مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 129 · 37 hadiths · Page 2 of 2

3916Mishkaat-al-Masabih

مال غنیمت میں خیانت کی سزا

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبا بكر وعمر حرقوا متاع الغال وضربوه . رواه أبو داود

اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد ( حضرت شعیب) سے اور وہ ( شعیب) اپنے دادا ( حضرت عبداللہ ابن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق نے مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان و اسباب جلا ڈالا اور اس کی پٹائی ( بھی) کی۔ ( ابوداؤد) تشریح اس خیانت کی سزا یہ دی کہ اس کا سامان و اسباب نذر آتش کردیا اور ازراہ تعزیر اس کی پٹائی بھی کی۔ بعض علماء جیسے حضرت امام احمد ابن حنبل وغیرہ نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا ہے اور کہا ہے کہ جو شخص مال غنیمت میں خیانت کرے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کے گھر کا سارا سامان و اسباب جلا دیا جائے، علاوہ جانوروں اور مصحف مجید ( قرآن کریم) کے، نیز اس چیز کو بھی نہ جلایا جائے جس کو اس نے مال غنیمت میں سے خیانت کر کے لیا ہے کیونکہ وہ ( اس کی ملکیت میں داخل نہیں ہے بلکہ) مجاہدین کا حق ہے۔ جب کہ تینوں آئمہ یعنی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ اس کا سامان و اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کو کوئی اور تعزیر جو حاکم وقاضی مناسب جانے دے۔ ان حضرات نے اس حدیث کو سخت تنبیہ و وعید پر محمول کیا ہے۔

3917Mishkaat-al-Masabih

خائن کی اطلاع نہ دینے والا بھی خائن کے حکم میں ہے

وعن سمرة بن جندب قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من يكتم غالا فإنه مثله . رواه أبو داود

اور حضرت سمرہ ابن جندب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص نے مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپایا ( یعنی وہ امیر و حاکم کے علم میں یہ بات نہیں لایا کہ فلاں شخص نے خیانت کی ہے) تو گنہگار ہونے کے اعتبار سے) وہ (بھی) خیانت کرنے والے کی طرح ہے۔ ( ابوداؤد )

3918Mishkaat-al-Masabih

غنیمت کا مال تقسیم ہونے سے پہلے اس کی خر ید فروخت کی مما نعت

وعن أبي سعيد قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن شري المغنم حتى تقسم . رواه الترمذي (2/412) 4016 - [ 32 ] ( لم تتم دراسته ) وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم : نهى أن تباع السهام حتى تقسم . رواه الدارمي

اور حضرت ابوسعید کہتے کہ رسول کریم ﷺ نے غنیمت کا مال تقسیم ہونے سے پہلے اس کو خریدنے سے منع فرمایا ہے (کیونکہ تقسیم سے پہلے اس کا کوئی مالک نہیں ہوتا۔ (تر مذی) اور حضرت ابوامامہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کی ممانعت کا اعلان فرمایا کہ ( مال غنیمت کے) حصے جب تک تقسیم نہ ہوجائیں ان کو فروخت نہ کیا جائے۔ (دارمی ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مال غنیمت کے اپنے حصہ کو تقسیم سے پہلے بیچنے لگے تو یہ جائز نہیں ہوگا ایک تو اس وجہ سے کہ جس حصہ کو وہ بیچنا چاہتا ہے ابھی وہ اس کی ملکیت میں نہیں آیا ہے ( جیسا کہ بعض علماء کا قول ہے کہ تقسیم سے پہلے کسی بھی حصہ کی ملکیت موقوف رہتی ہے) دوسرے اس وجہ سے کہ ( حصہ دار کو تقسیم سے پہلے مالک مان بھی لیا جائے تو خود اس (مالک) کو تقسیم سے پہلے تک یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے حصے میں کیا چیز آئے گی اور وہ چیز کیسی ہوگی، اس صورت میں اس حصے کو بیچنا گویا ایک ایسی چیز کو بیچنا لازم آئے گا جو غیر معلوم وغیر متعین ہے اور یہ ناجائز ہے۔

3919Mishkaat-al-Masabih

مال غنیمت میں ناحق تصرف کرنے والے دوزخ کی آگ کے سزاوار ہوں گے

وعن خولة بنت قيس : قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن هذه المال خضرة حلوة فمن أصابه بحقه بورك له فيه ورب متخوض فما شاءت به نفسه من مال الله ورسوله ليس له يوم القيامة إلا النار . رواه الترمذي

حضرت خولہ بنت قیس کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ یہ مال ایک سبز و شیریں چیز ہے (یعنی مال ایک ایسی چیز ہے جو انسان کی نظر کو بھاتا ہے اور دل کو لبھاتا ہے) لہٰذا جو شخص اس مال کو حق یعنی حلال ذریعہ سے حاصل کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت عطا کی جاتی ہے اور یاد رکھو بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مال یعنی مال غنیمت میں سے جس چیز کو ان کا دل چاہتا ہے اپنے تصرف میں لے آتے ہیں قیامت کے دن ان کے لئے صرف دوزخ کی آگ ہوگئی۔ (ترمذی )

3920Mishkaat-al-Masabih

ذوالفقار تلوار کا ذکر

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم تنفل سيفه ذا الفقار يوم بدر رواه أحمد وابن ماجه وزاد الترمذي وهو الذي رأى فيه الرؤيا يوم أحد

اور حضرت ابن عباس کہتے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی تلوار جس کا نام ذوالفقار تھا، جنگ بدر کے دن حصے سے زیادہ لی تھی۔ ( ابن ماجہ) اور ترمذی نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ اور یہ وہی تلوار ہے جس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے جنگ احد کے دن خواب دیکھا تھا۔ تشریح حصے سے زیادہ لی تھی کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر جو مال غنیمت ہاتھ لگا تھا اس میں یہ تلوار بھی تھی، جس کو آنحضرت ﷺ نے پسند کر کے اپنے حصے سے زائد لے لیا تھا۔ یہ بات صرف آنحضرت ﷺ کے لئے جائز تھی اور کسی کے لئے جائز نہیں۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوا، اس تلوار کا نام ذوالفقار تھا، جو ایک کافر منبہ ابن حجاج کی ملکیت تھی، وہ جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوگیا تھا، آنحضرت ﷺ کو یہ تلوار پسند آگئی، چناچہ آپ ﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت اس کو اپنے حصے سے زائد اپنے پاس رکھ لیا۔ چناچہ کتنی ہی جنگوں میں اور تلواروں کے ساتھ یہ تلوار بھی آنحضرت ﷺ کے پاس رہی۔ اور قاموس میں یہ لکھا ہے کہ یہ تلوار منبہ کے بیٹے عاص کی ملکیت تھی جو جنگ بدر میں ( حضرت علی کے ہاتھوں) مارا گیا، پھر آنحضرت ﷺ نے وہ تلوار حضرت علی ہی کو عطا فرما دی۔ اس تلوار کا نام ذوالفقار اس مناسبت سے تھا کہ اصل میں فقار پشت کی ہڈی کو کہتے ہیں، چونکہ اس تلوار کی پشت پر چھوٹے چھوٹے خوبصورت گڑھے تھے یا پشت کی ہڈیوں کی طرح جوڑ تھے، اس لئے اس کو ذوالفقار کہا جانے لگا۔ غزوہ احد کے موقع پر ذوالفقار سے متعلق خواب دیکھنے کا قصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک خواب میں یہ دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس تلوار ( ذوالفقار) کو ہلایا تو وہ درمیان سے ٹوٹ گئی، پھر دوبارہ اس ہلایا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ اچھی ہوگئی چناچہ غزوہ احد کے دن اس خواب کی یہ تعبیر سامنے آئی کہ پہلے کو شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن آخر میں فتح و کامرانی حاصل ہوئی۔

3921Mishkaat-al-Masabih

تقسیم سے پہلے مال غنیمت کی کسی چیز کو استعمال کرنے کی مما نعت

وعن رويفع بن ثابت أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يركب دابة من فيء المسلمين حتى إذا أعجفها ردها فيه ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يلبس ثوبا من فيء المسلمين حتى إذا أخلقه ردها فيه . رواه أبو داود

اور حضرت رویفع ابن ثابت سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے قطعًا روا نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کے ( مشترک) مال غنیمت کے کسی جانور پر ( بلا ضرورت شرعی) سوار ہو اور پھر جب وہ ( جانور) دبلا ہوجائے تو اس کو مال غنیمت میں واپس کر دے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے یہ قطعا روا نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کے (مشترک) مال غنیمت کے کسی کپڑے کو ( بلا ضرورت شرع پہنے اور پھر جب وہ (کپڑا) پرانا ہوجائے تو اس کو مال غنیمت میں واپس کر دے۔ ( ابودؤد) تشریح اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر اپنی سواری کے مصرف میں لانے کی وجہ سے وہ جانور دبلا نہ ہو تو اس صورت میں اس پر سوار ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن حقیقت میں نہ یہ مفہوم مراد ہے اور نہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ بات محض محاورۃ فرمائی گئی ہے کہ عام طور پر جانور سواری کے کام آنے سے دبلے ہوجاتے۔

3922Mishkaat-al-Masabih

مال غنیمت میں کھانے کی جو چیزیں ہاتھ آئیں ان کا حکم

وعن محمد بن أبي المجالد عن عبد الله بن أبي أوفى قال : قلت : هل كنتم تخمسون الطعام في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : أصبنا طعاما يوم خيبر فكان الرجل يجيء فيأخذ منه مقدار ما يكفيه ثم ينصرف . ورواه أبو داود (2/413) 4021 - [ 37 ] ( لم تتم دراسته ) وعن ابن عمر : أن جيشا غنموا في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم طعاما وعسلا فلم يؤخذ منهم الخمس . رواه أبو داود (2/413) 4022 - [ 38 ] ( لم تتم دراسته ) وعن القاسم مولى عبد الرحمن عن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قال : كنا نأكل الجزور في الغزو ولا نقسمه حتى إذا كنا لنرجع إلى رحالنا وأخرجتنا منه مملوءة . رواه أبو داود

اور حضرت محمد ابن ابوالمجالد، حضرت عبداللہ بن اوفی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ( حضرت عبداللہ) سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں کھانے کی چیزوں میں سے بھی خمس یعنی پانچواں حصہ نکالتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ غزوہ خیبر کے دن کھانے کی چیزیں بھی ہمارے ہاتھ لگی تھیں، چناچہ ہر کوئی شخص آتا اور ان میں سے بقدر کفایت لے کر واپس چلا جاتا۔ ( ابوداؤد) تشریح سوال کا مطلب یہ تھا کہ آیا ان چیزوں میں سے بھی خمس نکالا جاتا تھا یا جو چیزیں کھانے کی قسم سے ہوتیں، ان کو تقسیم سے متشنیٰ رکھا جاتا تھا کہ جو شخص چاہتا ان کو اپنے مصرف میں لے آتا؟ جواب کا حاصل یہ تھا کہ کھانے پینے کی چیزوں میں سے خمس نہیں نکالنا چاہئے لیکن اس بات کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ ایسی چیزوں میں سے جو کچھ بھی لیا جائے وہ بس اتنی ہی مقدار میں ہو کہ ضرورت و حاجت پوری ہوجائے اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ( ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ کے زمانے میں ( مسلمانوں کا) لشکر (جب جہاد سے واپس آیا تو) مال غنیمت میں کھانے کی چیزیں اور شہد لے کر آیا۔ چناچہ ( ان لشکر والوں نے ان چیزوں میں سے جو کچھ کھا پی لیا تھا یا وہ جو کچھ بچا کرلے لئے تھے اس میں سے) ان سے خمس یعنی پانچواں حصہ نہیں لیا گیا۔ ( ابوداؤد) اور حضرت قاسم ( تابعی) جو عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ( یعنی ان بعض صحابہ نے بیان کیا کہ ہم غزو وں میں اونٹ کا گوشت کھاتے اور اس کو تقسیم نہ کرتے ( یعنی ہم محاذ جنگ پر ضرورت کے وقت مال غنیمت کے اونٹوں کو ذبح کرتے اور انکا گوشت تقسیم کئے بغیر اپنی اپنی حاجت کے بقدر لے لیتے) یہاں تک کہ جب ہم ( سفر کے دوران) اپنے ڈیروں، خیموں میں واپس آتے تو ہمارے تھیلے گوشت سے بھرے ہوئے ہوتے۔ ( ابوداؤد) تشریح ابن ہمام فرماتے ہیں کہ جب مسلمان ( جہاد کے بعد) دارالاسلام واپس آتے ہوئے دارالحرب کی سرحدوں سے پار ہوجائیں تو اس کے بعد ان کے لئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ وہ اپنے جانوروں کو مال غنیمت میں سے گھاس دانہ کھلائیں یا مال غنیمت کی کھانے پینے کی چیزوں میں سے خود کچھ کھائیں کیونکہ اس صورت میں وہ ضرورت اپنی باقی نہیں رہ گئی ہے جس کی بناء پر دارالحرب میں مال غنیمت کی کھانے پینے کی چیزوں کا اپنے مصرف میں لانا مجاہدین کے لئے مباح تھا۔ نیز جس شخص کے پاس دارالحرب میں غیر تقسیم شدہ مال غنیمت کا گھاس دانہ یا کھانے پینے کی چیزیں اس کی ضرورت و حاجت سے زائد ہوں وہ ان کو مال غنیمت میں واپس کر دے۔

3923Mishkaat-al-Masabih

خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن بے عزت ہونا پڑے گا

وعن عبادة بن الصامت أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقول : أدوا الخياط والمخيط وإياكم والغلول فإنه عار على أهله يوم القيامة . رواه الدارمي (2/414) 4024 - [ 40 ] ( لم تتم دراسته ) ورواه النسائي عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده

اور حضرت عبادہ ابن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ دھاگے اور سوئی کی بھی ادائیگی کرو ( یعنی مال غنیمت میں سے اس قدر معمولی چیزیں بھی چھپا کر نہ رکھو) اور تم ( مال غنیمت میں یا مطلق خیانت کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خیانت کرنا خیانت کے مرتکب لوگوں کے لئے قیامت کے دن بےعزتی لانے والا ہوگا دارمی اور نسائی نے اس روایت کو عمر ابن شعیب سے اور انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے۔

3924Mishkaat-al-Masabih

مال غنیمت میں حقیر ترین چیز کی خیانت مستو جب مواخذہ ہے

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : دنا النبي صلى الله عليه و سلم من بعير فأخذ وبرة من سنامه ثم قال : يا أيها الناس إنه ليس لي من هذا الفيء شيء ولا هذا ورفع أصبعه إلا الخمس والخمس مردود عليكم فأدوا الخياط والمخيط فقام رجل في يده كبة شعر فقال : أخذت هذه لأصلح بها بردعة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أما ما كان لي ولبني عبد المطلب فهو لك . فقال : أما إذا بلغت ما أرى فلا أرب لي فيها ونبذها . رواه أبو داود

اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ( ایک دن) نبی کریم ﷺ (مال فئی میں آئے ہوئے) ایک اونٹ کے پاس تشریف لائے اور اس کے کوہان کے ( دو ایک) بال اکھاڑ کر فرمایا لوگو! حقیقت یہ ہے کہ اس مال فئی میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے اور۔ ( آپ ﷺ کی جس انگلی پر وہ بال تھے، لوگوں کو دکھانے کے لئے) اس انگلی کو اٹھا کر فرمایا کہ یہ ( مال بھی اتنا معمولی حصہ بھی) میرے لئے نہیں ہے البتہ خمس یعنی پانچویں حصے کا میں حقدار ہوں لیکن خمس بھی ( میری ذات پر خرچ نہیں ہوتا بلکہ، تمہارے ہی اوپر خرچ کیا جاتا ہے ( یعنی خمس کا مال تمہاری ہی بھلائی میں خرچ ہوتا ہے بایں طور کہ اس سے تمہارے لئے ہتھیار اور گھوڑے وغیرہ حاصل کئے جاتے ہیں) لہذا (اگر تمہارے پاس مال غنیمت میں کا) سوئی داگہ بھی ہو تو اس کو) کا اجر جمع کرا دو۔ ( ایک شخص جس کے ہاتھ میں بالوں کی رسی کا ایک ٹکڑا تھا، کھڑا ہوا اور کہا کہ میں نے رسی کے اس ٹکڑے کو اپنے پاس رکھ لیا تھا تاکہ اس کے ذریعہ پالان کے نیچے کی کملی کو ( گانٹھ کر) ٹھیک کرلو ( اب) اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جہاں تک اس چیز کا سوال ہے جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصے کی ہے تو وہ تمہاری ہے ( یعنی اس ٹکڑے میں سے جو کچھ میرے خاندان بنو ہاشم اور ان کے حلیف و ساتھی بنو عبد المطلب کے لوگوں کے حصے کا ہے وہ تو ہم نے تمہیں بخش دیا لیکن اس میں سے جو کچھ ہمارے علاوہ دوسرے مجاہدین کا حصہ اس کے بارے میں تم جانو، اگر تم ان سے بھی ان کے حصے معاف کرا لو گے تو کوئی مؤ اخذہ نہیں ہوگا اور اگر ان کے حصے معاف نہیں کرائے تو قیامت کے دن پکڑے جاؤ گے ہے۔ اس شخص نے ( یہ سن کر کہا) کہ جب یہ رسی ( گناہ کی) اس حد تک پہنچ گئی ہے جو میرے سامنے ہے تو پھر مجھ کو اس بات کی ضرورت نہیں ہے اور ( یہ کہہ کر) اس نے اس رسی کو پھینک دیا۔ ( ابوداؤد )

3925Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ خمس کا مال بھی مسلمانوں ہی کے اجتماعی مفاد میں خرچ کرتے تھے

وعن عمرو بن عبسة قال : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى بعير من المغنم فلما سلم أخذ وبرة من جنب البعير ثم قال : ولا يحل لي من غنائمكم مثل هذا إلا الخمس والخمس مردود فيكم . رواه أبو داود

اور حضرت عمرو ابن عبسہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( ایک موقع پر) مال غنیمت کے ایک اونٹ کو سترہ قرار دے کر ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا (اور نماز سے فارغ ہوگئے) تو اس اونٹ کے پہلو سے (دو ایک) بال اکھاڑے اور پھر فرمایا کہ تمہارے مال غنیمت میں میرے لئے اتنا (یعنی ان بالوں کے بقدر) بھی حصّہ نہیں ہے علاوہ خمس کے اور وہ خمس بھی تمہاری ضرورتوں میں خرچ کیا جاتا ہے۔ (ابوداود) تشریح اگر پہلو سے یہ مراد ہو کہ آپ ﷺ نے اونٹ کے کوہان کی کسی جانب سے بال اکھاڑے تو اس صورت میں یہ وہی واقعہ ہوگا جس کا ذکر اوپر کی حدیث میں تھا اور اگر ظاہری مفہوم یعنی اونٹ کا پہلو مراد لیا جائے تو اس صورت میں یہ کوئی دوسرا واقعہ ہوگا۔

3926Mishkaat-al-Masabih

ذوی القربیٰ میں مال خمس کی تقسیم کے موقع پر حضرت عثمان وغیرہ کی محرومی

وعن جبير بن مطعم قال : لما قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم سهم ذوي القربى بين بني هاشم وبني المطلب أتيته أنا وعثمان بن عفان فقلنا : يا رسول الله هؤلاء إخواننا من بني هاشم لا ننكر فضلهم لمكانك الذي وضعك الله منهم أرأيت إخواننا من بني المطلب أعطيتهم وتركتنا وإنما قرابتنا وقرابتهم واحدة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما بنو هاشم وبنو المطلب شيء واحد هكذا . وشبك بين أصابعه . رواه الشافعي وفي رواية أبي داود والنسائي نحوه وفيه : إنا وبنو المطلب لا نفترق في جاهلية ولا إسلام وإنما نحن وهم شيء واحد وشبك بين أصابعه

اور حضرت جبیر ابن مطعم کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ نے (مال غنیمت میں سے اپنے قرابتداروں کا حصّہ (یعنی خمس کہ جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے) بنو ہاشم اور بنو مطلب کے درمیان تقسیم کیا تو میں یعنی جبیر (بنو نوفل کی طرف سے) اور عثمان ابن عفان ( بنو عبد شمس کی طرف سے) آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہمارے یہ بھائی جن کا تعلق بنو ہاشم سے ہے، ہم ان کی فضیلت و بزرگی کا تو انکار نہیں کرتے کیونکہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان میں پیدا کیا ہے لہٰذا اس اعتبار سے ہماری بہ نسبت وہ آپ کے زیادہ قریب ہیں ( کیونکہ ان کے اور آپ ﷺ کے جد ایک ہی ہیں (یعنی ہاشم) اگرچہ ہمارے اور ان کے جد اعلیٰ بھی ایک ہی ہیں) (یعنی عبد مناف) لیکن ہمیں یہ بتایئے کہ اس کا کیا سبب ہے کہ آپ ﷺ نے (خمس کے مال میں سے جو ذوی القربیٰ کا حصّہ ہے) ہمارے ان بھائیوں کو تو حصّہ دیا جن کا تعلق بنو مطلب سے ہے اور ہمیں محروم رکھا جب کہ ہماری یعنی بنو نوفل اور بنی عبد شمس کی اور ان کی یعنی بنی مطلب کی قرابت ایک ہی ہے (بایں طور کہ جس طرح ان کے دادا ہاشم کے بھائی تھے اسی طرح ہمارے دادا بھی ہاشم کے بھائی تھے گویا ان دونوں حضرات کی غرض کا حاصل یہ تھا کہ مال غنیمت میں سے جو خمس نکالا جاتا ہے وہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق آپ ﷺ کے قرابت داروں کا حصّہ ہے، چناچہ آپ ﷺ نے اپنے قرابت داروں کی ایک شاخ بنو مطلب کو مال خمس میں سے دیا لیکن دوسری دو شاخوں یعنی بنو نوفل اور بنو عبد شمس کو کچھ نہیں دیا، جب کہ یہ ساری شاخیں ایک ہی جد اعلیٰ یعنی عبد مناف کی اولاد ہیں، تو اس امتیازی سلوک کی کیا وجہ ہے؟ ) آنحضرت ﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان داخل کر کے (اور اس کی طرف اشارہ کر کے) فرمایا کہ (میں) اس کے علاوہ اور کچھ نہیں (جانتا) کہ (جس طرح دونوں ہاتھوں کی یہ انگلیاں باہم مل کر ایک چیز ہوگئی ہیں اسی طرح) بنو ہاشم اور بنو مطلب بھی ایک چیز ہیں۔ (شافعی) ابوداو د اور نسائی کی روایت بھی اسی طرح ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہم اور مطلب کی اولاد، نہ زمانہ جاہلیت میں کبھی ایک دوسرے کے مخالف ہوئے اور نہ زمانہ اسلام میں، لہٰذا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ہم اور وہ، دونوں ایک چیز ہیں یہ کہہ کر آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں۔

3927Mishkaat-al-Masabih

ابوجہل کے قتل کا واقعہ

عن عبد الرحمن بن عوف قال : إني واقف في الصف يوم بدر فنظرت عن يميني وعن شمالي فإذا بغلامين من الأنصار حديثة أسنانها فتمنيت أن أكون بين أضلع منهما فغمزني أحدهما فقال : يا عم هل تعرف أبا جهل ؟ قلت : نعم فما حاجتك إليه يا ابن أخي ؟ قال : أخبرت أنه يسب رسول الله صلى الله عليه و سلم والذي نفسي بيده لئن رأيته لا يفارق سوادي سواده حتى يموت الأعجل منا فتعجبت لذلك قال : وغمزني الآخر فقال لي مثلها فلم أنشب أن نظرت إلى أبي جهل يجول في الناس فقلت : ألا تريان ؟ هذا صاحبكما الذي تسألاني عنه قال : فابتدراه بسيفهما فضرباه حتى قتلاه ثم انصرفا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبراه فقال : أيكما قتله ؟ فقال كل واحد منهما : أنا قتله فقال : هل مسحتما سيفيكما ؟ فقالا : لا فنظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى السيفين فقال : كلاكما قتله . وقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم بسلبه لمعاذ بن عمرو بن الجموح والرجلان : معاذ بن عمرو بن الجموح ومعاذ بن عفراء (2/415) 4029 - [ 45 ] ( متفق عليه ) وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم بدر : من ينظر لنا ما صنع أبو جهل ؟ فانطلق ابن مسعود فوجده قد ضربه ابنا عفراء حتى برد قال : فأخذ بلحيته فقال : أنت أبو جهل فقال : وهل فوق رجل قتلتموه . وفي رواية : قال : فلو غير أكار قتلني

حضرت عبدالرحمٰن ابن عوف کہتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن میں ( دشمن کی مقابل) صف میں کھڑا تھا، جب میں نے دائیں بائیں نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں دو انصار لڑکوں کے درمیان کھڑا ہوں، جو بالکل نوعمر تھے، مجھے یہ تمنّا ہوئی کہ کاش (اس وقت) میں ان دونوں سے زیادہ طاقتور اور تجربہ کار دو آدمیوں کے درمیان کھڑا ہوتا (یعنی) میں نے دونوں نوعمروں کو حوصلہ اور شجاعت کے اعتبار سے بےوقعت جانا اور یہ خیال کیا کہ چونکہ یہ نوعمر اور نا آزمودہ کار ہیں، اس لئے ہوسکتا ہے کہ دشمن کے حملہ کی تاب نہ لائیں اور معرکہ کے وقت بھاگ کھڑے ہوں جس سے میری ذات کو بھی بٹہ لگے، میں انہیں خیال میں غلطاں و پیچاں تھا کہ) ( اچانک ان دونوں میں سے ایک نے مجھے ٹہوکا دیا اور کہا کہ چچا جان! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں، وہ کونسا ہے اور کہاں ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں! میں جانتا ہوں، لیکن میرے بھتیجے! تمہیں ابوجہل سے کیا غرض ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ (لعین ابوجہل) رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیا کرتا ہے، اس ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں اس کو دیکھ لوں تو میرا جسم اس کے جسم سے اس وقت تک جدا نہ ہوگا جب تک ہم میں سے کوئی ایک موت کی طرف بڑھنے میں جلدی نہ کرے ( یعنی ابوجہل کے خلاف میرے دل میں اتنی نفرت ہے کہ میں اس کو دیکھتے ہی اس پر جھپٹ پڑوں گا اور اس وقت تک اس سے لڑوں گا جب تک ہم دونوں میں سے جس کی موت پہلے آنی والی ہوگی وہ نہ مرجائے خواہ میں شہید ہوجاؤں، خواہ میں اس کو جہنم رسید کروں )۔ حضرت عبد الرحمٰن کہتے ہیں کہ میں اس نوعمر کی اس بات کو سن کر حیران رہ گیا ( کہ خدایا، ان نوعمروں کے دل میں آنحضرت ﷺ کی کتنی محبت ہے اور ان کے جذبات میں ہمت و حوصلہ اور شجاعت و بہادری کا کیسا محشر بپا ہے) عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ( پھر دوسرے لڑکے نے مجھے ٹہوکا دیا اور اس نے بھی وہی الفاظ کہے جو پہلے نے کہے تھے، اس کے بعد میں نے کوئی توقف نہ کیا اور ابوجہل کو دیکھا جو (دشمن کے) لوگوں میں پھر رہا تھا، میں نے (اس کی طرف اشارہ کر کے) ان لڑکوں سے کہا کیا تم اس شخص کو نہیں دیکھ رہے جو (دشمن کے گروہ میں) پھر رہا ہے؟ یہی تمہارا وہ مطلوب ہے جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے (یعنی اس شخص کو پہچان لو یہی ابوجہل ہے )۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ (یہ سنتے ہی) وہ دونوں لڑکے اپنی تلوار سنبھال کر فورًا ابوجہل کی طرف لپکے اور اس پر حملہ کردیا۔ یہاں تک کہ اس کو قتل کر ڈالا، پھر دونوں رسول کریم ﷺ کے پاس لوٹ کر آئے اور آپ کو (اس واقعہ سے) آگاہ کیا، آپ ﷺ نے پوچھا کہ تم دونوں میں سے کس نے اس کو قتل کیا ہے؟ ان میں سے ہر ایک نے عرض کیا کہ اس کو میں نے قتل کیا ہے آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم دونوں نے اپنی تلواریں پونچھ ڈالی ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں چناچہ آپ ﷺ نے ان دونوں کی تلواروں کو دیکھا اور فرمایا کہ تم دونوں ہی نے اس کو قتل کیا ہے نیز رسول کریم ﷺ نے حکم دیا کہ ابوجہل کا سامان معاذ ابن عمرہ ابن جموح کو دیا جائے۔ اور وہ دونوں لڑکے (جنہوں نے ابوجہل کو موت کے گھاٹ اتارا) معاذ ابن عمرو ابن جموح اور معاذ ابن عفراء تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح صحیح بخاری کی روایت میں معاذ ابن عفراء کے بجائے معوذ ابن عفراء ہے۔ نیز آگے جو روایت آرہی ہے اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ابوجہل کو عفراء کے دونوں بیٹوں نے قتل کیا، جب کہ اوپر جو روایت نقل کی گئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان دونوں قتل کرنے والوں میں عفراء کا ایک ہی بیٹا تھا، اس طرح دونوں روایتوں میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے چناچہ علماء محققین نے اس تضاد کو اس توجیہہ کے ذریعے دور کیا ہے کہ وہ دونوں ایک ماں کے بیٹے تھے لیکن ان کے باپ الگ الگ تھے، اس اعتبار سے وہ دونوں ماں کی طرف سے تو حقیقی بھائی تھے اور باپ کی طرف سے سوتیلے بھائی تھے، ان کی ماں کا نام عفراء تھا۔ ان میں سے ایک کے باپ کا نام عمرو ابن جموح تھا اور دوسرے کے باپ کا نام قسطلانی کے قول کے مطابق حارث تھا، چناچہ ان میں سے ایک کو اس کے باپ کی طرف منسوب کر کے معاذ ابن جموح کہا گیا اور دوسرے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کر کے معاذ ابن عفراء یا معوذ ابن عفراء کہا گیا۔ اس موقع پر دو سوال اور بھی پیدا ہوتے ہیں، ایک تو یہ کہ جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابوجہل کو تم دونوں ہی نے قتل کیا ہے تو پھر آپ ﷺ نے ابوجہل کا سامان ان دونوں کو دینے کے بجائے ان میں سے ایک ہی کو دینے کا حکم کیوں دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابوجہل کو قتل کرنے میں شریک تو شاید دونوں ہی رہے ہوں گے لیکن اصل میں جس نے پہلے ابوجہل پر حملہ کر کے اس کو بھاگنے اور چلنے پھرنے وغیرہ سے مجبور اور بےدم بنادیا ہوگا وہ ایک ہی رہا ہوگا پھر بعد میں دوسرے نے بھی آ کر اس پر مزید وار کر کے اس کو اور زیادہ زخمی کردیا ہوگا، اس اعتبار سے اس کے سامان کا مستحق اسی کو قرار دیا گیا جس نے پہلے حملہ کر کے اس کو بھاگنے یا مدافعتی حملہ کرنے سے ناکارہ کردیا تھا لیکن آپ ﷺ نے دوسرے کو بھی خوش کرنے کے لئے یہ فرما دیا کہ اس کو تم دونوں نے قتل کیا ہے۔ دوسرا سوال وہی ہے جو دوسری فصل میں حضرت ابن مسعود، کی اس روایت کے ضمن میں بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابوجہل کی تلوار میرے حصے سے زائد مجھ کو عطا کی، اس روایت میں یہ بھی بیان کیا گیا تھا کہ ابوجہل کو حضرت ابن مسعود نے قتل کیا، اس اعتبار سے گویا ان دونوں روایتوں میں تضاد واقع ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں نوعمروں نے ابوجہل کو زخمی کر کے زمین پر ڈال دیا، جب ابن مسعود نے دیکھا اس میں زندگی کی رمق موجود ہے تو انہوں نے اس کا سر تن سے جدا کردیا، اس طرح، حضرت ابن مسعود کے اس عمل کو ابوجہل کے قتل سے تعبیر کیا گیا، نیز آنحضرت ﷺ نے اس بناء پر کہ اس کے قتل میں بہر حال ابن مسعود کا بھی کچھ نہ کچھ حصّہ تھا اس لئے ان کو بھی اس کے سامان کی ایک چیز یعنی تلوار عطا فرمائی۔ ایک بات یہ بھی ملحوظ رکھنی چاہئے، کہ حضرت امام مالک کے بعض متبعین کا یہ قول ہے کہ اس بارے میں امام سردار کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جو چاہے فیصلہ کرے اور مقتول کا سامان جس کو چاہے دے دے، اس صورت میں مذکورہ بالا دونوں سوالوں کے پیدا ہونے کا بھی موقع باقی نہیں رہ جاتا۔ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جنگ بدر کے دن (میدان جنگ میں) فرمایا کہ کون شخص ہے جو دیکھ کر ہمیں بتائے کہ ابوجہل نے کیا کیا ( یعنی اس کا حشر کیا ہوا، آیا وہ مارا گیا، یا زندہ ہے؟ ) چناچہ ابن مسعود گئے اور انہوں نے ابوجہل کو اس حالت میں پایا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اس کو مار مار کر ٹھنڈا یعنی قریب المرگ کردیا تھا۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے (یہ دیکھ کر) ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ لی اور اس سے کہا کہ تو ابوجہل ہی ہے نا!؟ ابوجہل نے (ابن مسعود کے اس سوال کے پیچھے چھپے ہوئے طنز اور حقارت کو محسوس کرلیا اور) کہا کہ بیشک میں ابوجہل ہی ہوں لیکن) کیا اس شخص سے زیادہ بڑے مرتبے کے ہو جس کو تم نے قتل کیا ہے؟ یعنی جس شخص کو تم نے قتل کیا ہے (اس سے زیادہ بڑے مرتبے کا کوئی شخص نہیں ہے ( ان الفاظ کے ذریعہ گویا ابوجہل نے یہ دعویٰ کیا کہ قریش میں مجھ سے زیادہ بڑے مرتبے کا کوئی شخص نہیں ہے )۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ابوجہل نے (اس موقع پر) کہا کہ اگر غیر زراعت پیشہ لوگ مجھے قتل کرتے تو بہت بہتر ہوتا۔ (بخاری ومسلم ) تشریح اگر غیر زراعت پیشہ لوگ مجھے قتل کرتے الخ سے ابوجہل کا مطلب یہ تھا کہ مجھے اس میں کوئی عار محسوس نہیں ہوئی ہے کہ تم لوگوں نے مجھے قتل کردیا ہے لیکن اس بات کا افسوس ضرور ہے کہ مجھے ان آدمیوں نے مارا ہے جو کھیتی باڑی کرنے والے ہیں اگر کاش! مجھے ان کے علاوہ دوسرے لوگ مارتے تو میرے نزدیک یہ زیادہ بہتر ہوتا۔ گویا ابوجہل نے عفراء کے دونوں بیٹوں کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے اس کو قتل کیا تھا چناچہ وہ دونوں انصار سے تعلّق رکھتے تھے اور انصار کھیتی باڑی کرتے تھے۔ بایں طور کہ ان کے پاس کھیت بھی تھے اور کھجور کے باغات بھی۔

3928Mishkaat-al-Masabih

کسی کو مال دینے سے اس کی دینی فضیلت لازم نہیں آتی

وعن سعد بن أبي وقاص قال : أعطى رسول الله صلى الله عليه و سلم رهطا وأنا جالس فترك رسول الله صلى الله عليه و سلم منهم رجلا وهو أعجبهم إلي فقمت فقلت : ما لك عن فلان ؟ والله إني لأراه مؤمنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أو مسلما ذكر سعد ثلاثا وأجابه بمثل ذلك ثم قال : إني لأعطي الرجل وغيره أحب إلي منه خشية أن يكب في النار على وجهه . متفق عليه . وفي رواية لهما : قال الزهري : فترى : أن الإسلام الكلمة والإيمان العمل الصالح

حضرت ابن ابی وقاص کہتے ہیں کہ (ایک دن) جب کہ میں مجلس نبوی ﷺ میں بیٹھا ہوا تھا، رسول کریم ﷺ نے ایک جماعت کو کچھ مال عطا فرمایا اور ( اس جماعت میں سے) ایک شخص کو رسول کریم ﷺ نے چھوڑ دیا ( یعنی اس کو کچھ نہیں دیا) حالا ن کہ وہ شخص میرے نزدیک ( دین کے اعتبار سے ان میں سب سے بہتر تھا، ( یہ دیکھ کر) میں کھڑا ہوا اور آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ فلاں شخص کے لئے کیا ہے یعنی آپ ﷺ نے اس کو اپنے عطیہ سے کیوں محروم رکھا؟ اللہ کی قسم! ( میں تو) اس کو مؤمن صادق سمجھتا ہوں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ یوں نہ کہو کہ میں اس کو مؤمن صادق سمجھتا ہوں بلکہ یہ کہو کہ میں اس کو مسلمان سمجھتا ہوں۔ سعد نے ( آپ ﷺ کے سامنے) تین بار یہ بات کہی اور آنحضرت ﷺ نے بھی (ہر بار) اسی طرح جواب دیا اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں ایک شخص کو (مال) دیتا ہوں درآنحالیکہ اس کی نسبت دوسرا شخص میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں وہ شخص منہ کے بل دوزخ میں نہ ڈالا جائے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح بلکہ یہ کہو الخ اس ارشاد کے ذریعے آنحضرت ﷺ نے یہ واضح کیا کہ ایمان حقیقی کہ جس کا تعلق قلب کی گہرایئوں اور صدق باطن سے ہوتا ہے، بہت اعلیٰ مرتبہ ہے اور چونکہ یہ کوئی ظاہری چیز نہیں ہوتی اس لئے اس پر مطلع ہونا ممکن نہیں ہے (یعنی کسی شخص کے ظاہری احوال کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ناممکن ہے کہ اس کے باطنی اعمال کیسے ہیں اور اس کا ایمان کس درجہ کا ہے، کیونکہ ایمان حقیقی کوئی نظر آنے والی چیز نہیں ہے )۔ اس کے برخلاف اسلام، ایک نظر آنے والی چیز ہے کیونکہ اسلام نام ہے ظاہری اطاعت و فرمانبرداری کا، اس لئے اگر تمہاری نظروں میں اس شخص کے ظاہری اعمال بہت اچھے ہیں تو تم اس کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ تو کہہ سکتے ہو کہ میں اس کو اچھا مسلمان سمجھتا ہوں لیکن یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اس کو مؤمن صادق سمجھتا ہوں۔ گویا اس طرح آنحضرت ﷺ کا مقصد سعد کو اس غیر مناسب بات پر متنبّہ کرنا تھا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے اس شخص کے مستحق مال ہونے کو اپنی دلیل کے ساتھ بیان کیا اور آنحضرت ﷺ کی طرف سے اس شخص کو مال نہ دیئے جانے کو بعید از حقیقت جانا نیز انہوں نے اس شخص کے ایمان حقیقی کا دعویٰ کیا۔ اس کی وجہ یہ اندیشہ ہوتا ہے الخ اس سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ کسی شخص کو مال دینے سے اس کو پسندیدہ سمجھنا یا اس کو افضل جاننا لازم نہیں آتا اور نہ یہ ضروری ہے کہ مال کا دیا جانا دینی فضیلت و امتیاز کے اعتبار سے ہو بلکہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس شخص کا ایمان کمزور ہوتا ہے اس کو تالیف قلب کے پیش نظر مال عطا کیا جاتا ہے تاکہ وہ محض مال نہ پانے کی وجہ سے کسی مایوسی اور غصہ کا شکار ہو کر کفر کے اندھیروں میں نہ چلا جائے اور پھر دوزخ میں ڈالا جائے۔ لہٰذا اے سعد! اس شخص کو مال دیئے جانے کا مطالبہ اتنے بڑے دعوے کے ساتھ نہ کرو کہ وہ کامل الایمان مؤمن ہے جب کہ اس کے حقیقی و کامل ایمان کا یقین کرنا بھی تمہارے لئے ممکن نہیں ہے۔ اسلام کلمہ کا نام ہے الخ واضح رہے کہ اصل میں تو زہری کو یوں کہنا چاہیے تھا کہ اسلام، عمل صالح اور احکام شریعت کی اطاعت و فرمانبرداری سے عبارت ہے اور ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے، لیکن انہوں نے اس مشہور تعریف کے بجائے اسلام کو کلمہ سے اور ایمان کو عمل صالح سے تعبیر کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اقرار اسلام کا تعلّق کلمہ شہادت کو زبان سے ادا کرنے سے ہے، جس شخص نے کلمہ شہادت پڑھا اس نے گویا اپنے اسلام کا اقرار کیا اور یہ اقرار اس بات کے لئے کافی ہے کہ اس کو ظاہری طور پر مسلمان مانا جائے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت سعد سے یہی فرمایا تھا کہ تم اس شخص کے مسلمان ہونے کا تو یقین کرسکتے ہو کیونکہ اس نے اپنی زبان سے کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے اسلام کا اقرار کیا اور یہ اقرار اس بات کے لئے کافی ہے کہ اس کو بظاہر مسلمان ثابت کرنے لئے کافی ہے، اسی بات کو زہری نے اس سے تعبیر کیا کہ اسلام کلمہ کا نام ہے کہ جس شخص نے کلمہ شہادت پڑھ لیا اس پر مسلمان ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا، اب رہی ایمان کو عمل صالح سے تعبیر کرنے کی بات، تو اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ عمل صالح صادر ہونے کی بنیاد کیا ہوتی ہے؟ بالکل ظاہر سی بات ہے کہ اس کی بنیاد تصدیق قلبی یعنی دل سے ایمان لانا ہے، جو شخص اخلاص کے ساتھ عمل صالح کرتا ہے وہ گویا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کے قلب میں ایمان جاگزیں ہے اور اس سے عمل صالح کا صادر ہونا تصدیق قلبی اور کمال ایمان کی بناء پر ہے، اس اعتبار سے زہری نے ایمان کی وضاحت عمل صالح سے کی۔

3929Mishkaat-al-Masabih

جنگ میں شریک نہ ہونے کے باوجود مال غنیمت میں سے حضرت عثمان کا حصہ

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قام يعني يوم بدر فقال : إن عثمان انطلق في حاجة الله وحاجة رسوله وإني أبايع له فضرب له رسول الله بسهم ولم يضرب بشيء لأحد غاب غيره . رواه أبو داود

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ جنگ بدر کے دن ( خطبہ دینے کے لئے) کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ بلا شبہ عثمان، اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہیں اس لئے میں (خود) ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں۔ پھر رسول کریم ﷺ نے حضرت عثمان کے لئے (جنگ بدر کے مال غنیمت میں سے حصہ مقرر کیا اور آپ ﷺ نے حضرت عثمان کے علاوہ اور کسی ایسے شخص کے لئے حصہ مقرر نہیں کیا جو جنگ میں شریک نہیں تھا۔ (ابو داو د) تشریح آنحضرت ﷺ جب اپنے صحابہ کے ہمراہ بدر پہنچے تو اس وقت آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ جو حضرت عثمان کے نکاح میں تھی سخت بیمار تھی، چناچہ آنحضرت ﷺ نے عثمان کو مدینہ بھیج دیا تاکہ وہ وہاں جا کر حضرت رقیہ کی تیمار داری کریں۔ اور پھر جب مال غنیمت کی تقسیم کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس جنگ کے تئیں عثمان پر جو ذمہ داری عائد ہوئی تھی اس کو انہوں نے پورا کیا اور وہ جنگ میں شریک ہونے کے لئے یہاں آئے، لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا یہ حکم ہوا کہ وہ مدینہ واپس چلے جائیں اور رقیہ کی دیکھ بھال کریں، اس اعتبار سے وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کے کام سے گئے ہیں، لہٰذا میں خود ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور پھر آپ ﷺ نے مال غنیمت میں حضرت عثمان کا بھی حصہ لگایا۔

3930Mishkaat-al-Masabih

ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر ہے

وعن رافع بن خديج قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجعل في قسم المغانم عشرا من الشاء ببعير . رواه النسائي

اور حضرت رافع ابن خدیج کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیتے۔ (نسائی )

3931Mishkaat-al-Masabih

پہلی امتوں میں مال غنیمت کو آسمانی آگ جلا ڈالتی تھی

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غزا نبي من الأنبياء فقال لقومه : لا يتبعني رجل ملك بضع امرأة وهو يريد أن يبني بها ولما يبن بها ولا أحد بنى بيوتا ولم يرفع سقوفها ولا رجل اشترى غنما أو خلفات وهو ينتظر ولادها فغزا فدنا من القرية صلاة العصر أو قريبا من ذلك فقال للشمس : إنك مأمورة وأنا مأمور اللهم احبسها علينا فحبست حتى فتح الله عليه فجمع الغنائم فجاءت يعني النار لتأكلها فلم تطعمها فقال : إن فيكم غلولا فليبايعني من كل قبيلة رجل فلزقت يد رجل بيده فقال : فيكم الغلول فجاؤوا برأس مثل رأس بقرة من الذهب فوضعها فجاءت النار فأكلتها . زاد في رواية : فلم تحل الغنائم لأحد قبلنا ثم أحل الله لنا الغنائم رأى ضعفنا وعجزنا فأحلها لنا

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انبیاء میں سے ایک نبی ( یعنی حضرت یوشع ابن نون (علیہ السلام) کا ذکر ہے کہ ایک مرتبہ انہوں) نے جہاد کا ارادہ کیا اور جب وہ جہاد کے لئے روانہ ہونے لگے تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ شخص نہ چلے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو اور اس عورت کو اپنے گھر لا کر اس سے مجامعت کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی تک اسے مجامعت نہ کی ہو اور میرے ساتھ نہ وہ شخص چلے جس نے گھر بنایا ہو لیکن (ابھی تک) اس کی چھت نہ ڈال سکا ہو نیز وہ شخص (بھی) میرے ساتھ نہ چلے جس نے گابھن بکریاں یا گابھن اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچے جننے کا منتظر ہو۔ اس کے بعد وہ نبی ( اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ) جہاد کے لئے روانہ ہوئے اور جب اس بستی کے قریب پہنچے کہ جہاں وہ جہاد کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تو نماز عصر کا وقت ہوچکا تھا (یعنی وہ ایسے وقت اس بستی کے قریب پہنچے جب عصر کی نماز کا وقت ہوتا ہے یا ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے) اس نبی نے آفتاب کو مخاطب کر کے کہا کہ تو بھی (چلنے پر) مامور ہے اور میں بھی ( اس بستی کو فتح کرنے پر) مامور ہوں۔ اے اللہ! تو اس آفتاب کو ٹھہرا دے۔ چناچہ آفتاب ٹھہرا دیا گیا ( یعنی قدیم ماہرین فلکیات کے نظریہ کے مطابق آفتاب کی رفتار کو یا جدید نظریہ کے مطابق زمین کی گردش کو حکم الٰہی سے روک دیا گیا تاکہ رات کی تاریکی سے پہلے پہلے وہ نبی جہاد کرلیں) تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو فتح عطاء فرما دی۔ پھر جب مال غنیمت جمع کیا گیا اور اس کو جلا ڈالنے کے لئے آگ آئی تو اس آگ نے مال غنیمت کو نہیں جلایا، (یہ دیکھ کر) اس نبی نے (اپنے ساتھیوں سے) فرمایا کہ (یقینا تمہارے اندر مال غنیمت میں خیانت واقع ہوئی ہے یعنی تم میں سے کسی نے مال غنیمت کے اندر خیانت کی ہے ( جس کی وجہ سے یہ آگ اپنا کام نہیں کر رہی ہے) لہٰذا تم میں سے ہر قبیلہ کے ایک ایک شخص کو چاہئے کہ وہ بیعت کرے، چناچہ ( جب بیعت شروع ہوئی اور ہر قبیلہ کا ایک ایک آدمی اپنا ہاتھ اس نبی کے ہاتھ میں دینے لگا) تو ایک شخص کا ہاتھ اس نبی کے ہاتھ کو چپک کر رہ گیا، نبی نے ( اس شخص سے) فرمایا کہ ( اس ذریعہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ) خیانت تمہارے قبیلے کی طرف سے ہوئی ہے۔ پھر اس قبیلے کے لوگ سونے کا ایک سر لائے جو بیل کے سر کی مانند تھا اور اس کو رکھ دیا، اس کے بعد آگ آئی اور اس نے اس کو جلا دیا۔ اور ایک روایت میں راوی سے یہ عبارت بھی نقل کی ہے کہ ( آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ) چناچہ ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت حلال نہیں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کو ہمارے لئے حلال قرار دیا، اللہ تعالیٰ نے ہمیں (مالی طور پر) ضعیف و کمزور دیکھا تو مال غنیمت کو ہمارے لئے حلال کردیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت یوشع (علیہ السلام) نے جہاد کے لئے روانگی کے وقت ان چند لوگوں کو اپنے ساتھ چلنے سے اس لئے روک دیا تھا کہ جب دل کسی اور چیز میں اٹکا ہوا ہوتا ہے تو اس چیز کے علاوہ کسی اور کام میں طبیعت نہیں لگتی لہٰذا اگر مذکورہ لوگوں کو جانے والے لشکر میں شریک کیا جاتا تو وہ پورے جوش و جذبہ اور چستی و تندہی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے پر قادر نہیں ہوسکتے تھے اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا تھا جس کے لئے ان کو لے جایا جاتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنگی مہمات وغیرہ کے موقع پر اپنے تمام ضروری امور و معاملات سے فراغت و یکسوئی حاصل کر لینی چاہئے تاکہ جس مہم میں نکلا جائے اس کو بخوبی سر انجام دیا جاسکے۔ آفتاب ٹھہرا دیا گیا الخ۔ مواہب لدنیہ میں لکھا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ (نظام شمسی کی پوری مدت عمر) میں حضرت یوشع ابن نون (علیہ السلام) کے علاوہ اور کسی کے لئے سورج کو کبھی نہیں ٹھہرایا گیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سورج کا ٹھہر جانا صرف حضرت یوشع (علیہ السلام) کے خصائص میں سے ہے حالانکہ آنحضرت ﷺ کے لئے بھی سورج کا ٹھہرایا جانا ثابت ہے! اس طرح دونوں باتوں میں جو ظاہری تضاد ہے اس کو اس توجیہہ کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے کہ حضرت یوشع (علیہ السلام) کے متعلّق آنحضرت ﷺ کا جو ارشاد ہے ( کہ یوشع کے علاوہ اور کسی کے لئے سورج نہیں ٹھہرایا گیا )۔ اس سے آنحضرت ﷺ کی مراد یہ ہے کہ پیغمبروں میں حضرت یوشع (علیہ السلام) کے سوا کوئی ایسا پیغمبر نہیں ہے جس کے لئے سورج ٹھہرایا گیا ہو سوائے میرے۔ نیز یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کے لئے سورج ٹھہرایا گیا تھا آپ ﷺ نے اس سے پہلے یہ ارشاد فرمایا ہو۔ موہب لدنیہ کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ کے لئے سورج ٹھہرنے کا واقعہ دو مرتبہ پیش آیا ہے۔ ایک بار تو شب معراج کے دوسرے دن اور دوسری بار غزوہ خندق کے دن جب کے کفار نے آپ ﷺ کو جنگ میں الجھائے رکھ کر عصر کی نماز پڑھنے سے روک دیا تھا یہاں تک کے سورج ڈوب گیا تھا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے لئے سورج کو واپس کیا (یعنی عصر کا وقت لوٹایا) تب آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی۔ اسی طرح ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے حکم سے حضرت علی کے لئے بھی سورج واپس ہوا ہے وہ یوں کہ ایک دن آنحضرت ﷺ ان کے زانوں پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ اسی حالت میں آپ ﷺ پر وحی کا نزول شروع ہوگیا، اس صورت میں حضرت ﷺ کا سر مبارک اپنے زانوں پر سے نہ اٹھا سکے یہاں تک کہ عصر کا وقت ختم ہوگیا اور وہ نماز نہیں پڑھ پائے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے لئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے سورج کو واپس کیا، تب انہوں نے عصر کی نماز وقت پر ادا کی، مواہب لدنیہ نے اس واقعہ کو بھی تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے لیکن علماء نے اس واقعہ میں کلام بھی کیا ہے۔ اس کو جلا ڈالنے کے لئے آگ آئی الخ جیسا کہ پہلے بھی معلوم ہوچکا ہے، یہ صرف امّت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ اس کے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ پچھلی امتوں کو غنیمت کا مال اپنے مصرف میں لانے کی اجازت نہیں تھی۔ بلکہ حکم الٰہی کے مطابق یہ دستور تھا کہ جنگ کے بعد غنیمت کا سارا مال جمع کر کے جنگل میں رکھ دیا جاتا تھا، اس کے بعد آسمان سے آگ آتی اور اس کو جلا دیتی، جو قبولیت کی علامت ہوتی۔

3932Mishkaat-al-Masabih

مال غنیمت میں خیانت کرنے والا دوزخ میں ڈالا جائے گا

وعن ابن عباس قال : حدثني عمر قال : لما كان يوم خيبر أقبل نفر من صحابة النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : فلان شهيد وفلان شهيد حتى مروا على رجل فقالوا : فلان شهيد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلا إني رأيته في النار في بردة غلها أو عباءة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا ابن الخطاب اذهب فناد في الناس : أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون ثلاثا قال : فخرجت فناديت : ألا إنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون ثلاثا . رواه مسلم

اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے ہم سے یہ بیان کیا کہ جب خیبر کا دن آیا ( یعنی جب غزوہ خیبر ختم ہو گیا) تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے چند لوگ آئے اور (آپس میں) کہنے لگے کہ فلاں شخص شہید ہوگئے تھے ان کے نام لے لے کر ان کی شہادت کا ذکر کرتے تھے) یہاں تک وہ لوگ ایک شخص (کی لاش) پر سے گذرے اور کہا کہ (یہ) فلاں شخص شہید ہے، رسول کریم ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ ہرگز نہیں، ( تم لوگ جس معنی میں اس کو شہید کہتے ہو وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ) میں نے اس شخص کو مال غنیمت میں سے ایک چادر یا ایک دھاری دار کملی چرانے کے سبب دوزخ میں (جلتے) دیکھا ہے۔ پھر رسول کریم ﷺ نے ( مجھ کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ ابن خطاب جاؤ اور لوگوں کے درمیان تین مرتبہ یہ منادی کردو کہ جنّت میں (ابتداءً ) صرف مؤمن (یعنی کامل مؤمن) ہی داخل ہوں گے۔ حضرت عمر کہتے ہیں کہ چناچہ میں نکلا اور تین مرتبہ یہ منادی کی کہ خبردار! جنّت میں صرف مؤمن ہی داخل ہوں گے۔ ( مسلم) تشریح جنّت میں صرف مؤمن ہی داخل ہوں گے۔ ابن ملک کہتے ہیں کہ شرعی اصطلاح اور عرف عام میں مؤمن اس شخص کو کہتے ہیں جو آنحضرت ﷺ پر اور آپ ﷺ کی شریعت پر ایمان لائے۔ اس اعتبار سے جس شخص نے خیانت کا ارتکاب کیا اس نے گویا آنحضرت ﷺ کی رسالت و شریعت کی تصدیق سے انکار کیا بایں طور کہ اس تصدیق کے نتیجہ میں اس پر جو احکام نافذ ہوتے ہیں اس نے ان پر عمل نہیں کیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب بہر حال نہیں ہوسکتا کہ جس شخص نے خیانت کا ارتکاب کر کے آنحضرت ﷺ کی تصدیق کے منافی عمل کیا وہ سرے سے مؤمن نہیں رہا، لہٰذا اس اعلان کے ذریعہ کہ جنّت میں صرف مؤمن ہی داخل ہوں گے۔ آنحضرت ﷺ کا اس شخص کو بظاہر زمرہ مؤمنین سے خارج کرنا اصل میں سخت زجر و تنبیہ اور وعید کے طور پر تھا یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس ارشاد میں مؤ من سے مراد متقی و پرہیزگار مؤمن ہے اور داخل ہونے سے مراد بلا عذاب داخل ہونا ہے، اس طرح اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ جو مؤمن، تقوی، و پرہیز گاری کی راہ پر گامزن ہوں گے وہ جنّت میں بغیر عذاب کے داخل کئے جائیں گے، لیکن جو مؤمن متقی و پرہیز گار نہیں ہوں گے اور گناہ کا ارتکاب کریں گے انہیں پہلے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت لیں اور پھر بعد میں انہیں بھی جنّت میں داخل کردیا جائے گا چونکہ یہ ارشاد میں نے اس کو دوزخ میں دیکھا ہے بظاہر ان نصوص کے خلاف ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کسی کا حقیقتاً دوزخ میں ڈالا جانا، حشر کے بعد ہی واقع ہوگا۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی کو تمثیل پر محمول کیا جائے، یعنی آنحضرت ﷺ نے اس اسلوب بیان کے ذریعے درحقیقت اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ شخص دوزخ میں ڈالا جائے گا جیسا کہ ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال کے انتقال سے پہلے ہی ان کے جنّت میں داخل ہونے کو تمثیل کے طور بیان فرمایا تھا، میرے نزدیک یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ارشاد مجازی اسلوب بیان کا مظہر ہو، یعنی آنحضرت ﷺ کی مراد یہ تھی کہ میں اس شخص کو ایک ایسے گناہ کا مرتکب جانتا ہوں جو دوزخ کے عذاب کو واجب کرنے والا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ (اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ ) 82۔ الانفطار 13) (نیک لوگ جنّت میں ہیں) ظاہر ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نیک لوگ ابھی سے جنّت میں پہنچ گئے ہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ نیک لوگ ان اوصاف حمیدہ کے حامل ہوتے ہیں جو ان کو جنّت میں لے جائیں گے۔