گناہ کی زیادتی قلب کو زنگ آلود کردیتی ہے
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المؤمن إذا أذنب كانت نكتة سوداء في قلبه فإن تاب واستغفر صقل قلبه وإن زاد زادت حتى تعلو قلبه فذلكم الران الذي ذكر الله تعالى ( كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون ) رواه أحمد والترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ ہوجاتا ہے پھر اگر وہ اس گناہ سے توبہ کرلیتا ہے اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل اس نقطہ سیاہ سے صاف کردیا جاتا ہے اور اگر زیادہ گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے پس یہ ران یعنی زنگ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ۔ آیت (کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون)۔ یوں ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر یہ اس چیز یعنی گناہ کا زنگ ہے جو وہ کرتے تھے یہاں تک کہ ان کے دلوں پر خیر و بھلائی بالکل باقی نہیں رہی۔ اس روایت کو احمد، ترمذی، ابن ماجہ نے نقل کیا ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
یہاں تک کہ وہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے، کا مطلب یہ ہے کہ جوں جوں گناہ میں زیادتی ہوتی جاتی ہے توں توں وہ سیاہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پورے قلب پر حاوی ہوجاتا ہے اور قلب کے نور کو ڈھانپ لیتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ مومن دل کی بینائی سے محروم ہوجاتا ہے چناچہ نہ تو نفع دینے والے علوم اور نفع دینے والے نیک اعمال ہی کی کوئی اہمیت اس کی نظروں میں باقی رہتی ہے اور نہ فائدہ مند عقل و حکمت کی باتوں کا اس پر کوئی اثر ہوتا ہے اس طرح وہ شفقت و رحمت کے حیات آفرین وصف سے خالی ہوجاتا ہے کہ نہ اپنے اوپر رحم کرتا ہے اور نہ دوسروں کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ کرتا ہے اور آخر کار اس کے قلب میں ظلم وجہل اور شر و فتنہ کی تاریکی اپنا تسلط جما لیتی ہے جس کا نتیجہ اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ گناہ پر اس کی جرات بڑھ جاتی ہے اور معصیت آمیز زندگی ہی اس پر چھا جاتی ہے۔
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ غرغرہ کی کیفیت نہ شروع ہوجائے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
غرغرہ، انسانی زندگی کا وہ آخری درجہ ہے جب جسم و روح کا تعلق اپنے انقطاع کے انتہائی نقطہ کے بالکل قریب ہوتا ہے جان پورے بدن سے کھنچ کر حلق میں آجاتی ہے سانس اکھڑ کر صرف غرغر کی سی آواز میں تبدیل ہوجاتا ہے اور زندگی کی بالکل آخری امید بھی یاس و نا امیدی کے درجہ یقین پر پہنچ جاتی ہے۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی میں جب تک کہ غرغرہ کی کیفیت شروع نہ ہوجائے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک موت کا یقین نہیں ہوتا اس وقت تک تو توبہ قبولیت سے نوازی جاتی ہے مگر جب موت کا بالکل یقین ہوجائے یعنی مذکورہ بالا کیفیت شروع ہوجائے تو اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اس حدیث کے ظاہری اور واضح مفہوم سے تو یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ مرنے کے وقت مطلقاً توبہ صحیح نہیں ہوتی خواہ کفر سے توبہ ہو یا گناہوں سے یعنی اس وقت نہ تو کافر کا ایمان لانا صحیح و درست ہوگا اور نہ مسلمان کی گناہوں سے توبہ صحیح ہوگی چناچہ قرآن کریم کی آیت (وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّ يِّاٰتِ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْ ٰنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ اُولٰ ى ِكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِ يْمًا) 4۔ النساء 18) سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے لیکن بعض علماء اس بات کے قائل ہیں کہ گناہوں سے توبہ تو صحیح ہوگی لیکن کفر سے توبہ صحیح نہیں ہوگی گویا ان حضرات کے نزدیک یاس و ناامید کا ایمان غیر مقبول ہے اور یاس کی توبہ مقبول ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حدیث مذکورہ بالا کے تحت جو حکم بیان کیا گیا ہے۔ اس کا تعلق گناہوں سے توبہ کرنے سے ہے کہ حالت غرغرہ میں توبہ قبول نہیں ہوتی لیکن ایسی حالت میں اگر کسی سے اس کا کوئی حق معاف کرایا جائے اور وہ صاحب حق معاف کر دے یہ صحیح ہوگا۔
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الشيطان قال : وعزتك يا رب لا أبرح أغوي عبادك ما دامت أرواحهم في أجسادهم فقال الرب عز و جل : وعزتي وجلالي وارتفاع مكاني لا أزال أغفر لهم ما استغفروني رواه أحمد
حضرت ابوسعد ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ قسم ہے تیری عزت کی اے میرے پروردگار! میں تیرے بندوں کو ہمیشہ گمراہ کرتا رہوں گا جب تک کہ ان کی روحیں ان کے جسم میں ہیں! پروردگار عزوجل نے فرمایا قسم ہے اپنی عزت اور بزرگی کی اور اپنے مرتبہ کی بلندی کی، میرے بندے جب تک مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی ہمیشہ ان کو بخشتا رہوں گا۔ (احمد)
وعن صفوان بن عسال رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى جعل بالمغرب بابا عرضه مسيرة سبعين عاما للتوبة لا يغلق ما لم تطلع عليه الشمس من قبله وذلك قول الله عز و جل : ( يوم يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل ) رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت صفوان بن عسال ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مغرب کی جانب ایک دروازہ بنایا ہے جو توبہ کے لئے ہے اور جس کا عرض ستر سال کی مسافت کے بقدر ہے اور یہ دروازہ اس وقت تک بند نہیں کیا جائے گا جب تک کہ آفتاب مغرب کی سمت سے نکلے یعنی مغرب کی سمت سے آفتاب کا نکلنا قبولیت توبہ کا مانع ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کہ اس دن آویں گی بعض نشانیاں تیرے پروردگار کی نہیں نفع دے گا کسی ایسی جان کو ایمان لانا جو پہلے سے ایمان نہیں لائی تھی کا یہی مطلب ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
جو توبہ کے لئے ہے کا مطلب یہ ہے کہ توبہ کرنے والون کے لئے کھلا ہوا ہے یا یہ کہ وہ توبہ کے صحیح ہونے اور توبہ کے قبول ہونے کی علامت ہے! حاصل یہ کہ جب آفتاب مغرب کی جانب سے نہیں نکلتا لوگوں کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے جس کا جی چاہے اپنے شرک و کفر سے توبہ کرے اور جس کا جی چاہے اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اس دروازہ کے ذریعہ آخرت کی ابدی راحتوں اور سعادتوں کا مستحق ہوجائے۔ جب مغرب کی سمت سے آفتاب نکلے گا تو توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا حدیث میں جس آیت کریمہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ پوری یوں ہے۔۔ آیت (يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْ اِيْمَانِهَا خَيْرًا) 6۔ الانعام 158)۔ اس دن آویں گی بعض نشانیاں تیرے پروردگار کی (یعنی قرب قیامت پروردگار بعض نشانیاں ظاہر کرے گا ان ہی میں سے ایک نشائی یہ ہے کہ ایک دن آفتاب مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا اس دن نہیں نفع دے گا کسی ایسی جان کو ایمان لانا جو پہلے سے (یعنی پروردگار کی نشانی ظاہر ہونے سے پہلے) ایمان لائی تھی اور اس جان کو کہ جس نے حالت ایمان بھلائی (یعنی توبہ) نہیں کی تھی (اس دن اس کی توبہ اس کو کوئی نفع نہیں دے گی)۔ اس آیت کا حاصل یہی ہے کہ جس دن آفتاب مغرب کی سمت سے طلوع ہوگا تو جو شخص اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا یا ایمان پر تو ہوگا مگر توبہ نہیں کی ہوگی اب نہ اس کا ایمان نفع پہنچائے گا نہ اس کی توبہ کوئی فائدہ پہنچائے گی۔
وعن معاوية قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تنقطع الهجرة حتى ينقطع التوبة ولا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها . رواه أحمد وأبو داود والدارمي
حضرت معاویہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہجرت (یعنی گناہوں سے توبہ کی طرف رجوع) موقوف نہیں ہوگی تاوقتیکہ توبہ موقوف نہ ہو اور توبہ اس وقت تک موقوف نہیں ہوگی جب تک کہ آفتاب مغرب کی طرف سے نہ نکلے۔ (ابوداؤد، احمد، ترمذی)
تشریح
جب تک توبہ موقوف نہیں ہوتی یعنی جب تک توبہ قبول ہوتی رہے گی ہر شخص گناہوں سے پاک ہوسکتا ہے اور جب توبہ موقوف ہوجائے گی تو کوئی شخص گناہوں سے پاک نہیں ہو سکے گا اور توبہ موقوف اسی وقت ہوگی جب کہ آفتاب مغرب کی سمت سے طلوع ہوگا۔ حاصل یہ کہ جب تک آفتاب مغرب کی سمت سے طلوع نہیں ہوتا اس وقت تک ہر شخص توبہ کر کے اپنے گناہوں سے پاک ہوسکتا ہے پھر اس کے بعد کسی کی توبہ کار گر ثابت نہیں ہوگی۔
کسی گناہ گار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرو
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن رجلين كانا في بني إسرائيل متحابين أحدهما مجتهد للعبادة والآخر يقول : مذنب فجعل يقول : أقصر عما أنت فيه فيقول خلني وربي حتى وجده يوما على ذنب استعظمه فقال : أقصر فقال : خلني وربي أبعثت علي رقيبا ؟ فقال : والله لا يغفر الله لك أبدا ولا يدخلك الجنة فبعث الله إليهما ملكا فقبض أرواحهما فاجتمعا عنده فقال للمذنب : أدخل الجنة برحمتي وقال للآخر : أتستطيع أن تحظر على عبدي رحمتي ؟ فقال : لا يا رب قال : اذهبوا به إلى النار . رواه أحمد
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بنی اسرائیل میں دو شخص تھے جو آپس میں دوست تھے ان میں سے ایک تو عبادت میں بہت ریاضت کرتا تھا اور دوسرا گناہ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں گناہگار ہوں یعنی وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتا تھا۔ چناچہ عبادت کرنے والے نے اس سے کہنا شروع کیا جس چیز میں تم مبتلا ہو یعنی گناہ میں اس سے باز آجاؤ گنہگار اس کے جواب میں کہتا کہ تم میرے پروردگا پر چھوڑ دو! کیونکہ وہ غفور الرحیم ہے وہ مجھے معاف کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک دن اس عابد نے اس شخص کو ایسے گناہ میں مبتلا دیکھا جسے وہ بہت بڑا گناہ سمجھتا تھا اس نے اس سے کہا کہ تم اس گناہ سے باز آجاؤ گنہگار نے جواب دیا کہ تم مجھے میری پروردگار پر چھوڑ دو، کیا تم میرے داروغہ بنا کر بھیجے گئے ہو؟ (عابد نے یہ سن کر) کہا کہ اللہ کی قسم! اللہ تمہیں کبھی نہیں بخشے گا اور نہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا اس کے بعد حق تعالیٰ نے ان دونوں کے پاس فرشتہ بھیج کر ان کی روحیں قبض کرائیں اور پھر جب وہ دنوں یعنی ان کی روحیں حق تعالیٰ کے حضور برزخ میں یا عرش کے نیچے حاضر ہوئیں تو حق تعالیٰ نے گنہگار سے تو فرمایا کہ تو میری رحمت کے سبب جنت میں داخل ہوجا اور دوسرے سے فرمایا کہ کیا تو اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ میرے بندے کو میری رحمت سے محروم کر دے؟ اس نے کہا کہ نہیں پروردگار پھر اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو جو دوزخ پر مامور ہیں فرمایا کہ اس کو دوزخ کی طرف لے جاؤ۔ (احمد)
تشریح
چونکہ عبادت کرنے والے نے اپنی عبادت اور اپنے نیکی اعمال پر غرور وتکبر کا اعتماد کیا اور اس گنہگار کو اپنے سے حقیر جان کر اس سے یہ کہا کہ حق تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا اس لئے اسے مستحق عذاب قرار دیا گیا اسی لئے کسی بزرگ کا قول ہے کہ جو گناہ اپنے کو حقیر و ذلیل سمجھنے کا باعث ہو وہ اس طاقت عبادت سے بہتر ہے جو غرور وتکبر اور نخوت میں مبتلا نہ کرے۔
گنہگار رحمت خداوندی سے مایوس نہ ہوں
وعن أسماء بنت يزيد قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأ : ( يا عبادي الذي أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا ) ولا يبالي رواه أحمد والترمذي وقال هذا حديث حسن غريب وفي شرح السنة يقول : بدل : يقرأ
حضرت اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ یہ آیت پڑھا کرتے تھے۔ آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰ ي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّه هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ ) 39۔ الزمر 53)۔ اے میرے وہ بندو جنہوں نے گناہ کرنے کے سبب اپنے نفس پر زیادتی کی ہے، رحمت الٰہی سے مایوس مت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب گناہ بخشتا ہے (نیز آپ ﷺ فرماتے کہ) اللہ تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں کہ بندے کتنے ہی گناہ کرتے ہیں اور وہ سب کو بخش دیتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور شرح السنۃ میں لفظ یقرہأ کی بجائے لفظ یقول ہے۔
تشریح
اللہ تعالیٰ سب گناہ بخشتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کو تو توبہ کے ساتھ بخشتا ہے کہ اگر کوئی کافر اپنے کفر و شرک سے توبہ کر کے ایمان کی دولت قبول کرلے تو اسے حق تعالیٰ ابدی نجات و بخشش کا مستحق قرار دیتا ہے اور مومنین کو توبہ کے ساتھ بھی بخشتا ہے اور اپنے بےپایا فضل و کرم کی بنا پر اگر چاہتا ہے تو بغیر توبہ کے بھی بخش دیتا ہے۔
گنہگار رحمت خداوندی سے مایوس نہ ہوں
وعن ابن عباس : في قوله تعالى : ( إلا اللمم ) قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن تغفر اللهم تغفر جما وأي عبد لك لا ألما رواه الترمذي . وقال : هذا حديث حسن صحيح غريب
حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول الا اللمم کی تفسیر کے ضمن میں روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ شعر پڑھا۔ ان تغفر اللہم تغفر جما وای عبدلک لا الما اگر بخشے تو اے الٰہی! تو بڑے سے گناہ بخش دے۔ اور تیرا کون سا بندہ ہے جس نے چھوٹے گناہ نہ کئے ہوں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
تشریح
الا اللمم ایک آیت کا ٹکڑا ہے اور پوری آیت یہ ہے۔ آیت (اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰ ى ِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ) 53۔ النجم 32)۔ اور (جن نیکو کاروں کا پیچھے ذکر ہوا) یہ وہ لوگ ہیں جو پرہیز کرتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے علاوہ چھوٹے گناہوں (کہ جن سے بچنا ممکن نہیں ہے) اور بیشک تیرا رب مغفرت کا وسیع کرنے والا ہے۔ پس آیت میں چھوٹے گناہوں کا جو استثناء کیا گیا ہے اسی کی دلیل کے طور پر آنحضرت ﷺ نے مذکورہ بالا شعر پڑھا کہ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی مومن صغیرہ گناہوں سے خالی نہیں ہوتا۔ شعر کا حاصل یہ ہے کہ پروردگار تیری شان رحمت ایسی ہے اور تیرے فضل و کرم کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ اگر تو چاہے تو کبیرہ گناہوں کو بھی بخش دے چھوٹے گناہوں کی تو حقیقت ہی کیا ہے اور پھر تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جو چھوٹے گناہ نہیں کرتا اور تو اسے نہیں بخشتا بلکہ تو ان چھوٹے گناہوں کو نیکیوں کے ذریعہ جھاڑتا رہتا ہے اور اس طرح ان بندوں کو چھوٹے گناہوں کے بوجھ سے بچاتا ہے۔ یہ شعر جسے آنحضرت ﷺ نے پڑھا امیہ بن صلت کا ہے جو ایام جاہلیت کے مشہور شعراء میں سے ہے امیہ اس وقت بھی بہت زیادہ عبادت کرتا تھا اور قیامت پر اعتقاد کرتا تھا اگرچہ اس نے اسلام کا زمانہ پایا ہے مگر مسلمان ہونے کی سعادت سے محروم رہا۔ امیہ چونکہ حکمت آمیز اشعار کہا کرتا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نہ صرف یہ کہ اس کے اشعار سنتے ہی تھے بلکہ کبھی کبھی خود انہیں پڑھا کرتے تھے۔
بندہ کی عبادت اور معصیت سے اللہ کی خدائی میں کوئی اثر نہیں پڑتا
وعن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله تعالى يا عبادي كلكم ضال إلا من هديت فاسألوني الهدي أهدكم وكلكم فقراء إلا من أغنيت فاسألوني أرزقكم وكلكم مذنب إلا من عافيت فمن علم منكم أني ذو قدرة على المغفرة فاستغفرني غفرت له ولا أبالي ولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا على أتقى قلب عبد من عبادي ما زاد في ملكي جناح بعوضةولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا على أشقى قلب عبد من عبادي ما نقص ذلك من ملكي جناح بعوضة . ولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا في صعيد واحد فسأل كل إنسان منكم ما بلغت أمنيته فأعطيت كل سائل منكم ما نقص ذلك من ملكي إلا كما لو أن أحدكم مر بالبحر فغمس فيه إبرة ثم رفعها ذلك بأني جواد ماجد أفعل ما أريد عطائي كلام وعذابي كلام إنما أمري لشيء إذا أردت أن أقول له ( كن فيكون ) رواه أحمد والترمذي وابن ماجه
حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! تم سب گم کردہ راہ علاوہ اس شخص کے جس کو میں نے ہدایت بخشی پس تم سب مجھ سے ہدایت چاہو میں تمہیں ہدایت بخشوں گا۔ تم سب ظاہر و باطن میں محتاج ہو علاوہ اس شخص کے جس کو میں نے غنی بنادیا پس تم سب مجھ سے روزی مانگو میں تمہیں (پاک و حلال) روزی دوں گا تم سب گنہگار ہو (یعنی سب ہی سے گناہ متصور ہے) علاوہ اس شخص کے جس کو میں نے بچا لیا ہو (یعنی انبیاء کرام) پس تم میں سے جس شخص نے جانا کہ میں بخشنے پر قادر ہوں اور پھر اس نے مجھ سے بخشش مانگی تو میں اس کو (یعنی اس کے سب گناہ) بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی اور اگر تمہارے پچھلے اگلے، تمہارے زندے، تمہارے مردے، تمہارے تر اور تمہارے خشک (یعنی تمہارے جوان و بوڑھے یا تمہارے عالم و جاہل اور یا تمہارے فرمانبردار گنہگار غرضیکہ ساری مخلوقات) میرے بندوں میں سب سے زیادہ متقی دل بندہ محمد ﷺ کی طرح ہوجائیں تو اس سے یعنی تمام مخلوقات کے عابد و متقی ہوجانے سے میری خدائی میں ایک مچھر کے برابر بھی زیادتی نہیں ہوگی اور اگر تمہارے اگلے تمہارے پچھلے، تمہارے زندے تمہارے مردے، تمہارے تر اور تمہارے خشک (غرض کہ ساری مخلوقات) میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ بدبخت (شیطان لعین) کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری خدائی میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہ ہوگی اور اگر تمہارے اگلے تمہارے پچھلے، تمہارے زندے، تمہارے مردے تمہارے تر اور تمہارے خشک ایک جگہ جمع ہوں اور تم میں سے ہر شخص اپنی انتہائی آرزو و خواہش کے مطابق مانگے (یعنی اس کے دل میں جو بھی آرزو اور خواہش ہو مجھ سے مانگے) اور پھر تم میں سے ہر شخص کو (اس کی خواہش کے مطابق دوں) تو اس سے میری خدائی میں کچھ بھی کمی نہیں ہوگی (ہاں اگر بفرض محال کمی ہو بھی تو) وہ اسی قدر ہوگا جتنا کہ ایک سوئی پر پانی لگ جاتا ہے ورنہ حقیقت میں اللہ کی خدائی میں کمی کے کسی بھی درجہ کا کیا سوال۔ وہ کتنا ہی دے اس کے ہاں ہرگز کمی نہیں ہوتی اور اس کا سبب یہ ہے کہ میں بہت سخی ہوں۔ بہت دینے والا ہوں اور جو چاہتا ہوں کرتا ہوں (یعنی یہ تمام سخاوت اور کرم میرے ارادہ و اختیار کے ہی تحت ہے اس میں کسی بندے کے ارادے کو دخل نہیں ہے) میرا دینا صرف حکم کرنا ہے اور میرا عذاب دینا صرف حکم دینا ہے (یعنی یہ سب چیزیں صرف میرے ایک حکم سے ہوجاتی ہیں میں ذرائع اور اسباب کا محتاج نہیں ہوں اور میں کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہوں تو اس کے لئے میرا صرف اتنا ہی حکم ہے کہ میں کہہ دیتا ہوں ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
شرک سے بچنے والے کو بخشش کی بشارت
وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قرأ ( هو أهل التقوى وأهل المغفرة ) قال : قال ربكم أنا أهل أن أتقى فمن اتقاني فأنا أهل أن أغفر له . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی (هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ) 74۔ المدثر 56) وہی صاحب تقویٰ ہے اور صاحب بخشش ہے پھر آپ ﷺ نے اس کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا کہ تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ میری شان کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ میرے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے پرہیز کریں لہٰذا جو شخص شرک سے بچتا ہے تو پھر میرے لائق یہی ہوتا ہے کہ میں اسے بخش دوں۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) مذکورہ بالا آیت کا مضمون اس آیت کے مضمون کی مانند ہے۔ آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَا ءُ ) 4۔ النساء 116)۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اس شرک کے علاوہ ہر گناہ کو جس کے لئے چاہے معاف کردیتا ہے۔
آنحضرت ﷺ کا استغفار وتوبہ
وعن ابن عمر قال : إن كنا لنعد لرسول الله صلى الله عليه و سلم في المجلس يقول : رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور مائة مرة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم یہ شمار کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺ ایک مجلس میں سو مرتبہ یہ کہا کرتے تھے۔ دعا (رب اغفر لی وتب علی انک انت التواب الغفور) میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما بلاشبہ تو ہی بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
وعن بلال بن يسار بن زيد مولى النبي صلى الله عليه و سلم قال : حدثني أبي عن جدي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قال : أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه غفر له وإن كان قد فر من الزحف . رواه الترمذي وأبو داود لكنه عند أبي داود هلال بن يسار وقال الترمذي : هذا حديث غريب
نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید ؓ کے پوتے حضرت بلال بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت یسار ؓ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی جسے انہوں نے میرے دادا حضرت زید ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے یعنی حضرت زید ؓ رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص یہ کہے دعا ( استغفر اللہ الذی لا الہ الاھوالحی القیوم واتوب الیہ) میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں وہ اللہ کہ نہیں کوئی معبود علاوہ اس کے جو زندہ ہے اور خبر گیری کرنے والا ہے تو اس کی بخشش کی جاتی ہے اگرچہ وہ جہاد سے بھاگا ہوا ہو (جو ایک بہت بڑا گناہ ہے) اس روایت کو ترمذی اور ابوداؤد نے نقل کیا ہے لیکن ابوداؤد کے نزدیک بلال بن یسال کی بجائے ہلال بن یسار ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
کوئی بھی دعا ہو، کوئی بھی ذکر اور کوئی بھی عمل ہو جب نیت و مقصد کا اخلاص اور دل کی تڑپ و لگن زبان کی ہمنوا نہ ہو اس دعا کا اثر ہوتا ہے اور نہ اس کا ذکر و عمل، اسی لئے علماء لکھتے ہیں کہ جب بھی استغفار پڑھا جائے تو صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ پڑھا جائے کیونکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ گناہ سے استغفار کرنے والا درآنحالیکہ وہ اس گناہ پر قائم ہو اپنے پروردگار سے ٹھٹھول کرنے والا ہے۔ (نعوذباللہ)
اپنے مرحومین کے لئے استغفار کرو
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل ليرفع الدرجة للعبد الصالح في الجنة فيقول : يا رب أني لي هذه ؟ فيقول : باستغفار ولدك لك . رواه أحمد
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ عزوجل جنت میں اپنے نیک بخت و صالح کا درجہ بلند کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے میرے پروردگار مجھے یہ درجہ کیسے حاصل ہو؟ اللہ تعالیٰ فرماتا تیرے لئے تیرے بیٹے کے استغفار کی وجہ سے۔ (احمد)
مردوں کے لئے بہترین ہدیہ استغفار
وعن عبد الله بن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما الميت في القبر إلا كالغريق المتغوث ينتظر دعوة تلحقه من أب أو أم أو أخ أو صديق فإذا لحقته كان أحب إليه من الدنيا وما فيها وإن الله تعالى ليدخل على أهل القبور من دعاء أهل الأرض أمثال الجبال وإن هدية الأحياء إلى الأموات الاستغفار لهم . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قبر میں مردہ کی حالت ایسی ہے جیسا کہ کوئی شخص ڈوب رہا ہو اور کسی کو پکار رہا ہو کہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑ کر پانی سے باہر نکالے چناچہ وہ مردہ ہر وقت اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ اس کے باپ کی طرف سے یا اس کی ماں کی طرف سے یا اس کے بھائی کی طرف سے یا اس کے دوست کی طرف سے اس کو دعا پہنچے پس جب اسے کسی کی طرف سے دعا پہنچتی ہے تو یہ دعا کا پہنچنا اس کے لئے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے محبوب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ قبر والوں کی طرف سے دعا کا ثواب پہاڑ کی مانند (یعنی بہت زیادہ ثواب اور رحمت و بخشش) پہنچاتا ہو اور زندوں کی طرف سے مردوں کے لئے بہترین ہدیہ استغفار ہے۔
وعن عبد الله بن يسر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طوبى لمن وجد في صحيفته استغفارا كثيرا . رواه ابن ماجه وروى النسائي في عمل يوم وليلة
حضرت عبداللہ بن بسر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خوش بختی ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار کی یعنی مقبول استغفار پایا ابن ماجہ اور نسائی نے اس روایت کو اپنی کتاب عمل یوم ولیلۃ میں نقل فرمایا ہے۔
تشریح
استغفار کی فضیلت کے سلسلہ میں یہ حدیث بھی بڑی ہی خوش کن ہے جسے بزاز نے حضرت انس ؓ سے بطریق مرفوع روایت کیا ہے کہ اعمال لکھنے والے دونوں فرشتے جب بندے کا اعمال نامہ لے کر اوپر جاتے ہیں تو حق تعالیٰ اس اعمال نامہ کے اول و آخر میں استغفار دیکھ کر فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندے کے وہ تمام گناہ بخش دئیے۔ جو اس نامہ اعمال کے دونوں کناروں کے درمیان ہیں۔ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص صبح وشام استغفار کرتا ہے اسے یہ فضیلت وسعادت حاصل ہوتی ہے۔
وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساؤوا استغفروا . رواه ابن ماجه والبيهقي في الدعوات الكبير
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکی کریں تو خوش ہوں اور برائی کریں تو استغفار کریں۔ (ابن ماجہ، بیہقی)
اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے
وعن الحارث بن سويد قال : حدثنا عبد الله بن مسعود حديثين : أحدهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم والآخر عن نفسه قال : إن المؤمن يرى ذنوبه كأنه قاعد تحت جبل يخاف أن يقع عليه وإن الفاجر يرى ذنوبه كذباب مر على أنفه فقال به هكذا أي بيده فذبه عنه ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لله أفرح بتوبة عبده المؤمن من رجل نزل في أرض دوية مهلكة معه راحلته عليها طعامه وشرابه فوضع رأسه فنام نومة فاستيقظ وقد ذهبت راحلته فطلبها حتى إذا اشتد عليه الحر والعطش أو ما شاء الله قال : أرجع إلى مكاني الذي كنت فيه فأنام حتى أموت فوضع رأسه على ساعده ليموت فاستيقظ فإذا راحلته عنده عليها زاده وشرابه فالله أشد فرحا بتوبة العبد المؤمن من هذا براحلته وزاده . روى مسلم المرفوع إلى رسول صلى الله عليه و سلم منه فحسب وروى البخاري الموقوف على ابن مسعود أيضا
حضرت حارث بن سوید (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے مجھ سے دو حدیثیں بیان کیں ایک تو انہوں نے رسول کریم سے نقل کی اور دوسری اپنی طرف سے بیان کی چناچہ انہوں نے فرمایا مومن اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے وہ ایک پہاڑ کے نیچے بیٹھاہو اور خوفزدہ ہو کہ پہاڑ اس کے اوپر نہ گرپڑے اور فاجر اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے اس مکھی کو جو اس کی ناک پر اڑے اور وہ اس کی طرف اس طرح یعنی اپنے ہاتھ سے اشارہ کرے اور اسے اڑا دے حاصل یہ کہ مومن گناہ سے بہت ڈرتا ہے اور اسے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں میں اس گناہ کی پاداش میں پکڑا نہ جاؤں اس لئے اس کی نظر میں چھوٹے سے چھوٹے گناہ بھی وہی اہمیت رکھتے لیکن فاجر اپنے گناہوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اس کی نظر میں بڑے سے بڑے گناہ کی بھی اہمیت نہیں ہوتی۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنے سفر کے دوران کسی ایسے ہولناک میدان میں اترے جہاں سبزہ و درخت کا نام و نشان تک نہ ہو اور اس کے ساتھ جو سواری ہو اس پر اس کے کھانے پینے کا سامان ہو پھر وہ استراحت کے لئے وہیں زمین پر سر رکھ کر ایک نیند سو گیا ہو اور جب جاگنے کے بعد اسے معلوم ہو کہ سامان سے لدی ہوئی اس کی سواری گم ہوگئی ہے تو وہ اس کی تلاش میں ہوگیا ہو یہاں تک کہ گرمی کی تپش اور پیاس کی شدت اور گرمی اور پیاس کے علاوہ دوسری تکلیف اور پریشانی کی ان چیزوں نے جو اللہ کو منظور تھیں اس پر غلبہ پا لیا ہو تو اس نے کہا ہو کہ میں اپنی جگہ لوٹ چلوں جہاں میں سر رکھ کر سویا تھا وہیں سو جاؤں تاکہ نیند کی حالت میں میرا خاتمہ ہوجائے چناچہ وہ اپنے بازو پر سر رکھ کر موت کے انتظار میں سو رہا ہو کہ اس کی آنکھ کھل جائے اور اچانک وہ دیکھے کہ اس کی سواری اس کے سامنے موجود ہو جس پر اس کے کھانے پینے کا سامان موجود تھا پس اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندہ کی توبہ کی وجہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری اور اپنے کھانے پینے کا سامان پا کر خوش ہوتا ہے۔ مسلم نے ان دونوں روایتوں میں سے صرف اس روایت کو نقل کیا ہے جسے ابن مسعود ؓ نے آنحضرت ﷺ سے نقل کیا (یعنی جس میں مومن بندہ کی توبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کا بیان ہے) اور اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے جسے ابن مسعود ؓ نے اپنی طرف سے بیان کیا ہے اور جس میں گناہ کے بارے میں مومن اور فاجر کے فرق کو بیان کیا گیا ہے۔ اور بخاری نے اس روایت کو بھی نقل کیا ہے جسے ابن مسعود ؓ نے اپنی طرف سے بیان کیا ہے حاصل یہ کہ حدیث مرفوع کو تو بخاری ومسلم دونوں نے نقل کیا ہے لیکن حدیث موقوف کو صرف بخاری نے نقل کیا ہے۔
تشریح
پہلی فصل میں بھی اس قسم کی حدیث گزر چکی ہے وہاں بھی بتایا گیا ہے کہ بندہ کی توبہ سے اللہ تعالیٰ کے بہت زیادہ خوش ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ سے راضی ہوتا ہے اور اس کی توبہ قبول کرتا ہے گویا اس حدیث سے اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے۔ آیت ( اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّ وَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ ) 2۔ البقرۃ 222)۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ حضرت امام غزالی فرماتے ہیں کہ ایک بہت بڑے عالم با عمل حضرت استاد ابی اسحق اسفرائی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا میں نے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے مسلسل تیس برس تک یہ دعا کی کہ مجھے توبہ نصوح کی سعادت سے بہرہ مند فرمائے لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی میں نے اپنے دل میں بہت تعجب کیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کتنی پاک اور مستغنی ہے کہ میں نے تیس برس تک اپنی ایک خواہش کی تکمیل کی دعا کی لیکن وہ بارگاہ الوہیت میں قبولیت سے نہیں نوازی گئی کہ جب ہی میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی مجھ سے کہہ رہا ہے تمہیں اس بات پر تعجب ہے کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ تم مانگ کیا رہے ہو؟ تمہاری دعا کا حقیقی منشاء تو یہی ہے کہ اللہ تمہیں دوست اور محبوب نہ رکھے؟ تو کیا تم نے اللہ تعالیٰ کی یہ بشارت نہیں سنی کہ آیت (ان اللہ یحب التوابین ویحت المتطہرین) لہٰذا اس خواہش کی تکمیل نہ صرف یہ کہ بہت ہی آسان ہے بلکہ اس کی بشارت بھی دی جا چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے
وعن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يحب العبد المؤمن المفتن التواب
حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن کو بہت دوست رکھتا ہے جو گناہ میں مبتلا ہوتا ہے اور بہت زیادہ توبہ کرتا ہے۔
تشریح
یہ منشاء نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اسے دوست رکھتا ہے جی نہیں بلکہ گناہوں پر نادم وشرمندہ ہونے سے اور توبہ کرنے کی وجہ سے دوست رکھتا ہے۔
آیت لاتقنطوا من رحمۃ اللہ کی فضیلت
وعن ثوبان قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما أحب أن لي الدنيا بهذه الآية ( يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا ) الآية فقال رجل : فمن أشرك ؟ فسكت النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال : ألا ومن أشرك ثلاث مرات
حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے میں اس آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰ ي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ) 39۔ الزمر 53) کے مقابلہ میں اپنے لئے تمام دنیا کا حصول بھی پسند نہیں کرتا ایک شخص نے پوچھا کہ جس شخص نے شرک کیا کیا وہ بھی اس آیت کی بشارت کا مستحق ہے؟ نبی کریم ﷺ نے کچھ دیر خاموشی اختیار فرمائی تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آنے کے بعد یا پھر غور و فکر کر کے جواب دیں پھر وحی آنے کے یا خود اپنے اجتہاد سے کام لیتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا جان لو! جس شخص نے شرک کیا اور اپنی زندگی ہی میں اس سے توبہ کرلی اور پھر اس کی توبہ قبول بھی ہوئی تو وہ بھی اس آیت کی بشارت کا مستحق ہے یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمائی۔
تشریح
آپ ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ تھا کہ اگر اس آیت کریمہ کے مقابلہ میں مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزیں بھی دے دی جائیں اور میں دنیا کی ان تمام چیزوں کو اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں اور جن چیزوں سے لذت حاصل کی جاسکتی ہے ان سے لذت حاصل کروں تو بھی میں اسے پسند نہیں کروں گا کیونکہ اس آیت کریمہ میں گناہ سے مغفرت و بخشش کی سب سے عظیم سعادت کی بشارت دی گئی ہے جو اسی ایک دنیا نہیں بلکہ اس جیسی سینکڑوں دنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ گراں قدر ہے۔ پوری آیت کریمہ یہ ہے۔ (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰ ي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ) 39۔ الزمر 53)۔ اے میرے وہ بندو جنہوں نے گناہوں کے ذریعہ اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید و مایوس نہ ہو بلاشک اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخشتا ہے اور وہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔ اسی مضمون کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان اشعار کے ذریعہ ادا کیا ہے۔ ایا صاحب الذنب لاتقنطن فان الالہ رؤوف رؤوف اے گنہگار شخص ناامید اور مایوس مت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے بڑا ہی مہربان۔ ولا ترحلن بلا عدۃ فان الطریق مخوف مخوف بغیر زاد راہ کے کوچ نہ کر۔ کیونکہ راستہ بڑا دہشناک ہے بڑا ہی دہشتناک اور پھر ایک شاعر نے اسی بات کو یوں کہا ہے غافل مرد کہ مرکب مردان مردرا درسنگ لاخ بادیہ پیمابرفیدہ اند نومید ہم مباش کہ رنداں بادہ نوش ناگہ بیک خردش بمنزل رسیدہ اند
شرک، اللہ کی رحمت اور بندہ کے درمیان پردہ ہے
وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى ليغفر لعبده ما لم يقع الحجاب . قالوا : يا رسول الله وما الحجاب ؟ قال : أن تموت النفس وهي مشركة روى الأحاديث الثلاثة أحمد وروى البيهقي الأخير في كتاب البعث والنشور
حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گناہوں میں سے جنہیں چاہتا ہے ان کو بخشتا ہے جب تک بندہ اور رحمت حق کے درمیان پردہ حائل نہ ہو، صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پردہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہ آدمی شرک کرتا ہے (یعنی مشرک مرے) مذکورہ بالا تینوں روایتیں امام احمد نے نقل کی ہیں۔ نیز یہ آخری روایت کتاب البعث والنشور میں نقل کی ہے۔