روزہ کی حالت میں سر پر پانی ڈالنا مکروہ نہیں ہے
وعن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قال : لقد رأيت النبي صلى الله عليه و سلم بالعرج يصب على رأسه الماء وهو صائم من العطش أو من الحر . رواه مالك
اور نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی ؓ فرماتے ہیں کہ میں عرج میں نبی کریم ﷺ کو روزہ کی حالت میں پیاس کے دفعیہ کے لئے، یا کہا کہ گرمی کے دفعیہ کے لئے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا ہے۔ (مالک، ابوداؤد)
تشریح
عرج مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے حضرت ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ روزہ کی حالت میں اپنے سر پر پانی ڈالنا یا پانی میں گھسنا مکروہ نہیں ہے۔ نورالایضاح میں جو فقہ حنفی کی ایک معتبر کتاب ہے لکھا ہے کہ مفتی بہ قول کے مطابق صحیح مسئلہ یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں ٹھنڈک حاصل کرنے اور گرمی کے دفعیہ کے لئے نہانا اور بدن کو پانی سے تر کپڑا لپیٹنا مکروہ نہیں ہے نیز درمختار میں بھی یہی منقول ہے۔
روزہ میں پچھنے لگوانے کا مسئلہ
وعن شداد بن أوس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى رجلا بالبقيع وهو يحتجم وهو آخذ بيدي لثماني عشرة خلت من رمضان فقال : أفطر الحاجم والمحجوم . رواه أبو داود وابن ماجه والدارمي . قال الشيخ الإمام محيي السنة رحمة الله عليه : وتأوله بعض من رخص في الحجامة : أي تعرضا للإفطار : المحجوم للضعف والحاجم لأنه لا يأمن من أن يصل شيء إلى جوفه بمص الملازم
حضرت شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو رسول اللہ ﷺ مدینہ کے قبرستان جنت البقیع میں ایک ایسے شخص کے پاس تشریف لائے جو بھری ہوئی سینگی کھنچوا رہا تھا۔ اس وقت آپ ﷺ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ سینگی کھیچنے اور کھنچوانے والے نے اپنا روزہ توڑ ڈالا (ابو داؤد، ابن ماجہ، دارمی) امام محی السنہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو علماء روزہ کی حالت میں سینگی کھینچنے اور کھنچوانے کی اجازت دیتے ہیں انہوں نے اس حدیث کی تاویل کی ہے یعنی یہ کہ ارشاد گرامی میں آپ ﷺ کی مراد یہ ہے کہ سینگی کھنچوانے والا تو ضعف کی وجہ سے روزہ توڑنے کے قریب ہوجاتا ہے اور سینگی کھینچنے والا اس سبب سے افطار کے قریب ہوجاتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ سینگی کھینچنے کے عمل سے خون کا کوئی حصہ اس کے پیٹ میں پہنچ گیا ہو۔
تشریح
بعض من رخص میں بعض سے مراد جمہور یعنی اکثر علماء ہیں۔ چناچہ اکثر علماء کا یہی مسلک ہے کہ روزہ کی حالت میں پچھنے لگوانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ کی صحیح روایت منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے احرام اور روزہ کی حالت میں بھری ہوئی سینگی کھنچوائی، حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمھم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے ان حضرت کی طرف سے حدیث کی وہی مراد بیان کی جاتی ہے جو امام محی السنہ نے نقل کی ہے کہ روزہ توڑنے کے قریب ہوجاتا ہے یعنی بھری ہوئی سینگی کھنچوانے والے کا خون چونکہ زیادہ نکل جاتا ہے جس کی وجہ سے ضعف و سستی اور نا تو انی اتنی زیادہ لاحق ہوجاتی ہے کہ اس کے بارے میں یہ خوف پیدا ہوجاتا ہے کہ کہیں وہ اپنی جان بچانے کے لئے روزہ نہ توڑ ڈالے اور سینگی کھینچنے والے کے بارے میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ سینگی چونکہ منہ سے کھینچنی پڑتی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ اس عمل کے وقت خون کا کوئی قطرہ اس کے پیٹ میں چلا گیا ہو۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ بھری ہوئی سینگی کھنچوانے سے ٹوٹتا تو نہیں البتہ ضعف لاحق ہونے اور جان کی ہلاکت کے خوف سے مکروہ ہوجاتا ہے بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ ارشاد گرامی بطور خاص دو اشخاص کے بارے میں ہے کہ وہ سینگی کھینچتے اور کھنچواتے وقت غیبت میں مشغول تھے لہٰذا ان دونوں کو غیبت میں مشغول دیکھ کر آپ ﷺ نے بطور تنبیہ فرمایا کہ دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ہے بعض علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہوگیا۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أفطر يوما من رمضان من غير رخصة ولا مرض لم يقض عنه صوم الدهر كله وإن صامه . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي والبخاري في ترجمة باب وقال الترمذي : سمعت محمدا يعني البخاري يقول . أبو الطوس الراوي لا أعرف له غير هذا الحديث
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص بلا رخصت اور بلا مرض رمضان کا کوئی روزہ قصدا نہ رکھے تو تمام عمر روزہ رکھنا بھی اس کا بدلہ نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ تمام عمر روزہ رکھے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، ) امام بخاری نے اس روایت کو بخاری کے ترجمۃ الباب میں نقل کیا ہے نیز امام ترمذی نے کہا ہے کہ میں نے حضرت امام بخاری (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں اس روایت کے ایک راوی ابوالمطوس کو اس حدیث کے علاوہ اور کسی حدیث کا راوی نہیں جانتا۔
تشریح
بلا رخصت قصدا روزہ نہ رکھنے سے مراد یہ ہے کہ شریعت نے روزہ نہ رکھنے کے لئے حالت سفر وغیرہ میں جو رخصت یعنی اجازت عطا فرمائی ہے اس کے علاوہ اس حالت جب کہ روزہ رکھنا ضروری ہے قصدا روزہ نہ رکھے چناچہ اس کے بارے میں ابتداء باب میں تفصیل بیان کی جا چکی ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ وان صامہ ما قبل جملہ کی تاکید کے طور پر ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ یہ حدیث رمضان کے روزہ کی اہمیت و عظمت کے اظہار کے لئے بطور مبالغہ ارشاد فرمائی گئی ہے لہٰذا حدیث کی مراد یہ ہے کہ فرض روزہ کا ثواب اس قدر اور اتنا زیادہ ہے کہ وہ نفل روزہ سے میسر نہی آتا چاہے کوئی تمام عمر ہی نفل روزہ کیوں نہ رکھے اس بارے میں جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے علماء لکھتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے رمضان کا کوئی روزہ نہیں رکھا اور پھر بعد میں قضا روزہ رکھ لیا تو اس کے ذمہ سے فرض ادا ہوجائے گا اسی طرح اگر کسی شخص نے رمضان کا کوئی روزہ قصدا توڑ ڈالا اور پھر اس کے کفارہ کے طور پر دو مہینے کے روزے رکھ لئے تو وہ بری الذمہ ہوجائے گا۔ علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ نہ رکھے اور اس کے بدلے تمام عمر بھی روزے رکھے تو وہ بری الذمہ نہیں چناچہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود ؓ کا یہی مسلک تھا لیکن اکثر صحابہ اور علماء کا مسلک یہ ہے کہ ایک دن کے روزے کا بدل دوسرے دن کا روزہ ہوجاتا ہے یعنی اگر رمضان میں ایک دن کا روزہ نہ رکھا جائے اور اس کی قضا کے طور پر کسی دوسرے دن روزہ رکھ لیا جائے تو فرض ادا ہوجاتا ہے چاہے یہی صورت کیوں نہ ہو کہ رمضان کا وہ روزہ جو نہیں رکھا گیا گرمی کے کسی سخت اور بڑے دن میں رہا ہو اور اس کی قضا کے طور پر سردی میں اور چھوٹے دن روزہ رکھا جائے۔ اسی طرح صحیح مسئلہ یہ ہے کہ نماز بھی روزے کے حکم میں ہے کہ اگر کسی وقت نماز نہ پڑھے تو دوسرے وقت اس کی قضا پڑھنے سے فرض ادا ہوجاتا ہے کیونکہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ تمام علماء کے نزدیک نماز روزہ سے افضل ہے۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كم من صائم ليس له من صيامه إلا الظمأ وكم من قائم ليس له من قيامه إلا السهر . رواه الدارمي
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوائے پیاسا رہنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا اور رات میں عبادت میں مشغول رہنے والے بہت سے ایسے ہیں جنہیں ان کی عبادت سے سوائے بےخوابی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ (دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص روزہ رکھے مگر نہ تو اس کی نیت میں اخلاص وللہیت ہو اور نہ وہ جھوٹ گواہی بہتان تراشی غیبت اور ان کے علاوہ دیگر ممنوعات سے اجتناب و پرہیز کرے تو اس کا روزہ بلا روح ہے کہ وہ بھوکا اور پیاسا تو رہتا ہے مگر اسے روزہ کا کمال اور ثواب حاصل نہیں ہوتا اگرچہ اس کے ذمہ سے فرض ساقط ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص رات میں عبادت میں مشغول رہتا ہے اور اسے حضوری قلب اور صدق نیت کی دولت میسر نہیں ہوتی یا اس کی وہ عبادت دنیا کے فائدہ اور ریاء و نمائش کے جذبہ کے تحت ہوتی ہے تو اسے کچھ ثواب نہیں ملتا اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص کسی غصب کردہ مکان میں نماز پڑھے تو اسے ثواب نہیں ملتا اگرچہ اس کے ذمہ سے فرض ساقط ہوجاتا ہے یا جو شخص بغیر عذر جماعت سے محرورم رہتا ہے ایسے ہی دیگر عبادات مثلا حج و زکوٰۃ وغیرہ کا بھی مسئلہ یہ ہے کہ اگر اخلاص نیت حاصل نہ ہو تو تضییع مال اور جسمانی مشقت و محنت کے علاوہ اور کچھ ہاتھ نہیں لگتا۔ حاصل یہ کہ کوئی بھی عبادت ہو جب تک اخلاص نیت، حضور قلب اور محض اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کا جذبہ میسر نہ ہو وہ بلا روح ہوتی ہے کہ جس سے نہ تو قرب الٰہی کی سعادت میسر آتی ہے اور نہ اجر وثواب کی دولت حاصل ہوتی ہے۔ وذکر حدیث لقیط بن صبرۃ فی باب سنن الوضوء اور لقیط بن صبرہ کی روایت جو صاحب مصابیح نے یہاں نقل کی تھی باب سنن الوضو میں ذکر کی جا چکی ہے۔
سینگی، قے اور احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا
عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث لا يفطرن الصائم الحجامة والقيء والاحتلام . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غير محفوظ وعبد الرحمن بن زيد الراوي يضعف في الحديث
حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزویں روزہ دار کے روزہ کو نہیں توڑتیں سینگی، قے (جو از خود آئے) اور احتلام، امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث محفوظ نہیں ہے، اس کے ایک راوی عبدالرحمن بن زید روایت حدیث کے سلسلہ میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔
تشریح
اس روایت کو دارقطنی بیہقی اور ابوداؤد نے بھی نقل کیا ہے نیز ابوداؤد کی روایت کے بارے میں محدثین نے لکھا ہے کہ وہ اشبہ بالصواب (یعنی صحت کے زیادہ قریب) ہے۔
سینگی، قے اور احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا
وعن ثابت البناني قال : سئل أنس بن مالك : كنتم تكرهون الحجامة للصائم على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : لا إلا من أجل الضعف . رواه البخاري
حضرت ثابت بنانی (رح) کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں روزہ دار کے سینگی کو مکروہ سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں علاوہ خوف کی صورت کے۔ (بخاری)
تشریح
یعنی اس اعتبار سے سینگی کو مکروہ سمجھتے تھے کہ اس سے ضعف و ناتوانی لاحق ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے روزہ پر اثر پڑ سکتا ہے نہ کہ اس اعتبار سے کہ اس کی وجہ سے روزہ جاتا رہتا ہو۔
سینگی، قے اور احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا
وعن البخاري تعليقا قال : كان ابن عمر يحتجم وهو صائم ثم تركه فكان يحتجم بالليل
حضرت امام بخاری بطریق تعلیق نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ پہلے تو روزہ کی حالت میں سینگی لگوا لیا کرتے تھے مگر بعد میں انہوں نے اسے ترک کردیا البتہ رات میں سینگی لگوا لیتے تھے۔
تشریح
حضرت ابن عمر ؓ نے دن میں بحالت روزہ سینگی لگوانا یا تو احتیاط کے پیش نظر ترک کردیا تھا یا پھر یہ کہ ضعف کے خوف سے اجتناب کرنے لگے تھے۔ امام بخاری نے بعض احادیث کو سند کے بغیر ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ یہ مذکورہ بالا حدیث ہے چناچہ بغیر سند روایت کے نقل کرنے کو بطریق تعلیق نقل کرنا کہا جاتا ہے مذکورہ بالا روایت کے نقل کے سلسلہ میں مناسب یہ تھا کہ مصنف مشکوۃ حسب قاعدہ معمول پہلے تو کہتے عن ابن عمر الخ پھر بعد میں رواہ البخاری تعلیقا کے الفاظ نقل کرتے۔
کلی کی تری اور تھوک نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
وعن عطاء قال : إن مضمض ثم أفرغ ما في فيه من الماء لا يضيره أن يزدرد ريقه وما بقي في فيه ولا يمضغ العلك فإن ازدرد ريق العلك لا أقول : إنه يفطر ولكن ينهى عنه . رواه البخاري في ترجمة باب
حضرت عطاء (تابعی) کہتے ہیں کہ اگر روزہ دار کلی کرے اور پھر پانی کو منہ سے بالکل نکال دے تو اس کے روزہ کو اس بات سے نقصان نہیں پہنچے گا کہ وہ اپنا تھوک اور وہ چیز جو منہ کے اندر باقی ہے نگل جائے اور روزہ دار مصطگی نہ چبائے اور اگر روزہ دار مصطگی کا تھوک نگل جائے تو میں یہ تو نہیں کہتا کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا لیکن اس سے منع کیا جاتا ہے۔ یہ روایت بخاری کے ترجمۃ الباب میں نقل کی گئی ہے۔
تشریح
لفظ ما بقی میں حرف ما موصولہ ہے اور اس کا عطف لفظ ریقہ پر ہے اسی پورے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی روزہ دار کلی کرنے کے بعد اپنا تھوک یا پانی کی وہ تری جو کلی کے بعد منہ میں باقی رہ گئی ہے نگل لے تو اس کے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اس سے اجتناب قطعاً ممکن نہیں ہے۔ مصطگی۔ علک کا ترجمہ یہ گوند کی قسم سے ایک دوا ہے جو دانت کے امراض میں اور دانتوں کی تقویت کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے پہلے زمانہ میں بھی لوگ اسے دانت کی تقویت کے لئے منہ میں رکھ لیا کرتے تھے اور چباتے تھے چناچہ روزہ کی حالت میں اسے چبانے سے منع فرمایا گیا ہے البتہ مذکورہ بالا حدیث میں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ مصطگی کو چباتے ہوئے جو تھوک منہ میں جمع ہوجائے اس کو نگلنے سے روزہ نہیں جاتا کیونکہ وہ تو منہ میں چپک کر رہ جاتی ہے اس کا کوئی جز علیحدہ نہیں ہوتا کہ وہ حلق میں اتر جائے اور اس سے روزہ ٹوٹ جائے تاہم بطور احتیاط اس کے تھوک کو بھی نگلنے سے منع فرمایا گیا ہے لہٰذا حدیث کے الفاظ ولکن ینہی عنہ میں مذکورہ نہی تنزیہی ہے کیونکہ علماء فرماتے ہے کہ کسی بھی چیز کو چبانا خواہ وہ مصطگی ہو یا کوئی اور چیز مکروہ ہے ہاں ضرورت کے وقت کسی بچہ کے منہ میں دینے کے لئے اس کا کوئی ٹکڑا چبانا جائز ہے۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ یہ مصطگی وغیرہ چبانے کی کراہت اس صورت میں ہے جب کہ یہ یقین ہو کہ اس کا کوئی جز حلق کے نیچے نہیں اترا ہے اور اگر حلق کے نیچے اتر جانے کا یقین ہو تو پھر ورزہ ٹوٹ جائے گا۔ اگر کوئی درزی یا کوئی بھی شخص رنگا ہوا ڈور منہ میں لے اور اس کا تھوک ڈورے کے رنگ جیسا ہوجائے اور پھر وہ اس کی تھوک کو نگل جائے تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور اگر تھوک پر رنگ غالب نہ آئے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔