قیامت کی علامتوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 163 · 28 hadiths · Page 2 of 2

5361Mishkaat-al-Masabih

امام مہدی کے ظہور کے پیشگوئی

وعن أم سلمة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يكون اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من أهل المدينة هاربا إلى مكة فيأتيه الناس من أهل مكة فيخرجوه وهو كاره فيبايعونه بين الركن والمقام يبعث إليه بعث من الشام فيخسف بهم بالبيداء بين مكة والمدينة فإذا رأى الناس ذلك أتاه أبدال الشام وعصائب أهل العراق فيبايعونه ثم ينشأ رجل من قريش أخواله كلب فيبعث إليهم بعثا فيظهرون عليهم وذلك بعث كلب ويعمل الناس بسنة نبيهم ويلقي الإسلام بجرانه في الأرض فيلبث سبع سنين ثم يتوفى ويصلي عليه المسلمون . رواه أبو داود . وعن أبي سعيد قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم بلاء يصيب هذه الأمة حتى لا يجد الرجل ملجأ يلجأ إليه من الظلم فيبعث الله رجلا من عترتي وأهل بيتي فيملأ به الأرض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا يرضى عنه ساكن السماء وساكن الأرض لا تدع السماء من قطرها شيئا إلا صبته مدرارا ولا تدع الأرض من نباتها شيئا إلا أخرجته حتى يتمنى الأحياء الأموات يعيش في ذلك سبع سنين أو ثمان سنين أو تسع سنين . رواه .

اور حضرت ام سلمہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ (آخر زمانہ میں) جب خلیفہ (یعنی اس وقت کی حکومت کے سربراہ) کا انتقال ہوگا تو ( دوسرے سربراہ کے انتخاب یا نامزدگی کے سوال پر اصحاب الرائے لوگوں کے درمیان) اختلاف ونزاع اٹھ کھڑا ہوگا، اسی دوران اہل مدینہ میں سے ایک شخص (مدینہ سے) نکل کر مکہ کی طرف بھاگ جائے گا، مکہ کے لوگ جب اس شخص کے مرتبہ و حیثیت کو پہچانیں اور جانیں گے تو اس کے پاس آئیں گے اور اس کو ( گھر سے) باہر نکال کر لائیں گے ( تاکہ اس کو اپنا سر براہ اور حاکم بنائیں) وہ شخص اگرچہ ( فتنہ کے خوف سے) یہ منصب قبول کرنے کو پسند نہیں کرے گا مگر لوگ ( منت سماجت کر کے اس کو تیار کریں گے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے، یہ بیت (خانہ کعبہ میں) حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان عمل میں آئے گی، اس کے بعد اس کے مقابلہ پر شام (کے بادشاہ) کی طرف سے ایک لشکر بھیجا جائے گا لیکن وہ لشکر مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام بیداء پر زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور پھر جب لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ (شام کا لشکر مکہ پہنچنے سے پہلے ہی زمین بوس کردیا گیا ہے، تو ملک شام کے ابدال اور عراق کے عصائب اس شخص کی خدمت میں پہنچیں گے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے پھر قریش میں سے ایک شخص اٹھے گا جس کے ننہیال قبیلہ کلب کی مدد حاصل کرے گا لیکن اس شخص کا لشکر اسی قریشی کے لشکر پر غالب آجائے گا پھر وہ شخص لوگوں کے درمیان ان کے پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ کی روش اور ان کے طریقہ کے مطابق (ملک وملت کا) نظم ونسق چلائے گا اور مسلمانوں کا دین اپنی گردن زمین پر رکھدے گا وہ شخص سات سال تک قائم و برقرار رہے گا، پھر جان بحق ہوجائے گا اور مسلمان اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ ( ابوداؤد ) تشریح حدیث میں جس ہستی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے حضرت امام مہدی ؓ کی ذات گرامی مراد ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ ابوداؤد نے اس روایت کو باب المہدی میں نقل کیا ہے۔ مدینہ سے مراد یا تو مدینہ طیبہ ہے، یا وہ شہر مراد ہے جہاں مذکورہ خلیفہ یا سربراہ حکومت کا انتقال ہوگا اور اس کے جانشین کے انتخاب پر لوگوں میں اختلاف ونزاع پیدا ہوجائے گا اس موقع پر حضرت امام مہدی ؓ کا مکہ بھاگ جانا، مذکورہ اختلاف ونزاع کے فتنہ سے بچنے کے لئے ہوگا اور مکہ چلے جانے کو ترجیح اس لئے دیں گے کہ وہ شہر مقدس نہ صرف یہ کہ ہر اس شخص کے لئے جائے امن ہے جو اس میں پناہ لینے کا طالب ہو بلکہ سکون و عافیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہنے کی سب سے بہتر جگہ ہے۔ بیداء اصل میں جنگل اور ہموار زمین کو کہتے ہیں اور مکان پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے لیکن یہاں حدیث میں بیداء سے ایک مقام مراد ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ شام کے لشکر سے مراد سفیانی کا لشکر ہے، نیز اس لشکر کا امام مہدی کے خلاف محاذ آرائی کے لئے آنا دراصل سفیانی حکومت کا پیدا کردہ ایک فتنہ ہوگا جو حضرت امام مہدی کے ظاہر ہونے کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے اس بارے میں تقریبا تواتر کے ساتھ متعدد احادیث منقول ہیں ان میں سے ایک صحیح حدیث وہ ہے جس کو امیرالمؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس طرح نقل کیا ہے کہ۔ وہ سفیانی (جو آخر زمانہ میں شام کے علاقوں پر قابض و حکمران ہوگا) نسلی طور پر خالد ابن یزید ابن معاویہ ابن ابواسوی کی پشت سے تعلق رکھتا ہوگا، وہ بڑے سر اور چیچک زدہ چہرے والا ہوگا، اس کی آنکھ میں ایک سفید دھبہ ہوگا، دمشق کی طرف اس کا ظہور ہوگا اس کے تابعداروں کی جماعت زیادہ تر قبیلہ کلب سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہوگی، لوگوں کا خون بہانا اس کی خاص عادت ہوگی، یہاں تک کہ وہ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر کے بچوں کو ہلاک کردیا کرے گا، وہ جب حضرت امام مہدی کے ظہور کی خبر سنے گا تو ان سے جنگ کرنے کے لئے ایک لشکر بھیجے گا جو شکست کھاجائے گا، اس کے بعد وہ سفیانی بذات خود ایک لشکر لے کر حضرت امام مہدی کے مقابلہ کے لئے چلے گا لیکن وہ مقام بیداء پر پہنچ کر اپنے تمام لشکر والوں کے ساتھ زمین میں دھنس جائے گا اور کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچے گا صرف ایک وہ شخص بچ جائے گا جو حضرت امام مہدی کو سفیانی اور اس کے لشکر کے عبرتناک حشر کی خبر پہنچائے گا۔ ابدال اولیاء اللہ کے ایک گروہ کو کہتے ہیں جن کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کائنات کے نظام کو برقرار اور استوار رکھتا ہے دنیا میں کل ابدال کی تعداد ستر رہتی ہے، اس میں چالیس ابدال تو شام میں رہتے ہیں اور تیس ابدال باقی ملکوں میں ان اولیاء اللہ کو ابدال اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان کی ادلی بدلی ہوتی رہتی ہے، یعنی جب ان میں سے کوئی مرجاتا ہے تو اس کے بدلے میں کوئی دوسرا مقرر کردیا جاتا ہے یا ان کو ابدال اس اعتبار سے کہتے ہیں کہ وہ ایسی مقدس ہستیاں ہیں جو عبادت و ریاضت کے ذریعہ ابنے اندر سے تمام بری عادتیں اور ناپسندیدہ خصلتیں ختم کردیتے ہیں اور ان کے بدلے میں اچھی عادتیں اور اعلیٰ اخلاق پیدا کرلیتے ہیں! اس مقدس گروہ کے بارے میں احادیث میں ذکر آیا ہے گو سیوطی نے سنن ابوداؤد کی شرح میں لکھا ہے کہ ابدال کا ذکر صحاح ستہ میں نہیں آیا ہے علاوہ ابوداؤد کی اس حدیث کے جو یہاں نقل ہوئی ہے، اس حدیث کو حاکم نے بھی نقل کیا ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے، تاہم سیوطی نے صحاح ستہ کے علاوہ دوسری مستند و معتبر کتابوں سے ایسی بہت سی احادیث کو جمع الجوامع میں نقل کیا ہے جن میں ابدال کا ذکر ہے، ان میں سے اکثر احادیث میں چالیس کا عدد مذکور ہے اور بعض میں تیس کا انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ایک یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ابدال نے جو یہ اعلیٰ درجہ پایا ہے وہ بہت زیادہ نماز روزہ کرنے کی وجہ سے نہیں پایا ہے اور نہ ان عبادتوں کی وجہ سے ان کو تمام لوگوں سے ممتاز کیا گیا ہے بلکہ انہوں نے اتنا اعلیٰ درجہ سخاوت نفس، سلامتی دل اور مسلمانوں کی خیر خواہی رکھنے کی وجہ سے پایا ہے نیز آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ علی! میری امت میں ایسے لوگوں کا وجود کہ جو ابدال کی صفت کے حامل ہوں، سرخ گندھک سے بھی زیادہ نادر ہے یعنی جس طرح سرخ گندھک بہت کمیاب چیز ہے اسی طرح دنیا میں ابدال بھی کم ہیں۔ ایک اور حدیث میں، جو حضرت معاذ بن جبل ؓ سے منقول ہے، یہ فرمایا گیا ہے کہ جس شخص میں تین صفتیں یعنی رضا بالقضاء، ممنوعات سے کلی احتراز اور اللہ کے دین کی خاطر غصہ کرنا، پائی جائیں اس کا شمار ابدال کی جماعت میں ہوتا ہے؟ نیز امام غزالی (رح) نے احیاء العلوم میں نقل کیا ہے کہ جو شخص روزانہ تین مرتبہ یہ دعا پڑھنے کا التزام رکھے اس کے لئے ابدال کا درجہ لکھا جاسکتا ہے، دعا یوں ہے آیت ( اللہم اغفر لا مۃ محمد، اللہم ارحم امۃ محمد، اللہم تجاوز عن امۃ محمد۔ اے اللہ! امت محمدی کی مغفرت فرما، اے اللہ امت محمدی پر رحم فرما، اے اللہ امت محمدی کے گناہوں سے درگذر فرما۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص اپنے اندر سے تمام انسانی و اخلاقی برائیاں بدل ڈالے اپنے نفس کو پوری طرح پاکیزہ اور مہذب بنا لے اور مخلوق الٰہی کا خیر خواہ ہوجائے، تو اس کا شمار ابدال کی جماعت میں ہوگا۔ عصائب بھی اولیاء اللہ کے ایک گروہ کا نام ہے جیسا کہ ابدال! حضرت علی کرمہ اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ ابدال شام کے ملک میں رہتے ہیں، عصائب عراق کے ملک میں اور نجبا مصر کے ملک میں ( ابدال اور عصائب کی طرح نجباء بھی اولیاء اللہ کی قسموں میں سے ایک قسم ہے) نیز بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ عصائب ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اپنے معاشرہ میں سب سے زیادہ، عابد و زاہد اور نیک ہوں یہ وضاحت غالباً لغوی معنی کے اعتبار سے ہے، کیونکہ لغت میں عصب القوم قوم کے نیک ترین لوگوں کو کہتے ہیں۔ قبیلہ کلب کی لشکر آرائی اور اس کی طرف سے قتل و قتال کا واقع ہونا آخر زمانہ میں ایک فتنہ کے طور پر ظاہر ہوگا اور یہ فتنہ بھی حضرت امام مہدی ؓ کے ظہور کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ اور مسلمانوں کا دین اپنی گردن پر رکھ دے گا کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام قائم اور پائیدار ہوجائے گا شریعت کی فرمانروائی پورے سکون و اطمینان کے ساتھ جاری ہوجائے گی اور تمام مسلمان آسودگی و اطمینان کے ساتھ زندگی گذاریں گے واضح رہے کہ جران اونٹ کی گردن کے اس اگلے حصہ کو کہتے ہیں جو ذبح کی جگہ سے نحر کی جگہ تک ہوتا ہے، اونٹ جب چلتے چلتے ٹھہر جاتا ہے اور آرام لینے کے لئے بیٹھتا ہے تو اپنی گردن کے اس حصہ کو زمین پر دراز کردیتا ہے جس سے اس کو بہت راحت ملتی ہے پس یہاں دین کو اونٹ کی گردن سے تشبیہہ دینے کا مقصد اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ حضرت امام مہدی کے زمانہ میں اسلام کو ثبات وقرار مل جائے گا کہ مسلمانوں کے درمیان کوئی خلفشار نہیں ہوگا، باہمی مخالفت ومناقشت اور جنگ وجدال کا نام ونشان تک مٹ جائے گا، دین واسلام کی برتری، احکام سنت کی پابندی اور ملی نظام کی خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔

5362Mishkaat-al-Masabih

مہدویت کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کی تردید

اس موقع پر یہ بتادینا ضروری ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ وہ مہدی ہیں ان میں سے بعض لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے مہدی کے لغوی معنی ہدایت کرنے والا، مراد لیتے ہوئے اپنے کو مہدی کہا یا کہلوایا ہے، ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کے بارے میں کوئی تردیدی بات نہیں کہی جاسکتی، کیونکہ اگر وہ واقعہ ہدایت وراستی کی روشنی پھیلانے والے تھے اور ان کے ذریعہ مخلوق اللہ دین وآخرت کی صحیح رہنمائی حاصل کرتی تھی تو لغوی طور پر ان کو مہدی کہا جاسکتا ہے لیکن وہ لوگ کہ جنہوں نے محض دنیا والوں کو فریب میں مبتلا کرنے اور اپنی شخصیت کو غلط طور پر لوگوں کا مرجع ومقتدا بنانے کے لئے خود کو مہدی موعود کہا یا کہلوایا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ باکل جھوٹے اور مکار تھے، چناچہ ایسے لوگوں نے مکرو فریب کے جال پھیلا کر اور سادہ لو، مسلمانوں کو ورغلا کر اپنے تابعداروں کی جماعت تیار کی اور بعضوں نے تو اوباش اور بدقماش افراد تک کو خرید کر اپنے گرد جمع کیا اور ان کے ذریعہ نہ صرف یہ کہ اپنے مہدی موعود ہونے کا پروپیگنڈہ کرایا بلکہ بعض شہروں اور ملکوں میں فتنہ و فساد پھیلا یا، لڑائی جھگڑا کرایا اور آخر کار ان کا انجام بہت برا ہوا کہ صحیح العقیدہ مسلمانوں نے ان کی بھر پور مدافعت کی اور انہیں تہ تیغ کرکے ان شہروں اور ملکوں کے لوگوں کو ان کے فتنہ و فساد سے نجات دلائی! خود ہمارے ہندوستان میں ایسے ہی گمراہ لوگوں کی ایک جماعت پیدا ہوچکی ہے جو اپنے کو مہدویہ کہلاتی تھی اس جماعت کے لوگ بہت جاہل اور پست خیال تھے ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ مہدی موعود ہمارے پیشوا کی صورت میں ظاہر ہوا پھر وفات پا گیا اور خراسان کے ایک شہر میں دفن کردیا گیا! ان کی گمراہیوں میں سے ایک بڑی گمراہی، ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ جو شخص ہمارے نظریہ و خیال کا عقیدہ نہ رکھے اور ہماری بات سے متفق نہ ہو وہ کافر ہے۔ اسی بنا پر اس زمانہ میں مکہ کے چاروں مسلک کے علماء نے متفقہ طور پر یہ فتویٰ دیا تھا کہ صاحب اقتدار مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ ان گمراہ لوگوں کو قتل کردیں اسی طرح شیعہ حضرات کا یہ اعتقاد اور قول بھی بالکل فاسد ہے کہ مہدی موعود دراصل محمد ابن حسن عسکری ہیں جن کا انتقال نہیں ہوا ہے بلکہ وہ نظروں سے پوشیدہ ہوگئے ہیں، وہ امام زماں ہیں اور اپنے وقت پر ظاہر ہو کر اپنی امامت اور حاکمیت کا اعلان کر دینگے اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ قول بھی سرے سے غلط اور باطل ہے، نیز اس کی تردید میں علم کلام کی کتابیں دلائل سے بھری ہوئی ہیں، علاوہ ازیں کتاب عروہ الوثقی میں یہ وضاحت کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ حضرت محمد ابن حسن عسکری کا انتقال ہوگیا ہے۔ ٢١ اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے انسان کو سخت مصیبت اور پریشانیوں میں مبتلا کرنے والی ایک بلا و آفت کا ذکر کیا جو اس امت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی یہاں تک کہ کسی شخص کو کوئی ایسی پناہ گاہ نہیں ملے گی جہاں وہ اس آفت وبلا کی صورت میں رونما ہونے والے ظلم وستم سے پناہ حاصل کرسکے پھر جب ظلم وستم اور ناانصافی کا وہ دور اپنی حد کو پار کر جائے گا تو اللہ تعالیٰ میری اولاد اور میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو کہ جو عدل و انصاف اور علم و دانائی میں یکتا ہوگا اور جو مہدی کے لقب سے ملقب ہوگا، امامت کے منصب سے سرفراز کر کے اس دنیا میں بھیجے گا، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھری ہوئے تھی، اس سے آسمان والے بھی خوش ہوں گے یعنی فرشتے اور انبیاء کرام کی روحیں اور تمام زمین کے رہنے والے بہی راضی و مطمئن ہوں گے خواہ وہ کسی جنس اور نوع سے تعلق رکھتے ہوں، یہاں تک کہ جنگل کے جانور اور پانی کی مچھلیاں بہی آسمان اپنے مینہ کے قطروں میں سے کچھ باقی رکھے بغیر کثرت سے پانی برسائے گا اور زمین اپنی روئیدگی میں سے کچھ باقی رکھے بغیر سب کچھ اگادے گی یہاں تک کہ زندہ لوگ مردوں کی آرزوئیں کرنے لگیں گے وہ شخص یعنی مہدی اس خوشحال و کامرانی کے ساتھ سات برس یا آٹھ برس یا نو برس زندہ رہے گا۔ تشریح آسمان اپنے مینہ کے قطروں میں سے۔۔ الخ۔ کا حاصل یہ ہے کہ حضرت مہدی کے زمانہ میں خیر و برکت کا یہ حال ہوگا کہ بارش وقت اور ضرورت کے مطابق بھر پور طور سے ہوا کرے گی، زراعتی پیداوار اور زمین سے حاصل ہونے والی چیزیں نہایت فراونی کے ساتھ پیدا ہوں گی اور اسطرح ہر طرف خوشحالی اور چین و راحت کا دور دورہ ہوگا اور لوگ نہایت پر مسرت اور ارام کی زندگی گزاریں گے۔ زندہ لوگ مردوں کی آرزو کرنے لگیں گے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانہ کے لوگ اس قدر پر مسرت اور خوش حال زندگی گزرایں گے کہ مرے ہوئے لوگوں کے وجود اور حیات کی تمنا کرنے لگیں گے اور کہیں گے کہ کاش وہ لوگ ہمارے زمانہ میں ہوتے تو انہیں بھی اس پر مسرت اور خوشحال زندگی کے دن دیکھنا نصیب ہوتے! واضح رہے کہ بعض لوگوں نے لفظ احیاء کو الف کے زیر کے ساتھ یعنی مصدر پڑھا ہے جس کے معنی ہیں زندہ کرنا! اس صورت میں اس جملہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ خود مردے یہ آرزو کرنے لگیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندگی بخش کر دنیا میں بھیج دے تاکہ وہ بھی مسرت و خوشحالی کا دور دیکھ لیں لیکن یہ بات اظہار مبالغہ کے لئے ایک ناممکن چیز کو ممکن فرض کرنے کے طور پر ہے بشرطیکہ احیاء یعنی الف کے زیر کے ساتھ والی روایت ثابت ہو، ورنہ اس بات کی ایک احتمال سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں۔ یا آٹھ یا نو برس کے الفاظ یا تو راوی کے شک کو ظاہر کرنے کے لئے ہیں کہ یہ روایت نقل کرتے وقت راوی کو صحیح طور پر یاد نہیں تھا کہ حضور ﷺ نے یہاں سات سال کا عدد ذکر فرمایا تھا یا آٹھ کا یا نو کا یا یہ الفاظ خود حضور ﷺ کے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کو ارشاد فرماتے وقت تک آپ ﷺ کو بھی مبہم طور پر ہی معلوم تھا، جس کو آپ ﷺ نے ساتھ یا آٹھ یا نو برس کے ذریعہ بیان فرمایا لیکن پھر بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو تعیین کے ساتھ سات سال کی مدت بتائی گئی، چناچہ آپ ﷺ نے اس کے بعد احادیث میں صرف سات سال کا ذکر فرمایا ہے۔ مشکوۃ کے اصل نسخے میں لفظ رواہ کے بعد جگہ خالی ہے، البتہ بعد میں یہ عبارت شامل کی گئی ہے الحاکم فی مستدر کہ وقال صحیح یعنی اس روایت کو حاکم نے اپنی کتاب مستدرک میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

5363Mishkaat-al-Masabih

ایک پیشگوئی

وعن علي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج رجل من وراء النهر يقال له الحارث حراث على مقدمته رجل يقال له منصور يوطن أو يمكن لآل محمد كما مكنت قريش لرسول الله وجب على كل مؤمن نصره أو قال إجابته . رواه أبو داود .

اور حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ماوراء النہر کے کسی شہر میں ایک پاک باز و صالح شخص ظاہر ہوگا جس کا نام حارث حراث ہوگا، اس کے لشکر کے اگلے حصہ پر ایک شخص ہوگا جس کا نام منصور ہوگا، وہ حارث، محمد ﷺ کی اولاد کو جگہ یا ٹھکانہ دے گا جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ کو قریش کے لوگوں نے ٹھکانہ دیا تھا پس ہر مسلمان پر واجب ہوگا کہ اس شخص کی مدد تائید کرے یا یہ فرمایا کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اس شخص کو قبول کرے۔ (ابو داؤد) تشریح ما وراء النہر کے معنی ہیں وہ علاقے جو نہر کے پیچھے ہیں اور اس سے مراد وہ خطہ ہوتا ہے جس میں بخارا اور سمر قند وغیر شہر واقع ہیں! حارث حراث میں حارث تو اصلی نام ہے اور حراث اس کی صفت ہے یعنی کھیتی کرنے والا۔ یوطن اویمکن (جگہ یا ٹھکانہ دے گا) میں حرف او یا تو راوی کے شک کو ظاہر کرنے کے لئے ہے، یا اور کے معنی میں ہے اس صورت میں اس جملہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ شخص محمد ﷺ کی اولاد کو اپنی طرف سے مال و اسباب، ہتھیار، اسلحہ اور روپیہ پیسہ فراہم کرے گا، ان کی حکومت و خلافت کو پائیدار اور مستحکم بنائے گا، مختلف ذرائع اور طریقوں سے ان کو تقویت پہنچائے گا اور اپنے لشکر کے ذریعہ ان کی مدد کرے گا۔ محمد ﷺ کی اولاد سے مراد عمومی طور پر حضور ﷺ کی تمام ذریت اور آپ کے اہل بیت ہیں اور خصوصی طور پر حضرت امام مہدی کی ذات مراد ہے یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ محمد کی اولاد کا لفظ تو زائد ہے اور محمد سے مراد حضرت امام مہدی ہیں۔ قریش کے لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے ایمان قبول کیا تھا اور تن من دھن سے حضور ﷺ کی مدد واعانت کی تھی جیسے حضرت ابوبکر صدیق وغیرہ رسول اللہ ﷺ کو ٹھکانا دینے والوں میں ابوطالب بھی شامل ہیں اگرچہ انہوں نے ایمان قبول نہیں کیا تھا یا یہ فرمایا کہ اس شخص کو قبول کرو کے الفاظ راوی کی طرف سے اس شک کے اظہار کے لئے ہیں حضور ﷺ نے اس موقع پر یا تو نصرہ کا لفظ ارشاد فرمایا تھا یا اجابتہ کا لفظ نیز اس حدیث کے سیاق سے اور اس سلسلہ میں منقول دوسری احادیث کے اسباق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے جس شخص کے ظاہر ہونے کی پیشین گوئی فرمائی ہے وہ اپنی امامت و خلافت کے دعوے کے ساتھ ظاہر ہوگا یعنی اس کا ظہور سربراہ حکومت کی صورت میں ہوگا اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری مسلمانوں پر واجب ہوگی اور منصور نامی شخص اس کی فوج کا کمانڈر ہوگا ویسے بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ حضور ﷺ نے منصور نام کے جس شخص کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس کا ظہور ہوچکا ہے اور وہ مشہور عالم حضرت ابومنصور ما تریدی تھے، جن کا درجہ، حنفی فقہ کے اصول کے مدون کی حیثیت سے حنفیہ میں امام کا سمجھا جاتا ہے اور ان کی ذات حنفی اصول فقہ کی مدار ہے۔

5364Mishkaat-al-Masabih

ایک پیشگوئی

وعن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده لا تقوم الساعة حتى تكلم السباع الإنس وحتى تكلم الرجل عذبة سوطه وشراك نعله ويخبره فخذه بما أحدث أهله بعده . رواه الترمذي .

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک درندے آدمیوں سے ہمکلام نہ ہونے لگیں گے اور جب تک آدمی کے کوڑے (چابک) کا پھندنا اور اس کے جوتے کا تسمہ اس سے باتیں نہ کرنے لگے گا اور (یہی نہیں بلکہ) انسان کی ران اس کو یہ بتایا کرے گی کہ اس کے اہل و عیال نے اس کی عدم موجدگی میں کونسے نئے کام اور کیا نئی بات کی ہے۔ (ترمذی)

5365Mishkaat-al-Masabih

قیامت کی علامتیں کب سے ظاہر ہوں گی ؟

عن أبي قتادة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الآيات بعد المائتين . رواه ابن ماجه .

حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ نشانیاں دو سو برس کے بعد ظہور میں آئیں گی۔ ( ابن ماجہ) تشریح حضور ﷺ کے فرمانے کا مطلب یہ تھا کہ جن چیزوں اور جن باتوں کو قیامت کی علامتیں اور نشانیاں قرار دیا گیا ہے ان کا ظاہر ہونا اور پیش آنا پورے دو سو برس کے بعد سے شروع ہوجائے گا! رہی یہ بات کہ یہ دو سو برس کس وقت سے مراد تھے؟ ہجرت نبوی کے وقت سے، یا اسلام کی روشنی کے ظہور کے وقت سے اور یا وفات نبوی ﷺ کے وقت سے دو سو برس کی مدت مراد تھی اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ لفظ المأتین پر حرف لام عہد کے لئے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کی علامتیں دو سو برس کی اس مدت کے بعد ظاہر ہونا شروع ہونگی جس کی ابتدا ہزار سال کے بعد سے ہوگی، مزید وضاحت کے لئے یوں کہا جاسکتا ہے کہ دو سو برس سے گویا بارہ سو برس مراد ہیں اور یہ وہ زمانہ ہوگا جب قیامت کی چھوٹی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہوں گی اور بڑی نشانیاں جیسے حضرت مہدی کے ظہور، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول، دجال کے نکلنے اور دوسری پے درپے علامتوں کے ظاہر ہونے یعنی سورج کے مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہونے، دابہ الارض کے نکلنے اور یاجوج ماجوج کے ظاہر ہونے وغیرہ وغیرہ کا وقت قریب تر آجائے گا اور اہل علم محسوس کرنے لگیں گے کہ دنیا اپنی عمر کی آخری حدوں کو پہنچ گئی ہے۔

5366Mishkaat-al-Masabih

ایک ہدایت

وعن ثوبان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رأيتم الرايات السود قد جاءت من قبل خراسان فأتوها فإن فيها خليفة الله المهدي . رواه أحمد والبيهقي في دلائل النبوة .

اور حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم خراسان کی جانب سے سیاہ نشان آتے دیکھو تو اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ، کیونکہ اس میں اللہ کا خلیفہ مہدی ہوگا۔ اس روایت کو امام احمد نے اور دلائل النبوۃ میں بیہقی نے نقل کیا ہے۔ تشریح سیاہ نشان سے بظاہر مراد حارث اور منصور کا لشکر ہے جس کی طرف سے پیچھے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا گیا تھا اور متوجہ ہونے سے مراد اس لشکر میں شامل ہونا اور آنے والوں کے امراء و احکام کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہے! مہدی سے مراد اس کے لغوی معنی ہیں یعنی وہ خلیفہ یا سربراہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہوگا بلکہ اللہ کی طرف سے ہدایت پایا ہوا اور لوگوں کو ہدایت اور راستی کی راہ پر لگانے والا ہوگا، جس کی سربراہی کو قبول کرنا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہوگا۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی میں مہدی سے نہ تو حضرت مہدی مراد ہیں اور نہ اس سے اس بات کا تضاد لازم آتا ہے کہ مہدی کا ظہور حرمین شریفین سے ہوگا۔

5367Mishkaat-al-Masabih

امام مہدی، حضرت امام حسن کی اولاد میں سے ہونگے

وعن أبي إسحاق قال قال علي ونظر إلى ابنه الحسن قال إن ابني هذا سيد كما سماه رسول الله صلى الله عليه وسلم وسيخرج من صلبه رجل يسمى باسم نبيكم يشبهه في الخلق ثم ذكر قصة يملأ الأرض عدلا . رواه أبو داود ولم يذكر القصة .

اور اسحاق کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے صاحبزادے امام حسن کی طرف دیکھ کر کہا کہ میرا بیٹا جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا سردار ہے، غنقریب اس کی پشت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی ﷺ کے نام پر (محمد) ہوگا، وہ باطنی سیرت یعنی اخلاق و عادات میں حضور ﷺ کے مشابہ ہوگا گو ظاہری شکل و صورت میں آپ کے مشابہ نہیں ہوگا اس کے بعد حضرت علی نے وہ جملے بیان کئے جن میں فرمایا گیا ہے کہ وہ شخص زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ اس روایت کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے لیکن انہوں نے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینے والی بات نقل نہیں کی ہے۔ تشریح جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ ذریعہ حضرت علی نے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی کی طرف اشارہ فرمایا ابنی ہذا سید ولعل اللہ ان یصلح بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین یعنی میرا بیٹا سید (سردار) ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان مصالحت ومفاہمت کرائے گا۔ ظاہری شکل و صورت میں آپ ﷺ کے مشابہ نہیں ہوگا۔ یعنی حضرت مہدی سب چیزوں میں اور ہر اعتبار سے حضور ﷺ کی ظاہری شکل و صورت کے مشابہ نہیں ہوں گے، ویسے بعض اعتبار سے ان کا حضور ﷺ کی ظاہری مشابہت رکھنا ثابت ہے جیسا کہ پیچھے بیان ہوا۔ یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت امام مہدی حضرت امام حسن کی اولاد میں سے ہونگے اور حضرت امام حسین کی طرف ان کی نسبت ماں کی طرف سے ہوگی! نیز اس سے شیعہ حضرات کے اس قول کی تردید ہوجاتی ہے کہ امام مہدی دراصل محمد ابن حسن عسکری ہیں جو اس دنیا میں موجود ہیں لیکن نظروں سے پوشیدہ ہوگئے ہیں اور اپنے وقت پر ظاہر ہوں گے شیعوں کا یہ قول اس لئے صحیح نہیں ہوسکتا کہ محمد ابن حسن عسکری، بالاتفاق حسینی ہیں وہ حضرت امام حسن کی اولاد میں سے نہیں اگر یہ کہا جائے کہ حضرت علی نے امام حسن کی اولاد میں سے جس شخص کے پیدا ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے، ہوسکتا ہے اس سے مراد امام مہدی کے علاوہ کوئی اور شخص ہو تو یہ بات بھی خلاف حقیقت ہوگی، کیونکہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینے والی بات کی نسبت کی گئی ہو، سوائے اس کے کہ یہ صفت مہدی موعود کے بارے میں نقل کی جاتی ہے۔

5368Mishkaat-al-Masabih

ٹڈیوں کا مکمل خاتمہ قیامت کی علامت میں سے ہے

وعن جابر بن عبد الله قال فقد الجراد في سنة من سني عمر التي توفي فيها فاهتم بذلك هما شديدا فبعث إلى اليمن راكبا وراكبا إلى العرق وراكبا إلى الشام يسأل عن الجراد هل أرى منه شيئا فأتاه الراكب الذي من قبل اليمن بقبضة فنثرهابين يديه فلما رآها عمر كبر وقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن الله عز وجل خلق ألف أمة ستمائة منها في البحر وأربعمائة في البر فإن أول هلاك هذه الأمة الجراد فإذا هلك الجراد تتابعت الأمم كنظام السلك . رواه البيهقي في شعب الإيمان .

اور حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے جس سال وفات پائی ہے اس سال کا ذکر ہے کہ ٹڈیاں کم ہوگئیں، یعنی خلافت عمر کے آخری سال مدینہ اور اس کے گرد ونواح میں ٹڈی دل پیدا نہیں ہوا حضرت عمر نے اس کو خاص طور سے محسوس کیا اور ٹڈی دل نہ آنے سے سخت غمگین ہوگئے کہ کہیں ٹڈیوں کا مکمل خاتمہ تو نہیں ہوگیا پھر انہوں نے ایک سوار یمن کی طرف، ایک سوار عراق کی طرف اور ایک سوار شام کی طرف بھیجا تاکہ وہ پہنچ کر لوگوں سے دریافت کریں کہ آیا کسی شخص نے کہیں کچھ ٹڈیاں دیکھی ہیں یا نہیں؟ چنانچھ جس سوار کو یمن بھیجا گیا تھا وہ ایک مٹھی ٹڈیاں لے کر حضرت عمر کے پاس آیا اور ان کے سامنے وہ ٹڈیاں ڈال دیں، حضرت عمر نے ٹڈیاں دیکھیں تو خوشی سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور پھر فرمایا کہ میں ٹڈیوں کے مکمل خاتمہ کے خوف سے اس لئے متفکر اور پریشان ہوگیا تھا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے خداوند بزرگ و برتر نے حیوانات کی ہزار قسمیں پیدا کی ہیں، ان میں چھ سو دریا میں ہیں یعنی بحری حیوانات اور چار سو جنگل میں یعنی خشکی کے حیوانات ہیں اور جب قیامت آنے کو ہوگی تو اس میں سب سے پہلے ٹڈیاں ہلاک ہو نگی، چناچہ جب ٹڈیاں ہلاک ہوں گی تو پھر حیوانات کی دوسری قسمیں بھی اس طرح پے در پے ہلاک ہونا شروع ہوجائیں گی جس طرح موتیوں کی لڑی کھل جاتی ہے اور موتی پے درپے گر کر بکھر نے لگتے ہیں۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔