مختلف اوقات کی دعاؤں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 57 · 42 hadiths · Page 3 of 3

2485Mishkaat-al-Masabih

بازار میں آنحضرت ﷺ کی دعا

وعن بريدة قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا دخل السوق قال : بسم الله اللهم إني أسألك خير هذه السوق وخير ما فيها وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها اللهم إني أعوذ بك أن أصيب فيها صفقة خاسرة . رواه البيهقي في الدعوات الكبير

حضرت بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بازار میں آتے تو یہ دعا پڑھتے۔ (بسم اللہ اللہم انی اسألک خیر ہذہ السوق وخیر ما فیہا واعوذ بک من شرہا وشر ما فیہا اللہم انی اعوذبک من ان اصیب فیہا صفقۃ خاسرۃ)۔ آیا میں اللہ کے نام کے ساتھ! اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں بھلائی اس بازار کی (یعنی حلال رزق میسر ہو اور اس میں نفع و برکت ہو) اور اس چیز کی بھلائی جو اس میں ہے (یعنی لوگ) اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جو اس میں ہے (یعنی فاسد خریدو فروخت اور نقصان اور فاسد لوگ) اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ اس بازار میں کسی نقصان دہ معاملہ سے دو چار ہوں۔ (بیہقی)

2486Mishkaat-al-Masabih

پناہ مانگنے کا بیان

اس باب میں ان دعاؤں پر مشتمل احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں اکثر غیر پسندیدہ، غیر شرعی اور نقصان دہ چیزوں اور شیطان کے مکر و فریب سے اللہ رب العزت کی پناہ مانگنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ کلام اللہ پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا افضل ہے یا استعیذ باللہ اکثر حضرات کہتے ہیں کہ استعیذ باللہ پڑھنا افضل ہے کیونکہ قرآن کریم سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے آیت (واذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ)۔ تاہم احادیث وآثار سے چونکہ اعوذ باللہ پڑھنا بھی ثابت ہے اس لئے اس کو پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔