کھجور اور پانی سے افطار باعث برکت ہے
وعن سلمان بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي . ولم يذكر : فإنه بركة غير الترمذي
حضرت سلمان بن عامر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے جو شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ وہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ کھجور باعث برکت ہے اور اگر کوئی شخص کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے اس روایت کو احمد و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی نے نقل کیا ہے مگر لفط فانہ برکۃ ترمذی کے علاوہ کسی اور نے ذکر نہیں کیا ہے۔
تشریح
کھجور اور پانی سے افطار کرنے کا حکم استحباب کے طور پر ہے اور کھجور سے افطار کرنے میں بظاہر حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت معدہ خالی ہوتا ہے اور کھانے کی خواہش پوری طرح ہوتی تو اس صورت میں جو چیز کھائی جاتی ہے اسے معدہ اچھی طرح قبول کرتا ہے لہٰذا ایسی حالت میں جب شیرینی معدہ میں پہنچتی ہے تو بدن کو بہت زیادہ فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ شیرینی کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے قوائے جسمانی میں قوت جلدی سرایت کرتی ہے خصوصا قوت باصرہ کو شیرینی سے بہت فائدہ پہنچتا ہے اور چونکہ عرب میں شیرینی اکثر کھجور ہی کی ہوتی ہے اور اہل عرب کے مزاج اس سے بہت زیادہ مانوس ہیں اس لئے کھجور سے افطار کرنے کے لئے فرمایا گیا کھجور نہ پانے کی صورت میں پانی سے افطار کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے کیونکہ یہ ظاہر و باطنی طہارت و پاکیزگی کے لئے فال نیک ہے۔
وعن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يفطر قبل أن يصلي على رطبات فإن لم تكن فتميرات فإنلم تكن تميرات حسى حسوات من ماء . رواه الترمذي وأبو داود . وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نماز مغرب سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے افطار فرمایا کرتے تھے اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ ہوتیں تو چند یعنی تین چلو پانی پی لیتے (ترمذی، ابوداؤد اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
ایک روایت میں جو ابویعلیٰ سے منقول ہے یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ تین کھجوروں سے یا کسی ایسی چیز سے جو آگ کی پکی ہوئی نہ ہوتی تھی۔ روزہ کھولنا پسند فرماتے تھے۔ بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ مکہ مکرمہ میں مقیم لوگوں کے لئے یہ مسنون ہے کہ وہ کھجوروں سے پہلے آب زمزم پی کر روزہ افطار کریں یا ان دونوں کو ملا کر ان سے روزہ افطار کریں تو یہ بالکل غلط بلکہ اتباع سنت نبوی کے بھی خلاف ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں بہت دنوں تک مقیم رہے مگر آپ ﷺ سے ایسا کوئی عمل منقول نہیں ہے۔
روزہ افطار کرانے والے کو روزہ دار جیسا ثواب ملتا ہے
وعن زيد بن خالد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من فطر صائما أو جهز غازيا فله مثل أجره . رواه البيهقي في شعب الإيمان ومحيي السنة في شرح السنة وقال صحيح
حضرت زید بن خالد ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص روزہ دار کو افطار کراتا ہے یا کسی غازی کا سامان درست کرتا ہے تو اس کو اسی کے ثواب جیسا ثواب ملتا ہے اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے نیز محی السنۃ نے بھی اسے شرح السنہ میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ روزہ دار کو اس کے روزے کی وجہ سے اور غازی کو اس کے جہاد کا جیسا ثواب ملتا ہے ویسا ہی ثواب کسی کو روزہ افطار کرانے والے اور کسی مجاہد کا سامان جہاد درست کرنے والے کو بھی ملتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے اس عمل کے ذریعے ایک نیک کام میں مددگار ہوتا ہے۔
وعن ابن عمر قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أفطر قال : ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله . رواه أبو داود
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ افطار کرتے تو یہ فرماتے۔ پیاس چلی گئی رگیں تر ہوگئیں اور اللہ نے چاہا تو ثواب ثابت ہوگیا۔ (ابو داؤد)
تشریح
اس ارشاد گرامی میں امت کے لئے عبادات کی ترغیب ہے کہ عبادات میں مشقت تو بہت تھوڑی ہے کیونکہ وہ ختم ہوجاتی ہے مگر اجر وثواب زیادہ ہے اس لئے کہ وہ باقی و ثابت رہنے والا ہے۔
وعن معاذ بن زهرة قال : إن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا أفطر قال : اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت . رواه أبو داود مرسلا
حضرت معاذ بن زہرہ (تابعی) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب افطار کرتے تو یہ فرماتے۔ اے اللہ میں نے تیرے ہی لئے روزہ رکھا اور اب تیرے ہی رزق سے افطار کرتا ہوں۔ (اس روایت کو ابوداؤد نے بطریق ارسال نقل کیا ہے)
تشریح
ابن ملک کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ یہ دعا افطار کے بعد پڑھا کرتے تھے اس دعا میں ولک صمت کے بعد یہ الفاظ و بک آمنت و علیک توکلت عام طور سے پڑھے جاتے ہیں یہ الفاظ اگرچہ حدیث سے ثابت نہیں ہیں مگر معنی کے اعتبار سے صحیح ہیں ابن ماجہ نے روایت کیا ہے کہ روزہ دار افطار کے وقت جو دعا مانگتا ہے وہ رد نہیں کی جاتی بلکہ قبول ہوتی ہے افطار کے وقت آپ ﷺ سے یہ پڑھنا بھی منقول ہے یا واسع الفضل اغفرلی نیز یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ یہ بھی پڑھا کرتے تھے۔ الحمدللہ الذی اعاننی فصمت و رزقنی فافطرت۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے میری مدد کی کہ میں نے روزہ رکھا اور مجھے رزق عطا فرمایا کہ میں نے افطار کیا۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يزال الدين ظاهرا ما عجل الناس الفطر لأن اليهود والنصارى يؤخرون . رواه أبو داود وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دین اسلام ہمیشہ غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ افطار میں دیر کرتے ہیں۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ)
تشریح
جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہود و نصاریٰ افطار میں اتنی تاخیر کرتے ہیں کہ ستارے گنجان یعنی پوری طرح نکل آتے ہیں اور اس زمانہ میں روافض بھی ان کی پیروی کرتے ہیں لہٰذا وقت ہوجانے پر جلدی افطار کرنے میں اہل باطل کی مخالفت ہوتی ہے اور دین کا غلبہ اور دین کی شوکت ظاہر ہوتی ہے یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دین کے دشمنوں کی مخالفت دین کی مضبوطی اور غلبہ کا باعث ہے اور ان کی موافقت دین کے نقصان کا ذریعہ ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے آیت (یا ایہا الذی امنوا لاتتخذوا الیہود و النصاریٰ اولیاء بعضہم اولیاء بعض ومن یتولہم منکم فانہ منہم)۔ اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ ان میں سے بعض بعض لوگوں کے دوست ہیں تم میں سے جو شخص ان سے دوستی کرے گا وہ ان ہی میں سے ہوگا۔
وعن أبي عطية قال : دخلت أنا ومسروق على عائشة فقلنا : يا أم المؤمنين رجلان من أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم أحدهما يعجل الإفطار ويعجل الصلاة والآخر : يؤخر الإفطار ويؤخر الصلاة . قالت : أيهما يعجل الإفطار ويعجل الصلاة ؟ قلنا عبد الله بن مسعود . قالت : هكذا صنع رسول الله صلى الله عليه و سلم والآخر أبو موسى . رواه مسلم
حضرت ابوعطیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے ام المومنین! آنحضرت ﷺ کے صحابہ ؓ میں دو اشخاص ہیں ان میں سے ایک صاحب تو جلدی افطار کرتے ہیں اور جلدی نماز پڑھتے ہیں دوسرے صاحب دیر کر کے افطار کرتے ہیں دیر کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ جلدی افطار کرنے والے اور نماز پڑھنے والے کون صاحب ہیں؟ ہم نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا یہی معمول تھا اور دوسرے صاحب جو افطار میں اور نماز میں دیر کرتے تھے حضرت ابوموسیٰ ؓ تھے۔ (مسلم)
تشریح
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بڑے اونچے درجے کے عالم اور فقیہ تھے اس لئے انہوں نے سنت کے مطابق عمل کیا۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ بھی بڑے جلیل القدر صحابی تھے۔ ان کا عمل بیان جواز کی خاطر تھا یا انہیں کوئی عذر لاحق ہوگا یہ بھی احتمال ہے کہ وہ ایسا کبھی کبھی (کسی مصلحت و مجبوری کی خاطر) کرتے ہوں گے۔
وعن العرباض بن سارية قال : دعاني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى السحور في رمضان فقال : هلم إلى الغداء المبارك . رواه أبو داود والسنائي
حضرت عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے رمضان میں سحری کھانے کے لئے بلایا اور فرمایا کہ بابرکت کھانے کے لئے آؤ۔ (ابو داؤد، نسائی)
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم سحور المؤمن التمر . رواه أبو داود
ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مومن کے لئے سحری کا بہترین کھانا کھجور ہے۔ ( ابوداؤد )