جنت مانگنے اور آگے سے پناہ چاہنے والوں کے لئے جنت وآگ کی سفارش
وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سأل الله الجنة ثلاث مرات قالت الجنة : اللهم أدخله الجنة ومن استجار من النار ثلاث مرات قالت النار : اللهم أجره من النار رواه الترمذي والنسائي
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ جنت مانگتا ہے (یعنی تین مرتبہ یہ دعا کرتا ہے۔ (اللہم انی اسئلک الجنۃ) اے اللہ میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں یا یوں کہے۔ دعا (اللہم ادخلنی الجنۃ )۔ اے اللہ مجھے جنت میں داخل کر۔ اور یا کسی بھی زبان میں اس مفہوم و مضمون کو تین مرتبہ کہتا ہے) تو جنت کہتی ہے کہ اے اللہ تو اس کو جنت میں داخل کر۔ اور جو شخص تین بار آگ سے پناہ مانگتا ہے۔ یعنی تین مرتبہ یوں کہتا ہے دعا (اللہم اجرنی من النار)! اے اللہ مجھے آگ سے محفوظ رکھ۔ یا اسی مفہوم و مضمون کو کسی بھی زبان میں تین مرتبہ ادا کرتا ہے تو آگ کہتی ہے کہ اے اللہ! تو اس شخص کو آگ سے محفوظ رکھ۔ یا اسی مفہوم و مضمون کو کسی بھی زبان میں تین مرتبہ ادا کرتا ہے تو آگ کہتی ہے کہ اے اللہ! تو اس شخص کو آگ سے محفوظ رکھ۔ (ترمذی، نسائی)
تشریح
تین مرتبہ چاہے تو ایک ہی مجلس میں یہ دعا مانگی جائے اور چاہئے کئی مجلسوں میں، لیکن ضروری ہے کہ دعا کے وقت حضور اخلاص، تضرع، عجز اور انکساری و لجاجت زبان کے ہم نوا ہوں۔
عن القعقاع : أن كعب الأحبار قال : لولا كلمات أقولهن لجعلتني يهود حمارا فقيل له : ما هن ؟ قال : أعوذ بوجه الله العظيم الذي ليس شيء أعظم منه وبكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر وبأسماء الله الحسنى ما علمت منها وما لم أعلم من شر ما خلق وذرأ وبرأ . رواه مالك
حضرت قعقاع کہتے ہیں کہ حضرت کعب احبار فرماتے تھے کہ اگر میں وہ کلمات نہ کہا کرتا تو یہود مجھے گدھا بنا ڈالتے۔ ان سے پوچھا گیا وہ کلمات کیا ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ ہیں۔ دعا (اعوذ بوجہ اللہ العظیم الذی لیس شیء اعظم منہ وب کلمات اللہ التامات التی لایجاوزہن بر ولا فاجر وباسماء اللہ الحسنی ماعلمت منہا ومال اعلم من شر ماخلق وذرأ وبرأ)۔ میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی ذات کے ذریعہ جو بہت بڑا ہے وہ اللہ کہ کوئی چیز اس سے بڑی نہیں، اس کے کامل کلمات کے ذریعے کہ ان سے نہ کوئی نیک تجاوز کرتا ہے اور نہ کوئی بد، اللہ کے ناموں کے ذریعہ جو پاک و نیک ہیں اور ان میں سے جو کچھ میں جانتا ہوں اور جو کچھ میں نہیں جانتا اس چیز کی برائی سے جو اس پیدا کی اور پراگندہ و برابر کی (یعنی متناسب الاعضاء بنائی) (مالک)
تشریح
کعب الاحبار قوم یہود کے ایک بڑے دانشمند فرد تھے وہ اگرچہ آنحضرت ﷺ کے مبارک زمانہ میں تھے لیکن آپ ﷺ کے دیدار اور آپ ﷺ کی صحبت کے شرف سے محروم رہے۔ پھر بعد میں حضرت عمر ؓ کی خلافت کے زمانہ میں ایمان و اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے انہیں کعب کا بیان ہے کہ جب میں ایمان لایا اور مسلمان ہوا تو یہود میرے مخالف ہوگئے وہ میرے بارے میں اس قدر بغض و کینہ رکھتے تھے کہ اگر ان کی حرکتیں کامیاب ہوجاتیں اور میں یہ دعا نہ پڑھتا تو وہ سحر کر کے مجھے گدھا بنا دیتے یعنی مجھے ذلیل و بیوقوف اور گدھے کی مانند مسلوب العقل کردیتے۔ اللہ کے کامل کلمات سے مراد قرآن ہے چناچہ ان سے تجاوز نہ کرنے کے معنی ہیں کہ اس کے ثواب و عذاب وغیرہ سے کوئی بھی خارج نہیں ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جس شخص کو اجر وثواب دینے کا وعدہ کیا ہے یا جس شخص کو عذاب میں مبتلا کردینے کا فیصلہ کیا ہے یا اور جن چیزوں کا بیان کیا ہے وہ سب بلاشبہ انجام پذیر ہوتا ہے اور اس میں کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں۔ یا پھر اللہ کے کلمات سے مراد صفات الٰہی اور علوم الٰہی ہیں کہ ان سے بھی کوئی چیز باہر نہیں یہ سب کو محیط یعنی گھیرے ہوئے ہیں۔
وعن مسلم بن أبي بكرة قال : كان أبي يقول في دبر الصلاة : اللهم إن أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر فكنت أقولهن فقال : أي بني عمن أخذت هذا ؟ قلت : عنك قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقولهن في دبر الصلاة . رواه النسائي والترمذي إلا أنه لم يذكر في دبر الصلاة وروى أحمد لفظ الحديث وعنده : في دبر كل صلاة
حضرت مسلم بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ مرے والد ہر نماز یا فرض نماز کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الکفر والفقر و عذاب القبر) اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کفر سے، فقر سے (یعنی قلبی فقر کے فتنہ سے کہ جو بےصبری اور کفران نعمت وغیرہ ہے) اور عذاب قبر سے چناچہ میں بھی ان کلمات کو پڑھا کرتا تھا ایک دن میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ میرے بیٹے تم نے یہ کلمات کس سے سیکھے؟ میں نے کہا آپ سے! انہوں نے فرمایا کہ رسول ﷺ نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ اس روایت کو نسائی اور ترمذی نے نقل کیا ہے۔ لیکن ترمذی نے فی دبر الصلوۃ (نماز کے بعد) کے الفاظ نقل نہیں کئے ہیں۔ امام احمد نے صرف حدیث کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ (یعنی ان کی روایت میں مسلم بن ابی بکرہ اور ان کے باپ کا ذکر نہیں ہے) نیز ان کی روایت میں فی دبر کل الصلوۃ (ہر نماز کے بعد) کے الفاظ ہیں یعنی ان کی روایت میں لفظ کل بھی ہے۔
وعن أبي سعيد قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أعوذ بالله من الكفر والدين فقال رجل : يا رسول الله أتعدل الكفر بالدين ؟ قال : نعم . وفي رواية اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر . قال رجل : ويعدلان ؟ قال : نعم . رواه النسائي
حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ کلمات فرماتے سنا ہے۔ دعا (اعوذ باللہ من الکفر والدین)۔ یعنی میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کفر اور قرض سے۔ ایک شخص نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ نے کفر کو قرض کے برابر کردیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اور ایک روایت میں یہ دعا منقول ہے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الکفر والفقر)۔ یعنی اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں کفر سے اور فقر سے۔ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ کیا کفر اور فقر دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں!۔ (نسائی)
تشریح
کفر اور قرض کو برابر اس لئے فرمایا کہ قرض کی وجہ سے انسان جھوٹ بولتا ہے، مکاری کرتا ہے اور وعدہ کے خلاف کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ بدترین خصلتیں کفار اور منافقین ہی میں ہوتی ہیں۔ کفر اور فقر کو برابر بایں معنی کیا گیا ہے کہ فقر کی وجہ سے انسان بےصبری کرتا ہے، اپنی قسمت کو کوستا ہے، تقدیر کا گلہ کرتا ہے اپنی زبان سے ایسے الفاظ نکال بیٹھتا ہے جو کفر کا باعث ہوتے ہیں۔