنوں کے درمیان سے ٹخنوں تک لوہے کی زنجیر سے جکڑے ہوئے تھے ہم نے (اس کو دیکھ کر بڑی حیرت کے ساتھ) کہا کہ تجھ پر افسوس ہے، تو کون ہے اور کیا ہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ جب تم نے مجھ کو پالیا اور معلوم کر ہی لیا ہے ( اور یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہو تو اب میں تم سے اپنے بارے میں کچھ نہیں چھپاؤں گا اور سب کچھ بتادوں گا لیکن پہلے) مجھے اپنے بارے میں بتاؤ ( اور جو کچھ تم سے پوچھوں اس کا جواب دو ) کہ تم کون ہو ( اور کہاں سے آئے ہو؟ ) ہمارے لوگوں نے اسے بتایا کہ ہم عرب کے لوگ ہیں بحری کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ ( اور اپنی منزل مقصود کی طرف جارہے تھے) کہ سمندری طوفان نے ہمیں ایک مہینہ تک گھیرے رکھا ( اور ہماری کشتی کو یہاں لا چھوڑا ہم اس جزیرہ پر اتر گئے، یہاں ہمیں ایک بالوں والا چوپایہ ملا اور اس نے کہا کہ میں جاسوس ہوں تم لوگ اس شخص کے پاس جاؤ جو دیر یعنی بڑے محل میں موجود ہے چناچہ ہم بڑی تیزی کے ساتھ تیرے پاس چلے آئے اس نے کہا کہ اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ بیسان میں کھجوروں کے دو درخت ہیں ان پر پھل آتے ہیں یا نہیں؟ ہم نے کہا کہ ہاں پھل آتے ہیں! اس نے کہا کہ جان لو جلد ہی وہ زمانہ آنے والا ہے جب بیسان کے کھجور کے درختوں پر پھل نہیں آئیں گے (گویا اس نے اس طرف اشارہ کیا کہ قیامت جلد ہی آنے والی ہے) اس نے کہا کہ اب مجھے بحیرہ طبریہ کے بارے میں بتاؤ کہ آیا اس میں پانی ہے یا نہیں؟ ہم نے کہا کہ اس میں تو بہت پانی ہے اس نے کہا کہ اس میں تو بہت پانی ہے اس نے کہا یقینا عنقریب اس کا پانی ختم ہوجائے گا پھر اس نے پوچھا کہ مجھے یہ بتاؤ کہ رغر کے چشمہ میں پانی ہے یا نہیں اور وہاں کے لوگ اس چشمہ کے پانی کے ذر یعہ کھیتی باڑی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا کہ ہاں اس چشمہ میں بہت پانی ہے اور وہاں کے لوگ اسی پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں اس کے بعد اس نے کہا کہ اب مجھے امیوں یعنی اہل عرب کے نبی ﷺ کے بارے میں بتاؤ اس نے کیا کیا؟ ہم نے کہا کہ انہوں نے مکہ کو چھوڑ دیا ہے اور اب یثرب ( یعنی مدینہ) کو ہجرت کر گئے ہیں اس نے پوچھا کہ کیا عرب کے لوگ ان سے لڑے ہیں؟ ہم نے کہا کہ ہاں! پھر اس نے پوچھا کہ انہوں نے اہل عرب سے کیا معاملہ کیا؟ ہم نے اس کو بتایا کہ وہ نبی ﷺ ان عربوں پر غالب آگئے ہیں جو ان کے قریب ہیں اور انہوں نے ان کی اطاعت اختیار کرلی ہے اس نے کہا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہے کہ ان لوگوں کا ان کی اطاعت کرنا ہی ان کے لئے بہتر ہے اور اب میں تمہیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں، میں درحقیت مسیح یعنی دجال ہوں، وہ زمانہ جلدہی آنے والا ہے جب مجھ کو نکلنے کی اجازت مل جائے گی، اس وقت میں نکلوں گا اور چالیس دنوں تک زمین پر پھروں گا یہاں تک کوئی آبادی ایسی نہیں چھوڑوں گا جس میں داخل نہیں ہوں گا، سوائے مکہ اور طیبہ یعنی مدینہ اور مکہ کے یہ دونوں شہر مجھ پر حرام قرار دیئے گئے ہیں یعنی ان دونوں میں داخل ہونا چاہوں گا تو میرے سامنے ایک فرشتہ آجائے گا جس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہوگی وہ فرشتہ مجھ کو اس شہر میں داخل ہونے سے روک دے گا، حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک شہر کے تمام راستوں پر فرشتے مامور ہیں جو اس شہر کی نگہبانی کرتے ہیں راوی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (تمیم داری کا یہ پورا واقعہ بیان کرنے کے بعد صحابہ پر اپنی یہ خوشی ظاہر کرنے کے لئے کہ دیکھو دجال کے بارے میں تمہیں جو کچھ بتایا کرتا تھا اس کی پوری پوری تصدیق و تائید اس واقعہ سے ہوجاتی ہے، نیز آپ ﷺ نے تمام شہروں پر مدینہ کی فضیلت و بڑائی کو ظاہر کرنے کے لئے جوش میں) اپنا عصاء مبارک منبر پر مار کر ( تین مرتبہ) یہ فرمایا کہ یہ ہے طیبہ، یہ ہے طبیہ یعنی مدینہ ( پھر فرمایا) یاد رکھو، کیا میں تمہیں یہی بات نہیں بتایا کرتا تھا (جو دجال کے بارے میں اس واقعہ سے ظاہر ہوتی ہے؟ ) صحابہ نے کہا کہ ہاں ( آپ ﷺ ہمیں اسی طرح کی بات بتایا کرتے تھے اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا دجال شام کے سمندر میں ہے یا یمن کے سمندر میں، نہیں بلکہ وہ مشرق کی جانب سے نکلے گا، یہ فرما کر آپ ﷺ نے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کیا۔ (مسلم )
تشریح
الصلوۃ جامعۃ کا جملہ لوگوں کو متوجہ کرنے اور نماز کے لئے بلانے کے واسطے ہے تاکہ لوگ یہ سن کر ایک جگہ پہنچ جائیں اور جمع ہوجائیں جیسا کہ زمانہ نبوی ﷺ میں کسوف اور خسوف کی نماز کے لئے لوگوں کو جمع کرنے کے لئے اس جملہ کے ذریعہ پکارا جاتا تھا! سفینۃ کو بحریۃ کی اضافت کے ساتھ ذکر کرنے کا مقصد اس بات سے احتراز کرنا ہے کہ ذہن خشکی کی کشتی یعنی اونٹ کی طرف منتقل نہ ہو کیونکہ اونٹ کو سفینۃ البر ( خشکی کی کشتی) کہا جاتا ہے، ویسے بعض حضرات نے کہا ہے سفینہ بریہ سے مراد بڑی سمندری کشتی ہے جس کو پانی کا جہاز بھی کہا جاسکتا ہے۔ لفظ اقرب اصل میں قا رب کی جمع ہے اور قا رب اس ڈونگی یعنی چھوٹی کشتی کو کہتے ہیں جو بڑی سمندری کشتی ( پانی کے جہاز) میں رکھی رہتی ہے اور ساحل پر آنے جانے اور ان کاموں میں استعمال ہوتی ہے جو بڑی کشتی یا جہاز کے ذریعہ انجام نہیں پاسکتے۔ اس عجیب الخلقت جانورنے اپنا نام جساستہ یعنی جاسوسی کرنے والا اس اعتبار سے بتایا کہ وہ دجال کو خبریں اور معلومات پہنچایا کرتا تھا، واضح رہے کہ قرآن شریف میں جس دابۃ الارض کا ذکر آیا ہے وہ یہی جانور ہے۔ دیر اصل میں عیسائیوں کی عبادت گاہ یعنی گرجا کو کہتے ہیں ویسے لغت کی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ دیر راہبوں کے رہنے کی جگہ کو کہتے ہیں، بہر حال یہاں حدیث میں دیر سے مراد وہ بڑی عمارت ہے جس میں دجال تھا۔ بیسان ملک شام میں ایک بستی کا نام ہے یا یمامہ میں ایک جگہ کا نام ہے، لیکن مشرق الانور میں لکھا ہے کہ حدیث جسار میں ( جو یہاں نقل ہوئی ہے) مذکور بیسان حجاز کے ایک شہر کا نام ہے اور دوسرا بیسان شام کے علاقہ میں واقع ہے۔ جیسا کہ پیچھے بھی ایک موقع پر بیان کیا جا چکا ہے بحیرہ اصل میں بحر کی تصغیر ہے یعنی چھوٹا سمندر، جس کو جھیل سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے اور طبریہ اردن کے ایک قصبہ کا نام سے، فن حدیث کے مشہور امام طبرانی اس قصبہ کے رہنے والے تھے۔ زغر ایک شہر کا نام ہے جو ملک شام میں واقع ہے، اس علاقہ میں رویئدگی بہت کم ہوتی ہے۔ مجھے امیوں یعنی اہل عرب کے نبی کے بارے میں بتاؤ میں دجال نے حضور ﷺ کی نسبت صرف اہل عرب کی طرف ازراہ طنز کہ وہ خاص طور پر اہل عرب کے نبی ہیں یا یہ کہ جملہ تعزیمی پیرا یہ بیان ہے یعنی اس جملہ کے ذریعہ اس ملعون دجال کی اس باطل خیال کی ترجمانی مقصود تھی کہ آپ ﷺ نادانوں اور جاہلوں کے نبی ہیں۔ ان لوگوں کا ان کی اطاعت کرنا ہی ان کے لئے دجال کی زبان سے اس بات کا نکلنا گویا اس کی طرف سے حضور ﷺ کی عظمت و فضیلت کا اقرار تھا۔ گویہ اقرار اضطرار بہی تھا اور اس کے سبب سے بھی تھا کہ اس وقت کفر کے اظہار اور دین سے انکار کی کوئی غرض بھی اس کے سامنے نہیں تھی، لہٰذا اس نے اپنے کفر وعناد کو پوشیدہ رکھنا ہی مناسب سمجھا، یا یہ بہی کہا جاسکتا ہے کہ اس جملہ میں بہتری سے اس کی مراد دنیاوی بھلائی و بہتر اور امن و سلامتی ہو۔ لا بل من قبل المشرق ماہو ( نہیں بلکہ وہ مشرق کی جانب سے نکلے گا) میں حرف ما، نفی کے لئے نہیں ہے بلکہ زائد ہے! اس جملہ کی وضاحت یہ ہے کہ قیامت آنے کا وقت چونکہ اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے اور تعین کے ساتھ نہیں بتایا کہ قیامت کب آئے گی بلکہ قیامت کی علامتوں اور نشانیوں کے ظاہر ہونے کے زمانوں اور اوقات کو بھی متعین نہیں فرمایا اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے بھی متعین طور پر وہ جگہ نہیں بتائی جہاں دجال مقید ہے، صرف ترد و ابہام کے طور پر مذکورہ تین مقامات کی طرف اشارہ فرمایا البتہ آخری مقام کو ظن غالب کے ذریعہ ظاہر فرمایا لیکن اس کو بھی متعین نہیں کیا سوائے اس کے کہ کسی خاص جگہ و علاقہ کے تعین کے بغیر اس سمت کی طرف اشارہ فرما کر چھوڑ دیا۔ پس مذکورہ جملہ سے پہلے دو احتمال کی نفی اور تیسرے احتمال کا جو اثبات ہوتا ہے اس کے یہی معنی ہیں! ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے پہلی دو جگہوں کا ذکر فرما کر پہر ان کی جو نفی فرمائی تو اس کا سبب یہ تھا کہ دجال کا قید خانہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہتا ہوگا! اور تورپشتی نے بلکہ وہ مشرق کی جانب سے نکلے گا کی وضاحت میں کہا ہے کہ احتمال ہے کہ یہ جملہ خبر دینے کے طور پر ہو، یعنی دجال مشرق کی جانب سے نکلے گا نیز اشرف نے کہا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ دجال کے قید خانے کی جگہ کی تعین میں شک رکھتے تھے، آپ ﷺ کے گمان میں تھا کہ وہ ان جگہوں میں سے کسی نہ کسی جگہ مقید ہے، چناچہ جب آپ ﷺ نے اپنے اس شک کی بنا پر جب شام کے سمندر اور یمن کے سمندر کا ذکر کیا تو اسی وقت وحی کے ذریعہ آپ ﷺ کو یقین کے ساتھ معلوم ہوگیا یا آپ ﷺ کو ظن غالب ہوا کہ اس کا قید خانہ مشرق میں کسی جگہ واقع ہے، اس وجہ سے آپ ﷺ نے پہلی دونوں جگہوں کی نفی فرما دی اور ان سے اعراض کرکے تیسری جگہ یعنی مشرق کا اثبات فرمایا۔
وعن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال رأيتني الليلة عند الكعبة فرأيت رجلا آدم كأحسن ما أنت راء من أدم الرجال له لمة كأحسن ما أنت راء من اللمم قد رجلها فهي تقطر ماء متكأ على عواتق رجلين يطوف بالبيت فسألت من هذا ؟ فقالوا هذا المسيح بن مريم قال ثم إذا أنا برجل جعد قطط أعور العين اليمنى كأن عينة عنبة طافية كأشبه من رأيت من الناس بابن قطن واضعا يديه على منكبي رجلين يطوف بالبيت فسألت من هذا ؟ فقالوا هذا المسيح الدجال . متفق عليه . وفي رواية قال في الدجال رجل أحمر جسيم جعد الرأس أعور عين اليمنى أقرب الناس به شبها ابن قطن . وذكر حديث أبي هريرة لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها في باب الملاحم . وسنذكر حديث ابن عمر قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس في باب قصة ابن الصياد إن شاء الله تعالى .
اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں نے آج کی رات اپنے آپ کو (خواب میں یا کشف کی حالت میں) کعبہ کے پاس دیکھا، وہاں مجھ کو ایک ایسا گندم گوں شخص نظر آیا جو کسی ایسے آدمی کی طرح تھا جس کو تم گندمی رنگ کا سب سے بہتر اور خوبصورت دیکھتے ہو، اس کے ( سر پر) بہت بال تھے جو کاندھوں تک لٹکے ہوئے تھے اور بالوں کے اعتبار سے بھی وہ کسی ایسے شخص کے مشابہ تھا جس کو تم اس قسم کے بال رکھنے والوں میں سے سب سے خوبصورت دیکھتے ہو، اس کے بالوں میں کنگھی کی گئی تھے اور بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے وہ شخص دو آدمیوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا! میں نے ( اس شخص کو دیکھ کر طواف کرنے والوں سے) پوچھا کہ یہ کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ مسیح ابن مریم ہیں! اسی کے بعد رسول کریم ﷺ نے فرمایا پھر اچانک میری نظر سے ایک شخص گزرا جس کے بال گھونگریالے اور بہت کھڑے تھے، وہ داہنی آنکھ سے کانا تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے اس کی آنکھ انگور کا پھولا ہوا دانہ یا بےنور ہے، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے وہ ابن قطن کے بہت مشابہ تھا، وہ شخص بھی دو آدمیوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا، میں نے اس کے بارے میں بھی پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے جواب دیا کہ یہ مسیح دجال ہے بخاری ومسلم) ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ حضور ﷺ نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک شخص ہے جس کی آنکھیں سرخ ہیں، سر کے بال گھونگریالے ہیں، داہنی آنکھ سے کانا ہے، مشابہت کے اعتبار سے لوگوں میں ابن قطن اس کے بہت قریب ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث لا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من غربہا الخ باب الملاحم میں نقل کی جا چکی ہے نیز حضرت ابن عمر ؓ کی اس روایت قام رسول اللہ ﷺ فی الناس۔۔ الخ۔ کو انشاء اللہ ہم ابن صیاد کے قصہ کے باب میں نقل کریں گے۔
تشریح
بالوں سے پانی ٹپک رہے تھے۔ میں پانی سے مراد یا تو وہ پانی ہے جو نہانے کے بعد بالوں میں لگا رہتا ہے اور کنگھی کرنے کے بعد بالوں سے ٹپکنے لگتا ہے اور وہ پانی بھی مراد ہوسکتا ہے جس میں کنگھی کو بھگو کر بال سنوراتے ہیں، یا پانی کے قطرے ٹپکنے سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی انتہائی پاکیزگی ولطافت اور ترو تازگی کو کنایۃ بیان کرنا ہے۔ جیسے اس کی آنکھ انگور کا پھولا ہوا دانا ہے۔ کے بارے میں قاضی عیاض نے یہ لکھا ہے کہ دجال کی داہنی آنکھ تو بالکل سلپٹ یعنی ہموار ہوگی ( کہ اس جگہ آنکھ کا نام ونشان بھی نہیں ہوگا) اور بائیں آنکھ موجود تو ہوگی لیکن اس میں بھی پھولا ہوا ٹینٹ ہوگا۔ ابن قطن سے مراد عبد العزی ابن قطن یہودی ہے جس کے بارے میں پیچھے بیان ہوچکا ہے! لفظ کا شبہ میں کاف زائد ہے جو اظہار مبالغہ کے لئے استعمال ہوا ہے! دجال کو ابن قطن کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ شاید ابن قطن کا جسمانی حلیہ کچھ اس طرح کا رہا ہوگا جیسا کہ دجال کا ہوگا یا اس اعتبار سے تشبیہ دی گئی ہے کہ اس کی آنکھ بھی ٹینٹ یعنی پھلی تھی۔ دجال جن دو آدمیوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے طواف کرتا نظر آیا تھا بظاہر ان سے مراد وہ دو شخص ہیں جو اس (دجال) کے رفیق و مددگار ہوں گے جیسا کہ ان دو شخصوں سے مراد کہ جن کے کاندھے پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہاتھ رکھے ہوئے طواف کرتے ہوئے نظر آئے تھے، وہ دو شخص ہیں جو حق کے راستہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معین و مددگار ہوں گے اور شاید وہ دونوں حضرات خضر (علیہ السلام) اور حضرت مہدی ؓ ہوں! اس موقع پر اشکال واقع ہوتا ہے کہ دجال کافر ہے، اس کو طواف کی حالت میں دکھایا جانا کیا معنی رکھتا ہے؟ اس کا جواب علماء کرام نے یہ دیا ہے کہ مذکورہ واقعہ آنحضرت ﷺ کے مکاشفات میں سے ہے، جس کا تعلق خواب سے ہے اور اس کی تعبیر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس خواب میں گویا یہ دیکھایا گیا کہ ایک وہ دن آئے گا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دین اور مرکز دین کے اردگرد رہیں گے تاکہ دین کو قائم کریں اور فتنہ و فساد سے اس کی حفاظت کریں اور دجال بھی دین اور مرکز دین پر منڈلاتا پھرے گا تاکہ گھات لگا کر دین کو نقصان پہنچائے اور فتنہ و فساد پھیلانے میں کامیاب ہوجائے بعض حضرات نے ایک جواب یہ دیا ہے کہ مکہ مکرمہ پر اسلام کا غلبہ ہونے اور مشرکوں کو مسجد حرام کے قریب جانے کی مخالفت نافذ ہونے سے پہلے بہر حال کافر و مشرک بھی خانہ کعبہ کا طواف کیا کرتے تھے، پس اگر دجال بھی طواف کرتا ہو تو اس میں اشکال کی بات کیا ہے ایک یہ بات بھی ہے کہ حضور ﷺ کے اس مکاشفہ یا خواب سے، موجودات کی دنیا میں کسی کافر کا طواف کرنا ہرگز لازم نہیں آتا، جب کہ کفار اور مشرکین کے لئے خانہ کعبہ کے طواف کی ممانعت کا تعلق موجودات کی اس دنیا سے ہے۔
عن فاطمة بنت قيس في حديث تميم الداري قالت قال فإذا أنا بامرأة تجر شعرها قال ما أنت ؟ قالت أنا الجساسة اذهب إلى ذلك القصر فأتيته فإذا رجل يجر شعره مسلسل في الأغلال ينزو فيما بين السماء والأرض . فقلت من أنت ؟ قال أنا الدجال . رواه أبو داود .
حضرت فاطمہ بنت قیس تمیم داری کی حدیث کے سلسلہ میں بیان کرتی ہیں کہ تمیم داری نے کہا کہ ( جب میں جزیرہ میں داخل ہوا تو اچانک میرا گزر ایک عورت پر ہوا جو اپنے بالوں کو گھسیٹتی تھی ( یعنی اس کے بال بہت بڑے بڑے تھے جو زمین پر گھسٹتے رہتے تھے) تمیم نے کہا ( میں نے اس عورت کو دیکھ کر پوچھا کہ) تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں جاسوسی کرنے والی ہوں ( اور دجال کو خبریں پہنچاتی ہوں) تو اس محل کی طرف چلا جا! تمیم کا بیان ہے کہ میں اس محل میں آیا تو وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہے جو اپنے بالوں کو گھسیٹتا ہے۔ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور طوق پڑے ہوئے ہیں اور آسمان و زمین کے درمیان اچھلتا کودتا ہے میں نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں دجال ہوں۔ ( ابوداؤد)
تشریح
روایت کے جزء کا حاصل یہ ہے کہ تمیم داری کے مذکورہ واقعہ کے سلسلہ میں مسلم نے جو حدیث حضرت فاطمہ ؓ سے نقل کی ہے اور جو پیچھے گزری ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ جب تمیم داری اور ان کے ساتھی اس جزیرہ میں داخل ہوئے تو فلقیتہم الدابۃ یعنی وہاں ان کو ایک چوپایہ ملا لیکن انہیں فاطمہ کی جو روایت ابوداؤد نے نقل کی ہے اس میں چوپایہ کے بجائے ایک عورت کے ملنے کا ذکر ہے پس ان دونوں روایتوں میں تو یہ تضاد ہوا کہ مسلم کی روایت میں تو جساسہ کو دابہ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ جس کو عرف عام میں چوپایہ کہتے ہیں اور یہاں ابوداؤد کی روایت میں عورت کہا گیا ہے؟ اس تضاد کو دور کرنے کے لئے کہی جاتی ہیں، ایک تو یہ کہ شاید دجال کے دو جاسوس ہونگے، ایک دابہ اور دوسری، عورت، یا یہ کہ دابہ کے اصل لغوی معنی چلنے والے یعنی زمین پر چلنے والے کے ہیں، اس لفظ کا اطلاق جو صرف چوپایہ پر کیا جاتا ہے وہ عرف عام کے اعتبار سے ہے، قرآن مجید میں لفظ دابہ کا زیادہ استعمال اس کے اصل لغوی معنی ہی میں ہوا ہے، جیسے وما من دابۃ فی الارض الاعلی اللہ رزقہا ( یعنی روئے زمین پر چلنے والا ایسا کوئی جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو پس اس معنی میں دابہ کا اطلاق عورت پر بھی ہوسکتا ہے کہ مسلم کی روایت میں جو دابہ کی صورت میں ظاہر ہوا اور کبھی عورت کی صورت میں! یہ بات زیادہ قرین قیاس بھی ہے اور موزوں تر بھی کیونکہ جاسوسی کا جو اصل مقصد ہوسکتا ہے یعنی دنیا بھر کی خبریں جمع کرنا اور دجال تک پہنچایا اس کا انجام پانا کسی دابہ، یا عورت کی ذات سے بعید ہے، الاّ یہ کہ جاسوسی اور خبریں حاصل کرنے کا تعلق دنیا بھر سے نہ ہو بلکہ صرف ان جہازوں اور کشتیوں سے ہو جو اس جزیرے کے آس پاس سے گزرتے ہوں۔ ان دونوں روایتوں کے درمیان ایک اور تضاد بھی نظر آتا ہے، وہ یہ ہے کہ مسلم کی روایت میں سائل اور مخاطب کے طور پر شخص واحد کا نہیں بلکہ پوری جماعت کا ذکر ہے، جب کہ ابوداؤد کی روایت میں سوال و جواب شخص واحد یعنی صرف تمیم داری کی ذات کے ساتھ مختص رکھا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے، کہ سائل اور مخاطب پوری جماعت تھی لیکن اس جماعت میں چونکہ تمیم داری بھی شامل تھے اس لئے سوال و جواب کی نسبت صرف ان کی طرف کرنا بھی درست ہے یا یہ کہ سوال و جواب کرنے والے صرف تمیم داری ہی ہوں گے لیکن انہوں نے وہ سوال و جواب چونکہ پوری جماعت کے ترجمان کی حیثیت میں کیا ہوگا اس لئے اس سوال و جواب کی نسبت پوری جماعت کی طرف کرنا بھی درست ہے، چناچہ عرف عام میں رائج ہے کہ جب کسی جماعت کا کوئی فرد کوئی کام کرتا ہے تو کبھی اس کی نسبت صرف اسی شخص کی طرف کی جاتی ہے اور کبھی پوری جماعت کی طرف مثلا کہا جاتا ہے کہ فلاں گروہ نے فلاں شخص کو مار ڈالا تو اگرچہ مارنے والا ایک ہی شخص ہوتا ہے مگر اس کی نسبت پورے گروہ کی طرف کی جاتی ہے۔
وعن عبادة بن الصامت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إني حدثتكم عن الدجال حتى خشيت أن لا تعقلوا . إن المسيح الدجال قصير أفحج جعد أعور مطموس العين ليست بناتئة ولا حجراء فإن ألبس عليكم فاعلموا أن ربكم ليس بأعور رواه أبو داود .
اور حضرت عبادہ بن صامت رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ میں نے تم لوگوں سے دجال کا حال اس اندیشہ سے ( بار بار) بیان کیا ہے کہ کہیں تمہاری سمجھ میں نہ آئے، ( تو اچھی طرح سمجھ لو کہ) دجال پستہ قد ہے، پھڈا ہے، اس کے بال مڑے ہوئے ہیں ( ایک آنکھ سے) کانا ہے اور ( دوسری) آنکھ سلپٹ یعنی بالکل مٹی ہوئی ہے، اس کی آنکھ نہ ابھری ہوئی ہے اور نہ اندر کو دھنسی ہوئی۔ اس کے بعد بھی اگر تم شبہ میں پڑجاؤ ( یعنی میں نے دجال کا جو حلیہ بیان کیا ہے وہ بھول جانے کے سبب اور اس کے ما فوق الفطرت کے کارناموں کی وجہ سے اس کا دعوی الوہیت اگر تمہیں کسی درجہ میں شبہ میں مبتلا بھی کردیں تو) اتنی بات یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔ ( ابوداؤد)
تشریح
کہ کہیں تمہاری سمجھ میں نہ آئے۔ کا مطلب یہ ہے کہ میں جو بار بار اور مختلف انداز میں دجال کا حال تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دجال کی حیثیت و حقیقت تمہارے ذہن میں میں نے بتائی ہیں یا تمہارا دل و دماغ اس کی حقیقت سے نا آشنا رہے۔! اور طیبی نے کہا ہے کہ انی حدثتکم عن الدجال حتی حشیت الخ میں لفظ حتی دراصل حدثتکم کی غایت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے دجال کے سلسلہ میں اتنی زیادہ اور اس قدر متفرق طور پر احادیث بیان کی ہیں کہ مجھے یہ خدشہ ہوگیا ہے کہ کہیں تم التباس کا شکار نہ ہوجاؤ اور تمہارا ذہن اس طرح نہ الجھ جائے کہ دجال کی حیثیت و حقیقت اور اس کے احوال کی تفصیل تمہارے فہم و ادراک کی گرفت سے باہر ہوجائے، پس تم پر لازم ہے کہ دجال کے احوال کو خوب اچھی طرح سمجھ لو اور اپنے آپ کو اس بارے میں شکوک وشہبات اور التباس سے بچاؤ۔ دجال پستہ قد ہے، یہ بات بظاہر اس روایت کے مخالف ہے جس میں دجال کو سب سے بڑے ڈیل ڈول والا بتایا گیا ہے لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ان دونوں باتوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ پستہ قد ہونا بڑے ڈیل ڈول والا ہونے کے منافی نہیں ہے، چناچہ ہوسکتا ہے کہ دجال ٹھگنے قد کا بھی ہو اور پٹیل بھاری جسم والا بھی اور یہ بات اس کے اتنا بڑا فتنہ پرواز ہونے کے اعتبار سے اس کی فطرت اور اس کی حقیقت کے مطابق بھی ہے! اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے خروج کے وقت اس کو متغیر کر دے یعنی اس وقت تو وہ بہت بڑے ڈیل ڈول والا ہے لیکن جب اس کے ظاہر ہونے کا وقت آئے گا او ٹھگنا ہوجائے گا۔ پھڈا افحج کا ترجمہ ہے، یعنی ایسا شخص یا جانور جس کے چلنے کا یہ غیر معمولی انداز ہو کہ پاؤں کے سرے یعنی پنجے تو زمین پر قریب قریب پڑیں مگر دونوں ایڑیاں، پھیلی ہوئی پنڈلیوں کے ساتھ ایک دوسرے سے دور پڑیں اور نہایہ میں یہ لکھا ہے کہ افحج کے معنی ہیں دونوں رانوں کے درمیان معمول سے زیادہ فاصلہ ہونا۔ اس کی آنکھ نہ ابھری ہوئی ہے اور نہ اندر کو دھنسی ہوئی۔ یہ جملہ منفیہ موکدہ ہے جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اس کی ایک آنکھ بالکل مٹی ہوئی ہوگی، پس یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ اس کی دوسری آنکھ انگور کے دانہ کی طرح پھولی ہوئی ہوگی اس کی وضاحت پیچھے کی جا چکی ہے۔ اتنی بات یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔ یعنی ایک مسلمان ومؤمن کی حیثیت سے تمہارے اوپرصفات ربوبیت میں سے جس چیز کا سب سے پہلے پہچاننا واجب ہے وہ یہ ہے کہ وہ ( تمہارا رب) حدوث وعیوب اور خصوصا ظاہری نقائص سے بالکل پاک ہے پس اگر یہ بنیادی عقیدہ تمہارے دل و دماغ میں مستحضر رہے گا تو تم دجال کو کانا دیکھ کر فورا سمجھ جاؤ گے کہ یہ عیب دار ذات ہرگز اللہ نہیں ہوسکتی خواہ وہ اپنی خدائی کے اظہار کے لئے تمہیں شک وشبہ میں ڈالنے والے کتنے ہی مافوق الفطرت کارنامے کیوں نہ دکھائے۔
ایمان پر ثابت رہنے والوں کو دجال سے کوئی خوف نہیں ہوگا۔
وعن أي عبيدة بن الجراح قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إنه لم يكن نبي بعد نوح إلا قد أنذر الدجال قومه وإني أنذركموه فرصفه لنا قال لعله سيدركه بعض من رآني أو سمع كلامي . قالوا يا رسول الله فكيف قلوبنا يومئذ ؟ قال مثلها يعني اليوم أوخير . رواه الترمذي وأبو داود .
اور حضرت عبیدہ بین الجراح کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا حقیقت یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد ایسا کوئی نبی نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی ( بار بار مختلف مواقع پر دجال کے احوال مکر وتلبیس اور اس کی حقیقت و حیثیت کو بیان کرکے) تمہیں اس سے ڈراتا رہتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے ہمارے سامنے دجال کے ( کچھ) احوال بیان کئے اور پھر فرمایا شاید ان لوگوں میں سے کہ جنہوں نے مجھے دیکھا ہے یا میرا کلام سنا ہے، کوئی شخص اس ( کے زمانہ) کو پائے، صحابہ کرام نے ( یہ سن کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اس وقت ہمارے قلوب کی ( یعنی اہل ایمان کے قلوب کی) کیا حالت ہوگی؟ فرمایا بالکل ایسی ہی جیسے آج کے دن ہے یا اس سے بھی بہتر۔ ( ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا تھا! پس نوح (علیہ السلام) کے بعد سے مراد یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی ڈرایا اور ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء نے بھی ڈرایا۔ ان لوگوں میں سے کہ جنہوں نے مجھے دیکھا ہے الخ، یہ بات حضور ﷺ نے یہ فرض کرکے فرمائی کہ دجال کا ظہور اگر جلد ہی ہوجائے! اور بعض لوگوں نے اس جملہ کا مشار الیہ حضرت خضر (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خضر (علیہ السلام) کے اس دنیا میں موجود ہونے کی دلیل ہے! یا میرا کلام سنا ہے اس کے حکم میں ہر وہ اہل ایمان آجاتا ہے جس تک دجال کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی احادیث پہنچیں، اگرچہ اس کا زمانہ آنحضرت کے زمانہ سے کتنے ہی بعد کیوں نہ ہو بہر حال اس پورے جملہ کا مطلب گویا یہ تھا کہ دجال کا وجود اور اس کا ظاہر ہونا یقینی امر ہے، البتہ اس وقت کا تعین کے ساتھ علم نہیں ہے کہ وہ کب ظاہر ہوگا، لہٰذا اگر ایسا ہو کہ میرے صحابہ میں سے کوئی اس کا زمانہ پائے تو فبہا ورنہ جو اہل ایمان بعد میں آئیں گے وہ دجال کا زمانہ پائیں گے ان تک چونکہ میری احادیث پہنچیں گی اور میں نے دجال کے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے اس کو وہ سنیں اور پڑھیں گے اس لئے ان کو چاہیے کہ وہ یقین پر قائم رہیں اور دجال کے مکر و فریب میں نہ آئیں۔ جیسے آج کے دن ہے یا اس سے بھی بہتر کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ( یعنی اہل ایمان) اپنے ایمان و عقیدہ پر ثابت وقائم رہے گا اس کا دل بھی اپنی جگہ مضبوط رہے گا کہ اس میں دجال کے خوف کا گزر تک نہیں ہوگا اور اس کے مکروفریب سے کوئی خدشہ نہیں رہے گا، جس طرح کوئی اہل ایمان اس وقت کا منکر و مخالف ہے اسی طرح اس وقت بھی منکر و مخالف ہوگا بلکہ اس کے احوال اور اس کے مکروفریب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے سبب اس انکار و مخالفت میں کہیں زیادہ اضافہ ہوجائے گا۔
وعن عمرو بن حريث عن أبي بكر الصديق قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الدجال يخرج من أرض بالمشرق يقال لها خراسان يتبعه أقوام كأن وجوههم المجان المطرقة . رواه الترمذي .
اور حضرت عمر و ابن حریث، سید نا ابوبکر صدیق سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے ہم سے بیان کیا اور فرمایا کہ دجال روئے زمین کے ایک ایسے حصہ سے نکل گا جو مشرق میں واقع ہے اور جس کو خراسان کہا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوگوں کے کتنے ہی گروہ ہوں گے اور ان لوگوں کے چہرے تہہ بہ تہہ پھولی ہوئی ڈھال کی مانند ہوں گے۔، (ترمذی)
تشریح
خراسان ایک مشہور شہر ہے جو ماوراء النہر کے علاقہ میں واقع ہے اور ایران کی مملکت میں شامل ہے اور ان لوگوں کے چہرے الخ کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے چہرے چوڑے چکلے اور رخسار ڈھال کی طرح ابھرے ہوئے ہوں گے لفظ مطرقۃ کی وضاحت کتاب الفتن میں تفصیل سے بیان ہوچکی ہے۔
دجال سے دور رہنے کی تاکید
وعن عمران بن حصين قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من سمع بالدجال فلينأ منه فو الله إن الرجل ليأتيه وهو يحسب أنه مؤمن فيتبعه مما يبعث به من الشبهات رواه أبو داود .
اور حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص دجال کے نکلنے کی خبر سنے اس کو چاہیے کہ وہ اس سے دور رہے اللہ کی قسم، آدمی دجال کے پاس آئے گا اور اس کا گمان تو یہ ہوگا کہ میں مؤمن ہوں لیکن وہ ان چیزوں کی وجہ سے شبہات میں پڑ کر جو دجال کو دی گئی ہوں گی ( جیسے سحر و شعبد بازی اور مردہ کو زندہ کردینے کی قدرت وغیرہ اس کی اطاعت قبول کرے گا اور اس پر ایمان لے آئے گا۔ ( ابوداؤد)
تشریح
اس کو چاہیے کہ اس سے دور رہے کا حاصل یہ ہے کہ برائی کے قریب جانا خطرہ وخوف سے خالی نہیں ہونا جب کہ اس سے دور رہنا بہتری و بھلائی کا ضامن ہوتا ہے، حق تعالیٰ نے فرمایا ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار۔ لہٰذا جب دجال ظاہر ہو تو اس وقت جو بھی اہل ایمان ہو اس کو چاہیے کہ وہ دجال سے دور رہے۔
ظاہر ہونے کے بعد روئے زمین پر دجال کے ٹھہرنے کی مدت
وعن أسماء بنت يزيد بن السكن قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم يمكث الدجال في الأرض أربعين سنة السنة كالشهر والشهر كالجمعة والجمعة كاليوم واليوم كاضطرام السعفة في النار . رواه في شرح السنة .
اور حضرت اسماء بنت یزید بن سکن کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا روئے زمین پر دجال چالیس سال تک رہے گا (اس وقت) سال مہینہ کے برابر ہوگا مہینہ ہفتہ کے برابر اور ہفتہ ایک دن کے برابر ہوگا اور ایک دن اتنی دیر کا ہوگا جتنی دیر میں کھجور کی خشک شاخ آگ میں جل جاتی ہو اس روایت کو بغوی نے شرح السنہ میں نقل کیا ہے
تشریح
پہلے ایک حدیث گزرچکی ہے جس میں روئے زمین پر دجال کے پھر نے کی مدت چالیس رات بتائی گئی ہے اور یہاں چالیس سال کی مدت بیان کی گئی ہے؟ پس ان دونوں حدیثوں کے درمیاں مطابقت پیدا کرنے کے لئے یہ کہا جائے گا کہ پہلی حدیث میں جس مدت کو بیان کیا گیا ہے اس سے وہ مخصوص مدت مراد ہے جس کے دوران وہ روئے زمین پر فتنہ و فساد پھیلائے گا اور لوگوں کو گمراہ کرے گا اور یہاں جو مدت بیان کی گئی ہے اس سے وہ مطلق مدت مراد ہے جس میں روئے زمین پر رہے گا۔ سال مہینہ کے برابر ہوگا الخ سے مراد وقت کی تیز رفتاری کو ظاہر کرنا ہے کہ اس وقت دن بہت جلد جلد گزریں گے رہی اس حدیث کی بات جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اس وقت ایک دن ایک سال کے برابر گزرے گا تو اس سے مراد تعلق و شدت کو بیان کرنا ہے کہ اس وقت فتنہ و فساد کی کثرت اور دینی و دنیاوی مصائب و آلام کی زیادتی کی وجہ سے ایسا معلوم ہوگا کہ جیسے زمانہ کی رفتار دھیمی ہوگئی ہے اور دن پہاڑوں کی طرح کٹ رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ دن تیز رفتاری کے ساتھ گزریں گے۔ اور ایک دن اتنی دیر کا ہوگا الخ۔ کا مطلب یہ کہ جس طرح کسی سوکھی پتی کو آگ میں جلایا جائے تو وہ آگ بھک سے جل کر ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔
وعن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يتبع الدجال من أمتي سبعون ألفا عليهم السيجان . رواه في شرح السنة .
اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار افراد کہ جن کہ سروں پر سیجان پڑے ہوں گے دجال کی اطاعت اختیار کرلیں گے ( اس روایت کو بغوی نے شرح السنتہ میں نقل کیا ہے )۔
تشریح
سیجان اصل میں ساج کی جمع ہم جیسا کہ تاج کی جمع تیجان آتی ہے اور ساج بھی طیلسان کی طرح سبز سیاہ چادر کو کہتے ہیں۔ میری امت میں امت سے مراد امت اجابت یعنی ملت اسلامیہ بھی ہوسکتی ہے اور امت دعوت یعنی غیر مسلموں کی قوم بھی ہوسکتی ہے لیکن زیادہ صحیح، آخری مراد یعنی غیر مسلموں کی قوم ہی ہے، جیسا کہ پیچھے کی ایک حدیث میں بیان ہوچکا ہے کہ دجال کے اطاعت کرنے والے ستر ہزار لوگ، اصفہان کے یہودی ہوں گے۔
وعن أسماء بنت يزيد قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي فذكر الدجال فقال إن بين يديه ثلاث سنين سنة تمسلك السماء فيها ثلث قطرها والأرض ثلث نباتها . والثانية تمسك السماء ثلثي قطرها والأرض ثلثي نباتها . والثالثة تمسك السماء قطرها كله والأرض نباتها كله . فلا يبقى ذات ظلف ولا ذات ضرس من البهائم إلا هلك وإن من أشد فتنته أنه يأتي الأعرابي فيقول أرأيت إن أحييت لك إبلك ألست تعلم أني ربك ؟ فيقول بلى فيمثل له الشيطان نحو إبله كأحسن ما يكون ضروعا وأعظمه أسنمة . قال ويأتي الرجل قد مات أخوه ومات أبوه فيقول أرأيت إن أحييت لك أباك وأخاك ألست تعلم أني ربك ؟ فيقول بلى فيمثل له الشياطين نحو أبيه ونحو أخيه . قالت ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجته ثم رجع والقوم في اهتمام وغم مما حدثهم . قالت فأخذ بلحمتي الباب فقال مهيم أسماء ؟ قلت يا رسول الله لقد خلعت أفئدتنا بذكر الدجال . قال إن يخرج وأنا حي فأنا حجيجه وإلا فإن ربي خليفتي علىكل مؤمن فقلت يا رسول الله والله إنا لنعجن عجيننا فما نخبزه حتى نجوع فكيف بالمؤمنين يومئذ ؟ قال يجزئهم ما يجزئ أهل السماء من التسبيح والتقديس . رواه أحمد .
اور حضرت اسماء بنت یزید ابن سکن کہتی ہیں کہ ( ایک دن) نبی کریم ﷺ ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے کہ آپ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا۔ دجال کے ظاہر ہونے سے پہلے تین سال ایسے ہوں گے کہ ( ان میں برکت جاتی رہے گی اور لوگوں کے معاشی حالات میں ابتری پیدا کرنے والے مختلف حالات رونما ہوں گے چنانچہ) پہلے سال تو آسمان تہائی بارش کو اور زمین تہائی پیداوار کو روک لے کی ( یعنی اور سالوں کے معمول کے خلاف اس سال بارش ایک تہائی کم ہوگی اسی طرح زمین کی پیداوار میں بھی ایک تہائی کمی ہوجائے گی اگرچہ بارش کے پانی کے علاوہ دوسرے طریقوں سے زمین کی آبپاشی کی جائے گی) پھر دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش کو اور زمین دو تہائی پیداوار کو روک لے گی اور پھر تیسرے سال آسمان تمام بارش کو اور زمین اپنی تمام پیداوار کو روک لے گی یہاں تک کہ جس وقت دجال ظاہر ہوگا تو تمام روئے زمین پر قحط پھیل چکا ہوگا صرف انسان سخت ترین معاشی وغذائی بحران میں مبتلا ہونگے بلکہ مویشوں اور چوپایوں میں بھی بھکری پھیل چکی ہوگی) چناچہ نہ تو کوئی گھر والا جانور باقی رہے گا اور نہ وحشی جانوروں میں سے کوئی دانت والا بلکہ سب ہلاک ہوجائیں گے اور اس کے برعکس اور وقت خزینے اور دفینے دجال کے تسلط میں ہوں گے اور غذائی ضروریات کی تکمیل اور آسائش و خوشحالی کے دوسرے ذرائع اس کے پاس ہوں گے، اس طرح لوگوں میں اپنی خدائی کا سکہ جمانے اور گمراہی کا سخت ترین فتنہ پھیلانے کے لئے وہ ان چیزوں کو استعمال کرے گا) چناچہ اس کا سخت ترین فتنہ یہ ہوگا کہ وہ علم و دانائی سے بےبہرہ ایک دیہاتی کے پاس آئے گا اور اس سے کہے گا کہ مجھے بتا، اگر میں تیرے ان اونٹوں کو زندہ کر دوں (جو قحط کی وجہ سے مرگئے ہیں) تو کیا تو یہ تسلیم کرے گا کہ میں تیرا پروردگار ہوں دیہاتی جواب دے گا کہ ہاں میں تجھے اپنا پروردگار مان لوں گا) تب دجال اس دیہاتی کے اونٹوں کی مانند شکل و صورت بنا کر لائے گا ( یعنی اپنے تابعدار جنات اور شیاطین کو حکم دے گا کہ وہ اونٹوں کی شکل و صورت میں اس دیہاتی کے سامنے آجائیں، چناچہ شیاطین اونٹ بن کر سامنے آجائیں گے) اور وہ اونٹ تھنوں کی درازی اور کوہانوں کی بلندی کے اعتبار سے اس کے اونٹوں سے بہتر معلوم ہوں گے آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ( دجال کا اسی طرح کا ایک سخت ترین فتنہ یہ ہوگا کہ) پھر وہ ایک شخص کے پاس آئے کا جس کا باپ اور بھائی مرگئے ہوں گے۔ اور اس سے کہے گا کہ مجھے بتا، اگر میں تیرے ( مرے ہوئے) بھائی اور باپ کو زند کر دوں تو کیا تو تسلیم کرے گا کہ میں تیرا پروردگار ہوں؟ وہ شخص جواب دے گا کہ ہاں! ( میں تجھے اپنا پروردگار مان لوں گا) تب دجال ( شیاطین کو) اس شخص کے بھائی اور باپ کی شکل و صورت میں پیش کر دے گا۔ حضرت اسماء کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ یہ فرما کر کسی ضرورت سے باہر تشریف لے گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد مجلس میں تشریف لے آئے اس وقت حاضرین مجلس ( دجال کے یہ حالات سن کر) فکر وغم کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے حضرت اسماء کہتی ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے تو ( دجال کا ذکر کر کے) ہمارے دل نکال لئے ہیں ( یعنی اس کا یہ حال سن کر ہمارے دل سخت مرعوب زدہ ہوگئے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا اگر ( دجال نکلے اور فرض کرو) میں زندہ رہوں تو دلائل وحجت سے اس کو رفع کردوں گا اور اگر وہ اس وقت نکلا جب میں دنیا میں موجود نہ ہونگا تو یقینا میرا پروردگار ہر مؤمن کے لئے مرا وکیل و خلیفہ ہوگا ( یعنی اس وقت اللہ تعالیٰ ہر صاحب ایمان کا حامی و مددگار ہوگا اور اس کے فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے گا) پھر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ، بھوک کے وقت انسان کی بےصبری کا عالم تو یہ ہوتا ہے کہ ہم آٹا گوندھتے ہیں اور اس کی روٹی پکا کر فارغ بھی نہیں ہوتے ہیں کہ بھوک سے ہم بےچین ہوجاتے ہیں، تو ( ایسی صورت میں اس وقت جب کہ قحط سالی پھیلی ہوئی ہوگی، غذائی اشیاء دجال کے تسلط میں ہوں گی اور کھانے پنیے کی چیزیں صرف وہی شخص پا سکے گا جو دجال کی ابتاع کرے گا) آخر مؤمنین کا کیا حال ہوگا ( یعنی وہ اپنی بھوک پر کسی طرح قابو پائیں گے اور انہیں صبرو اقرار کس طرح ملے گا؟ ) حضور ﷺ نے فرمایا۔ ان کے لئے وہی چیز کافی ہوگی جو آسمان والوں یعنی فرشتوں کو کافی ہوتی ہے یعنی حق تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس۔
تشریح
فاخذ بلحمتی الباب آنحضرت ﷺ نے دروازے کے دو جانب پکڑ لئے) میں لفظ لحمۃ مشکوۃ اور مصابیح کے تمام نسخوں میں ل کے زبر اور ح کے جزم کے ساتھ منقول ہے جو جانب کے معنی میں لیا کیا ہے لیکن صحاح وقاموس اور لغت کی دوسری کتابوں میں یہ لفظ اس معنی میں مذکور نہیں ہے چناچہ طیبی نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ملجفتی الباب ہے یعنی ح کی جگہ ج ہے اور م چونکہ مشکوۃ ومصابیح کے تمام نسخوں میں یہ لفظ اسی طرح منقول ہے جس طرح یہاں حدیث میں نقل کیا گیا ہے لہٰذہ لازم ہے کہ بلجمتی الباب ہی کو صحیح مانا جائے اور اس معنی کے سلسلہ میں یہ تاویل کی جائے کہ چونکہ قاموس میں لحمہ کے معنی گوشت کا ٹکڑا لکھے ہیں اس لئے اس معنی میں سے صرف ٹکڑے کو اختیار کیا جائے کہ بلحمتی الباب میں دونوں ٹکڑوں سے مراد بند ہونے کی صورت میں) مل کر ایک ہوجاتے ہیں اور کبھی دروازہ کھلنے کی صورت میں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجاتے ہیں! یہ تاویل یقینا اس بات سے زیادہ بہتر اور مناسب ہے کہ حدیث کے الفاظ میں کتابت کی غلطی یا روایت کے سہو کا احتمال نکالا جائے۔ ان کے لئے وہی چیز کافی ہوگی الخ کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس قدر صبر و استقامت اور نفس پر قابو عطا فرما دے گا کہ وہ کھانے پنیے کی احتیاج ہی محسوس نہیں کریں گے جیسا کہ فرشتے کھانے پینے کے محتاج نہیں ہوتے اور ان کی اصل غذا تسبیح ہوگی جیسا کہ فرشتوں کی غذا تسبیح و تقدیس ہے واضح رہے کہ بعض حضرات نے حضرت اسماء ؓ کے ان الفاظ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے تو ہمارے دل نکال لئے الخ کے یہ معنی بیان کے ہیں کہ دجال سے ہمارا تو واسطہ بھی نہیں پڑا ہے، اس کا صرف ذکر ہی سن کر ہمارا یہ عالم ہے کہ ہم روٹی پکانے کے لئے آٹا گوندھتے ہیں اور جونہی دجال کی ان باتوں کا خیال آجاتا ہے جو آپ ﷺ نے ذکر فرمائی ہیں اور جو ہمارا دل نکالنے لگتی ہیں تو خوف و دہشت اور فکر و صدمہ کی وجہ سے ہم روٹی پکانا چھوڑ دیتے ہیں اور بھوکے رہ جاتے ہیں، تو آخر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اس زمانہ کے سخت ترین حالت سے دوچار ہوں گے اور جن کا واسطہ دجال سے پڑے گا لیکن طیبی نے اس معنی کو بعید قرار دیا ہے ویسے اگر یہ معنی مراد لئے جائیں تو اس صورت میں حضور ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تسبیح و تقدیس کی برکت سے ان کو صبرو استقامت اور ان حالات کا مقابلہ کرنے کو قوت و طاقت عطا فرما دیگا! نیز احتمال تو یہ ہے کہ حضرت اسماء نے یہ بات اس مجلس کے بعد کسی وقت خدمت نبوی میں حاضر ہو کر عرض کی ہوگی ویسے فقلت میں حرف ف بظاہر اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ انہوں نے یہ بات اسی مجلس میں دجال کا ذکر سن کر کہی تھی اور ان کے الفاظ جن میں آٹا گوندھنے اور بھوک کا ذکر ہے، یہ انہوں نے زمانہ آئندہ کے اعتبار سے کہی۔ مشکوۃ کے اصل نسخہ میں رواہ کے بعد چھوٹی ہوئی ہے، لیکن پھر بعد میں کسی نے احمد وابو داؤد والطیالی کے الفاظ کا الحاق کیا ہے اور بعض حضرات نے اس طرح کہا ہے رواہ احمد عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادۃ عن شہر بن خوشب عنہا وانفردبہ عنہا
اہل ایمان کو دجال سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں
عن المغيرة بن شعبة قال ما سأل أحد رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدجال أكثر مما سألته وإنه قال لي ما يضرك ؟ قلت إنهم يقولون إن معه جبل خبز ونهر ماء . قال هو أهون على الله من ذلك . متفق عليه .
اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ دجال کے بارے میں جس قدر میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا ہے اتنا کسی اور نے نہیں پوچھا! چناچہ (ایک دن) آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ دجال تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکے گا یعنی تمہارے اوپر چونکہ حق تعالیٰ کی عنایت و حمایت کا سایہ ہوگا اس لئے دجال تمہیں گمراہ نہیں کرسکے گا میں نے عرض کیا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ ( یعنی پہاڑ کے بقدر غذائی ضروریات کا ذخیرہ) ہوگا اور پانی کی نہر اس وقت جب کہ لوگ قحط سالی کا شکار ہوں گے اگر کوئی شخص بھوک و پیاس سے اضطرار کی حالت کو پہنچ جائے تو وہ کیا کرے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دجال اللہ تعالیٰ کی نزدیک اس سے زیادہ ذلیل ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
اس سے زیادہ ذلیل ہے کا مطلب یہ ہے کہ دجال اپنی طاقت وقوت کے جو مظاہر پیش کرے گا وہ سب بےحقیقت ہونگے کہ ان چیزوں کی حیثیت شعبدہ بازی، فریب کاری اور نظر بندی سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوگی وہ اللہ کے نزدیک اس قدر ذلیل و بےحیثیت ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کو اتنی زیادہ طاقت وقدرت عطا نہیں ہوسکتی اور وہ اس بات پر قادر ہی نہیں ہوسکتا کہ اپنے عقیدہ وعمل پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اہل ایمان کو گمراہ کرسکے لہٰذا اہل ایمان دجال کی اس مافوق الفطرت طاقت کو دیکھ کر کہ جو صرف ظاہر میں طاقت نظر آئے گی اور حقیقت میں دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا! ہرگز خوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ وہ تو اس کی شعبدہ بازیوں اور اس کے محیر العقول کارناموں کو دیکھ کر اس کے دجل و فریب اور جھوٹ پر اپنے یقین کو اور زیادہ پختہ کریں گے۔
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يخرج الدجال على حمار أقمر ما بين أذنيه سبعون باعا . رواه البيهقي في كتاب البعث والنشور .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا دجال ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر نکلے گا اور اس گدھے کے دونوں کانوں کے درمیان ستر باع چوڑا فاصلہ ہوگا اس روایت کو بیہقی نے کتاب البعث والنشور میں نقل کیا ہے۔
تشریح
باع دونوں ہاتھوں کے پھیلانے کی مقدار کو کہتے ہیں! حاصل یہ کہ دجال کی سواری کا وہ گدھا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے دونوں کانوں کے درمیان کا فاصلہ دونوں ہاتھوں کے ستر پھیلاؤ کے بقدر ہوگا۔