کن مقامات پر سوال کرنا مناسب ہے
وعن علي رضي الله عنه أنه سمع يوم عرفة رجلا يسأل الناس فقال : أفي هذا اليوم : وفي هذا المكان تسأل من يغر الله ؟ فخفقه بالدرة . رواه رزين
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے عرفہ کے دن ایک شخص کو لوگوں سے مانگتے دیکھا تو اس سے فرمایا کہ بدنصیب آج کے روز اس جگہ پر تو اللہ کے علاوہ دوسروں سے مانگ رہا ہے پھر انہوں نے اس شخص کو درہ سے مارا۔ (رزین)
تشریح
حضرت علی ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ یہ تیری کتنی حرماں نصیبی اور بدبختی ہے کہ آج کے دن کہ جو قبولیت دعا کا دن ہے اور جگہ یعنی میدان عرفات میں کہ جو مقدس و بابرکت جگہ ہے تو اللہ سے صرف نظر کر کے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا پھر رہا ہے؟ اس سے معلوم ہوا کہ مقدس و بابرکت مقامات مثلاً مساجد وغیرہ میں لوگوں سے مانگنا نامناسب بات ہے۔
وعن عمر رضي الله عنه قال : تعلمن أيها الناس أن الطمع فقر وأن الإياس غنى وأن المرء إذا يئس عن شيء استغنى عنه . رواه رزين
حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! جان لو کہ طمع محتاجگی ہے اور آدمیوں سے ناامید ہونا تونگری و بےپروائی ہے، انسان جب کسی چیز سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس سے بےپرواہ ہوجاتا ہے۔ (رزین)
تشریح
طمع محتاجگی ہے کا مطلب یہ ہے کہ طمع محتاجگی کی ایک صورت ہے یا یہ مطلب ہے کہ طمع محتاجگی کا ذریعہ ہے یعنی طمع کی وجہ سے انسان محتاج بنتا ہے بایں طور کہ اپنی طمع پوری کرنے کے لئے دوسرے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ ناامید ہونا تونگری و بےپروائی ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ انسان سے نا امیدی مستغنی اور بےپرواہ بنا دیتی ہے حضرت ابوالحسن شاذلی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے کسی نے علم کیمیا جو صرف دو لفظوں میں منحصر ہو طلب کیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ مخلوق اللہ سے صرف نظر کرو یعنی کسی انسان سے امیدیں قائم نہ کرو اور اللہ سے اس چیز کے بارے میں اپنی طمع منقطع کرلو جو تمہاری قسمت میں لکھی ہوئی چیزوں کے علاوہ ہے یعنی اللہ نے جو چیزیں تمہارے مقدر میں لکھ دی ہیں اس کے علاوہ دوسری چیزوں کی امید نہ رکھو۔ طمع کے معنی ہیں اس چیز پر نظر رکھنا یعنی اسے حاصل کرنے کی خواہش کرنا کہ جس کے حاصل ہونے میں شک ہو یعنی کسی چیز کے بارے میں یہ خیال ہو کہ اس کا مالک دے گا یا نہیں ہاں اگر کسی ایسی چیز کی کسی ایسے شخص سے حصول کی خواہش ہو جس پر اس کا ہو اس شخص سے کمال تعلق اور محبت و مروت کی بنا پر یقین ہو کہ وہ چیز مل جائے گی تو اسے طمع نہیں کہیں گے۔
سوال نہ کرنے والے کے لئے آنحضرت ﷺ کی بشات
وعن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يكفل لي أن لا يسأل الناس شيئا فأتكفل له بالجنة ؟ فقال ثوبان : أنا فكان لا يسأل أحدا شيئا . رواه أبو داود والنسائي
حضرت ثوبان ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص میرے ساتھ اس بات کا عہد کرے کہ وہ لوگوں کے آگے دست سوال دراز نہیں کرے گا تو میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں (ثوبان کہتے ہیں کہ) میں کبھی بھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا چناچہ ثوبان ؓ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے خواہ وہ کتنی ہی تنگیوں میں کیوں نہ مبتلا رہے ہو۔ ( ابوداؤد، نسائی)
تشریح
آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ میں اس شخص کے لئے اس بات کی ضمانت لوں گا کہ وہ بغیر کسی عذاب کے ابتداء ہی میں جنت میں داخل کیا جائے گا گویا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ کسی کے اگے دست سوال دراز نہ کرنے والا انشاء اللہ خاتمہ بالخیر کی سعادت سے نوازا جائے گا۔ لیکن اتنی بات ضرور سمجھ لیجئے کہ اس بارے میں وہ صورت مستثنی ہے جب کہ موت کا خوف ہو کیونکہ انتہائی شدید ضرورت ممنوع چیزوں کو بھی مباح کردیتی ہے لہٰذا اگر کوئی شخص ایسی پوزیشن میں ہو کہ اگر کسی سے کچھ نہ مانگے تو جان کے لا لے پڑجائیں تو اس کے لئے مانگنا اور اپنا جان کو بچاہی ضروری ہوگا بلکہ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص سخت بھوک میں مبتلا ہو اور وہ کسی سے کچھ مانگ کر نہ کھائے اور اسی حالت میں وہ مرجائے تو گنہگار مرے گا۔
وعن أبي ذر قال : دعاني رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يشترط علي : أن لا تسأل الناس شيئا قلت : نعم . قال : ولا سوطك إن سقط منك حتى تنزل إليه فتأخذه . رواه أحمد
حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے بلایا اور اس بات کا اقرار کرایا کہ کبھی بھی کسی سے کوئی چیز نہیں مانگو گے چناچہ میں نے اس بات کا اقرار کیا پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اگر تمہارا کوڑا بھی گرجائے تو کسی سے نہ مانگو یعنی کسی سے اٹھانے کے لئے بھی نہ کہو بلکہ تم خود سواری سے اتر کر اٹھا لو۔ (احمد)
تشریح
آنحضرت ﷺ کا آخری ارشاد ترک سوال کے بارے میں بطور مبالغہ ہے کیونکہ اگر کسی کا کوڑا گرجائے اور وہ اسے اٹھانے کے لئے کسی سے کہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے بلکہ حقیقت میں تو وہ اسی کی چیز ہے جسے وہ صرف اٹھا کردینے کے لئے کہہ رہا ہے لیکن چونکہ اس میں بھی ایک طرح کا سوال ہوتا ہے اس لئے آپ ﷺ نے بطور مبالغہ اس سے بھی منع فرمایا۔