قضیوں اور شہادتوں کا بیان
قضیہ اس نزاعی معاملے کو کہتے ہیں جو حاکم وقاضی کے پاس اس غرض سے لے جایا جائے کہ وہ فریقین کے درمیان کوئی حکم و فیصلہ کرے۔ اور شہادت گواہی دینے کو کہتے ہیں اور گواہی کا مطلب ہے دو فریقوں میں سے ایک فریق کے مقابلہ پر دوسرے فریق کے حق کا اقرار و اثبات کرنا۔
مدعی کا دعوی گواہوں کے بغیر معتبر نہیں
عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه . رواه مسلم وفي شرحه للنووي أنه قال : وجاء في رواية البيهقي بإسناد حسن أو صحيح زيادة عن ابن عباس مرفوعا : لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر
حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو محض ان کے دعوی پر (ان کے مدعا) دیا جائے (یعنی اگر مدعی سے نہ تو گواہ طلب کئے جائیں اور نہ مدعا علیہ سے تصدیق کیا جائے بلکہ محض اس کے دعوی پر اس کا از قسم مال وجان مدعا کو دے دیا جائے) تو لوگ اپنے آدمیوں کے خون اور اپنے مال کا (جھوٹا) دعوی کرنے لگیں (لہٰذا صرف مدعی کا بلا گواہی کے بیان معتبر نہیں ہے) لیکن قسم کھانا مدعا علیہ پر ضروری ہے ( مسلم) اور نووی نے اپنی کتاب شرح مسلم میں لکھا ہے کہ بیہقی کی روایت میں جو حسن یا صحیح اسناد سے منقول ہے حضرت ابن عباس ؓ سے (مذکورہ بالا حدیث میں بطریق مرفوع ان الفاظ کا اضافہ بھی منقول ہے کہ گواہ پیش کرنا نہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم کھانا اس شخص کا حق ہے جو انکار کرے یعنی مدعاعلیہ۔
تشریح
لیکن قسم کھانا مدعاعلیہ کا حق ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر فریق دوم یعنی مدعاعلیہ، فریق اول یعنی مدعی کے دعوی سے انکار کرے اور مدعی اس سے قسم کا مطالبہ کرے تو اس (مدعاعلیہ) پر قسم کھانا ضروری ہے اس (مسلم کی) روایت میں مدعی سے گواہ طلب کرنے کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ یہ مدعی کا گواہ پیش کرنے کا ذمہ دار ہونا شریعت کا ثابت شدہ اور بالکل ظاہری ضابطہ ہے اس اعتبار سے گویا یہ فرمایا گیا ہے کہ گواہ پیش کرنے کی ذمہ داری مدعی پر ہے اگر مدعی گواہ پیش نہ کرے تو پھر مدعا علیہ قسم اور جحد (انکار) کے ذریعہ اپنی صفائی پیش کرنے کا حق رکھتا ہے یہ مفہوم حضرت ابن عباس کی دوسری روایت سے ظاہر ہے۔
عدالت میں جھوٹی قسم کھانے والے کے بارے میں وعید
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حلف على يمين صبر وهو فيها فاجر يقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله يوم القيامة وهو عليه غضبان فأنزل الله تصديق ذلك : ( إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا ) إلى آخر الآية (2/356) 3760 - [ 3 ] ( صحيح ) وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اقتطع حق امرئ مسلم بيمينه فقد أوجب الله له النار وحرم الله عليه الجنة فقال له رجل : وإن كان شيئا يسير يا رسول الله ؟ قال : وإن كان قضيبا من أراك . رواه مسلم
اور حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی چیز پر مقید ہو کر (یعنی حاکم کی مجلس میں) قسم کھائے اور وہ اپنی قسم میں جھوٹا ہو کہ اس کا مقصد قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا مال حاصل کرنا ہو تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔ چناچہ اس ارشاد کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا اُولٰ ى ِكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) 3۔ آل عمران 77)۔ (بخاری )
تشریح
پوری آیت اور اس کا ترجمہ یہ ہے۔ (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا اُولٰ ى ِكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ )۔ 3۔ آل عمران 77) یقینا جو لوگ معاوضہ حقیر لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو اللہ تعالیٰ سے (انہوں نے) کیا ہے اور (بمقابلہ اپنی قسموں کے، ان لوگوں کو کچھ حصہ آخرت میں (وہاں کی نعمت کا) نہیں ملے گا اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ نہ ان سے (لطف کا) کلام فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف (نظر محبت سے دیکھیں گے۔ اور نہ (ان کے گناہوں کو معاف کر کے) ان کو پاک کریں گے۔ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔ حدیث کی عبارت من حلف علی یمین صبر کے لغوی معنی ہیں حبس، روکنا، لزوم اور یمین صبر سے مراد یہ ہے کہ حاکم عدالت میں کسی شخص پر قسم کھانا لازم ہے گویا علی یمین صبر میں علی حرف با کے معنی میں ہے اور اس سے مراد محلوف علیہ ہے! بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ یمین صبر یہ ہے کہ کسی چیز پر قسم کھانے والا اس مقصد سے دیدہ و دانستہ غلط بیانی کرتا ہے کہ ایک مسلمان کا مال تلف کر دے یا اس کو ہڑپ کرلے، چناچہ (وہو فیہا فاجر) اور وہ اپنی قسم میں جھوٹا ہو، کے الفاظ سے اس مفہوم کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ اور حضرت امامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنی (جھوٹی) قسم کے ذریعہ کسی مسلمان شخص کا حق غصب کیا بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے آگ کو واجب کیا اور اس پر بہشت کو حرام کردیا۔ ایک شخص نے (یہ سن کر) آپ ﷺ سے عرض کیا اگرچہ وہ حق کوئی معمولی ہی چیز ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا (ہاں) اگرچہ پیلو کے درخت کا ایک ٹکڑا (یعنی مسواک) ہی کیوں نہ ہو۔ (مسلم ) تشریح اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے آگ کو واجب کیا اس جملہ کی دو تاویلیں ہیں ایک تو یہ کہ یہ حکم اس شخص پر محمول ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کا حق غصب کرنا حلال جانے اور اسی عقیدہ پر اس کی موت ہوجائے دوسری تاویل یہ ہے کہ ایسا شخص اگرچہ دوزخ کی آگ کا یقینا سزاوار ہوگا لیکن یہ بھی غیربعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کو معاف کر دے! اسی طرح بہشت کو اس پر حرام کردیا۔ کی تاویل یہ ہے کہ ایسا شخص اول وہلہ میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل ہونے سے محروم قرار دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جس طرح جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کے حق کو ہڑپ کرنے والے کے بارے میں مذکورہ وعید ہے اسی طرح وہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی ذمی کا حق مارے۔
وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنما أنا بشر وإنكم تختصمون إلي ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له على نحو ما أسمع منه فمن قضيت له بشيء من حق أخيه فلا يأخذنه فإنما أقطع له قطعة من النار
اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ایک انسان ہوں اور تم اپنے قضیے (جھگڑے) لے کر میرے پاس آتے ہو، ممکن ہے تم میں سے کوئی شخص اپنے دلائل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ فصیح وبلیغ بیان کا حامل ہو اور میں اس کا (مدلل) بیان سن کر اسی کے مطابق فیصلہ کر دوں لہٰذا وہ شخص کہ میں جس کے حق میں کسی ایسی چیز کا فیصلہ کروں جو حقیقت میں اس کے بھائی مسلمان کی ہو، اس چیز کو نہ لے کیونکہ (ایسی صورت میں گویا) میں اس کے حق میں آگ کے ایک ٹکڑے کا فیصلہ کروں گا۔ (بخاری، ومسلم)
تشریح
میں ایک انسان ہوں کے ذریعہ اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ سہو اور نسیان کسی انسان سے بعید نہیں ہے اور انسان کی فطرت اور وضع بشری کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ کسی معاملہ کے صرف اسی پہلو کو دیکھے جو ظاہری طور پر عیاں ہو اور اس کے متعلق اسی بات کو قبول کرے جو ایک کھلی ہوئی دلیل کی صورت میں اس کے سامنے آئے اور چونکہ میں بھی ایک انسان اور اس حیثیت سے وہ تمام احکام و عوارض مجھ پر بھی پیش آتے ہیں جو بشریت کا خاصہ ہیں اور جن کا تعلق انسانی جبلت سے ہے، لہٰذا جن معاملات میں مجھے وحی کے ذریعہ براہ راست بار گاہ الوہیت سے حقیت رسی کی قوت عطا کی جاتی ہے اور حق سبحانہ تعالیٰ کی جانب سے مجھے تعلیم و ہدایت دی جاتی ہے ان کے علاوہ دوسرے امور میں مجھے انہی ضابطوں اور قاعدوں کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے جن کی بنیاد انسانی عقل اور بشری تقاضوں پر ہے۔ چناچہ جب میرے سامنے کوئی قضیہ آتا ہے تو میں اس کے ظاہری پہلوؤں کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہوں۔ اگر مدعی اپنے دلائل اپنے گواہ اور اپنے زور بیان سے میرے سامنے یہ ثابت کردیتا ہے کہ اس کا دعوی صحیح ہے اور اس نے جس چیز کا مطالبہ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے تو میں اس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہوں کہ ظاہری حکم کا تقاضہ یہی ہے اب اس کے بعد مدعی جانے کہ اگر حقیقت میں اس کا دعوی صحیح ہے اور جس چیز کا اس نے مطالبہ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے تو وہ اپنی مراد پالے۔ لیکن اگر حقیقت میں اس کا دعوی صحیح نہ تھا اور جس چیز کا اس نے مطالبہ کیا تھا وہ اس کا حق نہیں تھا بلکہ کسی دوسرے کا حق تھا اور میں نے اس کے ظاہری دلائل و ثبوت اور اس کی چرب زبانی اور قوت لسانی سے یہ سمجھا کہ اس کا دعوی صحیح ہے۔ اور اس کا مدعا اس کو دلوا دیا تو اس کو چاہئے کہ وہ اس چیز کو اپنے حق میں حلال نہ جانے بلکہ یہ سمجھ کر کہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو ملا ہے۔ اس سے اجتناب کرے۔
ناحق مقدمہ بازی کرنے والے کے بارے میں وعید
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں بدترین اور مبغوض ترین وہ شخص ہے جو بہت زیادہ ناحق جھگڑے والا ہے۔ (بخاری ومسلم )
کیا مدعی ایک گواہ اور ایک قسم کے ذریعہ اپنا دعوی ثابت کرسکتا ہے۔
وعن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى بيمين وشاهد . رواه مسلم
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ایک قضیہ میں) ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ صادر فرمایا۔ (مسلم)
تشریح
حدیث کا ظاہری مفہوم یہ بتاتا ہے کہ اگر مدعی اپنے دعوی کے ثبوت میں صرف ایک گواہ پیش کرسکے تو اس (مدعی) سے دوسرے گواہ کے بدلے ایک قسم لے لی جائے اور اس قسم کو ایک گواہ کا قائم مقام قرار دے کر اس کا دعوی تسلیم کرلیا جائے چناچہ حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد تینوں کا یہی مسلک ہے۔ لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے بلک دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور چونکہ قرآن کے حکم کو خبر واحد کے ذریعہ منسوخ کرنا جائز نہیں ہے اس لئے اس روایت کی بناء پر ایسے مسلک کی بنیاد صحیح نہیں ہوسکتی جو قرآن کے حکم کے منافی ہو درآنحالیکہ اس رویت کے بارے میں یہ احتمال بھی ہے جب مدعی اپنا دعوی لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا ہو اور وہ اپنے دعوی کے ثبوت میں صرف ایک گواہ پیش کرسکا ہو تو چونکہ وہ اپنے ثبوت شہادت کی تکمیل نہ کرسکا اور آنحضرت ﷺ نے صرف ایک گواہ کے وجود کے وجود کا اعتبار نہیں کیا اس لئے مدعا علیہ کو قسم کھانے کا حکم دیا مدعاعلیہ کے قسم کھانے کے بعد آپ ﷺ نے اس قضیہ کا فیصلہ دیا۔ اسی کو راوی نے ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ دینے سے تعبیر کیا۔ طیبی کہتے ہیں کہ آئمہ کا یہ اختلاف بھی اس صورت میں ہے جب کہ قضیہ کا تعلق کسی مالی دعوی سے ہو اگر دعوی کا تعلق مال کے علاوہ کسی اور معاملہ سے ہو تو اس صورت میں متفقہ طور پر تمام آئمہ کا مسلک یہی ہے کہ گواہ اور قسم (یعنی مدعی) کی طرف سے مثلًا ایک گواہ پیش کرنے اور ایک قسم کھانے کا اعتبار نہ کیا جائے۔
مدعاعلیہ کی قسم کا اعتبار کیا جائے خواہ وہ حقیقت میں جھوٹی قسم کیوں نہ ہو
وعن علقمة بن وائل عن أبيه قال : جاء رجل من حضرموت ورجل من كندة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال الحضرمي : يا رسول الله إن هذا غلبني على أرض لي فقال الكندي : هي أرضي وفي يدي ليس له فيها حق فقال النبي صلى الله عليه و سلم للحضرمي : ألك بينة ؟ قال : لا قال : فلك يمينه قال : يا رسول الله إن الرجل فاجر لا يبالي على ما حلف عليه وليس يتورع من شيء قال : ليس لك منه إلا ذلك . فانطلق ليحلف فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أدبر : لئن حلف على ماله ليأكله ظلما ليلقين الله وهو عنه معرض . رواه مسلم
اور حضرت علقمہ ابن وائل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حضرموت کا رہنے والا اور ایک شخص کندہ کا۔ دونوں حاضر ہوئے حضرمی (یعنی حضرموت کے رہنے والے) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس شخص نے میری زمین (کو غصب کر کے اس) پر قضبہ کرلیا ہے کندی نے کہا کہ وہ میری زمین ہے اور ہاتھ (یعنی میرے قبضے) میں ہے، اس شخص کا اس زمین پر کوئی حق نہیں ہے۔ رسول کریم ﷺ نے دونوں فریق کا بیان سن کر حضرمی سے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا کہ نہیں! آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو اب تمہارے دعوی کا دارومدار اس (مدعا علیہ کی قسم پر ہے (کہ اگر یہ قسم کھانے کا انکار کر دے گا تو تمہارا دعوی تسلیم کرلیا جائے گا اور اس نے قسم کھالی تو تمہارا دعوی باطل کردیا گا) اس (حضرمی) نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ شخص تو فاجر (جھوٹا ہے) اس کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس نے جس چیز کی قسم کھائی ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ اور اس کو کسی چیز سے پرہیز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ (بہرحال) تمہارے لئے اس شخص کی طرف سے سوائے اس (قسم) کے اور کچھ نہیں ہے۔ (یہ سن کر) وہ (کندی) شخص قسم کھانے کے لئے چلا اور جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر یہ شخص اس حضرمی) کے مال قسم کھائے گا تاکہ اس کا مال زبردستی ہضم کر جائے تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کریں گے کہ وہ (اللہ) اس سے بیزار ہوگا۔ (مسلم)
تشریح
وہ شخص قسم کھانے کے لئے چلا ممکن ہے کہ اس کا چلنا اس اعتبار سے ہے کہ جیسے شافعیہ کے یہاں یہ مسئلہ ہے کہ یہ قسم کھانے والا پہلے وضو کرتا ہے اور پھر ایک خاص وقت میں یعنی جمعہ کے روز عصر کے بعد قسم کھاتا ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ وہ مدعی کی طرف سے پیٹھ پھیر کر آنحضرت ﷺ کی طرف چلا تاکہ آپ ﷺ کے پاس پہنچ کر قسم کھائے۔ نووی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے کئی مسئلے نکلتے ہیں کہ ایک تو یہ کہ اس طرح کے قضیے میں اس (اجنبی سے قبضے والا اولی ہے۔ جو اس کے زیر چیز پر دعوی کرے۔ دوسرا یہ کہ مدعا علیہ پر قسم کھانا لازم ہے جب کہ وہ مدعی کے دعوی کو تسلیم نہ کرے۔ اور تیسرا یہ کہ فاجر مدعا علیہ کی قسم کو بھی اس طرح تسلیم و قبول کیا جائے جس طرح عادل مدعا علیہ کی قسم تسلیم و قبول کی جاتی ہے نیز اس قسم کھا لینے کی وجہ سے اس پر سے مدعی کا مطالبہ ساقط ہوجاتا ہے (لیکن یہ واضح رہے کہ اگر عدالت میں سچی گواہی سے مدعا علیہ کی قسم کا جھوٹ معلوم ہوجائے تو پھر اس کی قسم کالعدم قرار پائے گی )۔
جھوٹا دعوی کرنے والے کا ٹھکانا دوزخ ہے
وعن أبي ذر رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من ادعى ما ليس له فليس منا وليتبوأ مقعده من النار . رواه مسلم
اور حضرت ابوذر ؓ روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص کسی ایسی چیز کا دعوی کرے جو اس کی نہیں ہے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں ڈھونڈھ لے۔ (مسلم )
وعن زيد بن خالد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أخبركم بخير الشهداء ؟ الذي يأتي بشهادته قبل أن يسألها . رواه مسلم
اور زید ابن خالد کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تہیں بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ (سنو کہ) گواہوں میں بہترین گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کئے جانے سے پہلے گواہی دے دے۔ (مسلم )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ گواہی دراصل بیان حقیقت کا دوسرا نام ہے اور حقیقت بیان کرنے کو طلب و درخواست پر موقوف رکھنا غیرموزوں بات ہے۔ لہٰذا بہترین گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کئے جانے سے پہلے اور قبل اس کے اس سے پوچھا جائے کہ کیا تم وہ ہو اور یہ کہ کیا تم گواہی دینا چاہتے ہو، وہ از خود گواہی دیدے اور اس طرح حق کو ظاہر کرنے کی ذمہ داری پوری کرے۔
بغیر طلب کے گواہی دینی چاہئے یا نہیں ؟
لیکن اس کے برعکس ایک دوسری حدیث میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو بغیر طلب کے گواہی دیں۔ چناچہ حنفی مسلک کی ہدایت یہی ہے کہ جب تک گواہی طلب نہ کی جائے اس وقت تک گواہی نہ دی جائے، گواہی طلب کئے جانے کے بعد گواہی دینا واجب ہے اور حدود میں گواہی کا چھپانا افضل ہے۔ جہاں تک مذکورہ بالا روایت کا تعلق ہے کہ جس سے بغیر طلب کے گواہی دینے والے کا بہترین گواہ ہونا ثابت ہوتا ہے تو اس کے بارے میں حنیفہ کی طرف سے دو تاویلیں کی جاتی ہیں ایک تو یہ کہ یہ ارشاد گرامی دراصل اس شخص پر محمول ہے جو کسی کے حق کا گواہ ہے لیکن مدعی کو اس کے گواہ ہونے کا علم نہیں ہے۔ لہٰذا اس کو چاہئے کہ وہ مدعی کو بتادے کہ میں اس قضیہ میں تمہارا گواہ ہوں۔ دوسری تاویل یہ ہے کہ اس حدیث کا تعلق حق تعالیٰ کے حقوق میں گواہی دینے سے ہے۔ جیسے زکوٰۃ کفارہ رویت ہلال اور وصیت اور اسی طرح کی دوسری چیزیں، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی چیز کا شاہد ہو۔ مثلاً اس نے چاند دیکھا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ حاکم وقاضی کے ہاں حاضر ہو اور گواہی دے۔ ان دونوں تاویلوں کے علاوہ ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ ارشاد گرامی اس حکم کو بطور مبالغہ بیان کرنے پر محمول ہے کہ جو شخص کسی قضیہ میں گواہ کی حیثیت رکھتا ہو اور اس سے گواہی طلب کی گئی ہو تو اس طلب کے بعد اس کو چاہئے کہ وہ گواہی دینے کی اپنی ذمہ داری کو جلد سے جلد پورا کرے اور بغیر طلب کے گواہی دینے کی جو مذمت منقول ہے وہ اس کے عکس پر محمول ہے۔
جھوٹی گواہی دینے والوں کے بارے میں پیشین گوئی
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يجيء قوم تسبق شهادة أحدهم يمينه ويمينه شهادته
اور حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں یعنی صحابہ پھر وہ جو ان کے متصل ہیں یعنی تابعین اور پھر وہ لوگ جو ان کے متصل ہیں یعنی تابع تابعین اور پھر (آخر میں) ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ ان میں سے ایک گواہی اس کی قسم سے پہلے اور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہوگی۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
گواہی قسم سے پہلے اور قسم گواہی سے پہلے ہوگی۔ سے گواہی وقسم میں عجلت پسندی و زیادتی کو بطور کنایہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ عجلت میں و زیادتی کی وجہ سے گواہی دینے اور قسم کھانے میں اس قدر لاپرواہ ہوگا کہ کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائے گا اور کبھی پہلے گواہی دے گا اور پھر قسم کھائے گا۔ مظہر نے کہا ہے یہ جملہ گواہی وقسم میں تیز روی وعجلت پسندی کی تمثیل کے طور پر ہے یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے میں اتنی تیزی اور پھرتی دکھایا کرے گا کہ نہ تو اس کو دین کی کوئی پرواہ ہوگی اور نہ وہ ان چیزوں میں کوئی پرواہ کرے گا۔ یہاں تک کہ اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ پہلے قسم کھائے یا پہلے گواہی دے۔ یا یہ کہ اس کو یہ بھی یاد نہیں رہے گا کہ اس نے پہلے قسم کھائی ہے یا پہلے گواہی دی ہے۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد گرامی دراصل جھوٹی گواہی اور جھوٹی قسم کے عام ہوجانے کی خبر دینے کے طور پر ہے کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں لوگ گواہی دینے کو پیشہ بنالیں گے اور جھوٹی قسم کھانا ان کا تکیہ کلام بن جائے گا۔ جیسا کہ آجکل عام طور پر رواج ہے کہ پیشہ ور گواہ عدالتوں میں جھوٹی گواہی دیتے پھرتے ہیں اور ان کو اس بات کا ذرہ پھر احساس نہیں ہوتا کہ وہ چند روپوں کی خاطر عدالت میں جھوٹی قسم کھا کر اور جھوٹی گواہی دے کر اپنی آخرت کو کس طرح برباد کر رہے ہیں۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس جملہ کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص کبھی تو قسم کے ذریعہ اپنی گواہی کو ترویج دے گا یعنی یوں کہے گا کہ اللہ کی قسم! میں سچا گواہ ہوں۔ اور کبھی گواہی کے ذریعہ اپنی قسم کو ترویج دے گا یعنی اعلان کرتا پھرے گا کہ لوگ میری قسم کے سچے ہونے پر گواہ رہیں۔
قسم کے لئے قرعہ ڈالنے کا ذکر
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم عرض على قوم اليمين فأسرعوا فأمر أن يسهم بينهم في اليمين أيهم يحلف . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کچھ لوگوں پر قسم کو پیش کیا ( یعنی ان سے کہا کہ قسم کھاؤ کہ مدعی صحیح نہیں ہے) چناچہ ان دونوں نے قسم کھانے میں) جلدی دکھائی تو آپ نے فرمایا کہ قسم کھانے کے لئے ان لوگوں کے درمیان قرعہ ڈالا جائے کہ ان میں سے کون شخص قسم کھائے۔ (بخاری)
تشریح
عبارت کے ظاہری مفہوم سے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک شخص نے دربار رسالت میں کچھ لوگوں کے خلاف دعوی دائر کیا، ان لوگوں (مدعا علیہم) نے مدعی کو صحیح ماننے سے انکار کیا۔ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو قسم کھانے کا حکم دیا ان لوگوں نے قسم کھانے میں جلدی دکھائی، یعنی ہر شخص قسم کھانے کے لئے مستعد نظر آنے لگا۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ نے سب لوگوں سے قسم نہیں کھلوائی بلکہ یہ حکم دیا کہ تم اپنے درمیان قرعہ ڈالو، قرعہ میں جس کا نام نکلے وہی قسم کھائے۔ لیکن شارحین نے اس مسئلہ کی یہ صورت لکھی ہے کہ مثلاً دو مختلف دو مختلف آدمیوں نے کسی ایسی چیز کا دعوی کیا جو تیسرے شخص کے پاس ہے۔ ان دونوں (مدعیوں) میں سے ہر شخص یہ کہتا ہے کہ وہ چیز میری ہے لیکن ان دونوں میں سے کوئی بھی گواہ نہیں رکھتا، یا یہ کہ دونوں ہی کے پاس گواہ ہیں لیکن وہ شخص یہ کہتے ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ چیز ان دونوں میں سے کس کی ہے، لہٰذا اس صورت میں ان دونوں مدعیوں کے بارے میں یہ حکم ہے کہ ان کے درمیان قرعہ ڈالا جائے اور ان میں سے جس کے نام قرعہ نکلے اس سے قسم کھانے کے لئے کہا جائے جب وہ قسم کھائے تو وہ چیز اس شخص کے حوالے کرنے کا حکم دیا جائے۔ رہی یہ بات کہ اس صورت میں قسم کھانے کی ذمہ داری مدعی پر عائد ہوتی ہے۔ جب کہ قسم مدعا علیہ کو کھانی چاہئے تو بظاہر اس (مدعی) سے قسم کھلوانا اس اعتبار سے ہے کہ ان دونوں مدعیوں میں سے ہر ایک دوسرے کے حق کا منکر ہوتا ہے اور ضابطہ یہی ہے کہ حدیث (والیمین علی من انکر) یعنی قسم اس شخص کو کھانی چاہئے جو منکر ہو۔ بہرحال مذکورہ بالا دونوں صورتوں حدیث کے ظاہری مفہوم کی روشنی میں بیان کی گئی ہیں لیکن جہاں تک فقہی مسئلہ کا تعلق تو حضرت علی اس کے قائل تھے جو مذکورہ صورت میں بیان ہوا لیکن حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ ایسے قضیہ میں حاکم عدالت کو چاہئے کہ وہ چیز اسی تیسرے شخص کے پاس چھوڑ دے اور دونوں مدعیوں کے درمیان آدھوں آدھ تقسیم کردیا جائے اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس مسئلہ میں امام اور امام شافعی کے دو قول ہیں ایک قول حضرت علی کے قول کے مطابق ہے اور دوسرا قول حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق ہے۔ آگے حضرت ام سلمہ کو جو روایت آرہی ہے وہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے متبعین کی موئید ہے۔
گواہ پیش کرنامدعی کے ذمہ اور قسم کھانا مدعا علیہ کے ذمہ ہے
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : البينة على المدعي واليمين على المدعي عليه . رواه الترمذي
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعا علیہ کے ذمہ ہے (ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اپنے دعوی کے ثبوت میں گواہ پیش کرنا مدعی کا حق ہے اور اگر مدعا علیہ مدعی کے دعوی کو صحیح ماننے سے انکار کر دے اور مدعی اس سے قسم کھانے کا مطالبہ کرے تو مدعا علیہ پر قسم کھانا ہے۔
اگر ایک ہی چیز کے دو مدعی ہوں تو وہ چیز ان دونوں کے درمیان تقسیم کردی جائے
وعن أم سلمة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم : في رجلين اختصما إليه في مواريث لم تكن لهما بينة إلا دعواهما فقال : من قضيت له بشيء من حق أخيه فإنما أقطع له قطعة من النار . فقال الرجلان : كل واحد منهما : يا رسول الله حقي هذا لصاحبي فقال : لا ولكن اذهبا فاقتسما وتوخيا الحق ثم استهما ثم ليحلل كل واحد منكما صاحبه . وفي رواية قال : إنما أقضي بينكما برأيي فيما لم ينزل علي فيه . رواه أبو داود
اور حضرت ام سلمہ نبی کریم ﷺ سے دو آدمیوں کے بارے میں نقل کرتے ہیں جو اپنا ایک میراث کا معاملہ لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں لے کر آئے تھے اور دونوں میں سے کسی کا کوئی گواہ نہیں تھا بلکہ صرف دعوی تھا (یعنی ان میں سے ایک شخص نے دربار رسالت میں دعوی کیا کہ فلاں چیز میری ہے جو مجھے میراث میں ملی ہے اور دوسرے شخص نے بھی اسی چیز کے بارے میں یہی دعوی کیا اور دونوں میں سے کوئی بھی اپنے دعوی کے ثبوت میں گواہ نہیں رکھتا تھا) آپ ﷺ نے (ان دونوں کے جواب سن کر) فرمایا (یاد رکھو) میں جس شخص کے لئے کسی ایسی چیز کا فیصلہ کر دوں جو اس کے بھائی کا حق ہو تو وہ چیز اس کے لئے آگ کے ایک ٹکڑے کے علاوہ کچھ نہیں ہوگی (یعنی اگر مثلًا مدعی نے کسی ایسی چیز کا دعوی کیا ہے جس کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی نہیں ہے بلکہ واقعۃً مدعاعلیہ کی ہے لیکن اس نے جھوٹے گواہوں یا جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنا دعوی ثابت کردیا اور میں نے ظاہری قانون کے مطابق اس کی گواہوں اور قسم پر اعتبار کر کے اس کے حق میں فیصلہ کردیا اور وہ چیز اس کو دلوا دی تو اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ چیز اس کے حق میں آگ کا ایک ٹکڑا ثابت ہوگی یعنی اس کو دوزخ کی آگ کا سزاوار بنائے گی) ان دونوں میں سے ہر ایک نے (یہ سن کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا حق میرے ساتھی (یعنی فریق مخالف) کے لئے ہے (میں اپنا دعوی ترک کرتا ہوں) آپ نے فرمایا نہیں! (یہ کیسے ممکن ہے کہ چیز ایک ہو اور اس کے حق دار دو ہوں) بلکہ تم دونوں جاؤ اس چیز کو (آدھو آدھ) تقسیم کرلو اور اپنا اپنا حق لے لو (یعنی تقسیم میں عدل و ایمانداری کو ملحوظ رکھو) اور (یہ طریقہ اختیار کرو کہ پہلے اس چیز کو دو حصے کرلو (اور اگر یہ تنازعہ ہو کہ ان دونوں حصوں میں سے کون سا حصہ کس کو ملے تو) ان دونوں حصوں کو قرعہ پر ڈال لو (تاکہ طے ہوجائے کہ ان دونوں حصوں میں کون سا حصہ کس شخص کو ملے گا اس طرح تم دونوں میں سے ہر ایک اس حصہ کو لے لے جس پر اس کا قرعہ نکلا ہے اور پھر تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اپنا (وہ) حق اپنے ساتھی کو معاف کر دے (جو اس کی طرف سے چلا گیا ہو۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں تم دونوں کے درمیان یہ فیصلہ اپنی رائے اور اپنے اجتہاد سے کر رہا ہوں۔ اس معاملہ میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی ہے۔ (ابو داؤد)
وعن جابر بن عبد الله : أن رجلين تداعيا دابة فأقام كل واحد منهما البينة أنها دابته نتجها فقضى بها رسول الله صلى الله عليه و سلم للذي في يده . رواه في شرح السنة
اور حضرت جابر ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے دربار رسالت میں) ایک جانور کے بارے میں دعوی کیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے گواہ پیش کئے کہ یہ جانور اس کا (یعنی میں نے ہی اس کی ماں پر نر کو چھوڑا تھا جس کے نتیجہ میں یہ پیدا ہوا اور اس طرح اس کے پیدا ہونے کا میں ہی سبب بنا تھا گویا ان دونوں میں سے ہر ایک نے یہی دعوی کیا ) چناچہ رسول کریم ﷺ نے اس جانور کو اس شخص کا حق قرار دیا جس کے وہ قبضے میں تھا۔ (شرح السنۃ)
تشریح
بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی ایسا قضیہ ہو جس میں کسی چیز کی ملکیت کو ثابت کرنے کے لئے دونوں فریق اپنے اپنے گواہ پیش کریں تو دونوں میں سے اس فریق کے گواہوں کو ترجیح دی جائے گی۔ جس کے قض بے میں وہ چیز ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ حکم اس صورت کے لئے ہے جب کہ وہ قضیہ کسی جانور کے متعلق ہو اور ہر فریق یہ دعوی کرے کہ اس جانور کو اسی نے جنوایا ہے۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ علماء نے کہا ہے کہ اگر کوئی قضیہ پیش ہو جس میں دو آدمیوں نے ایک جانور یا کسی کی چیز کی ملکیت کا دعوی کیا اور وہ جانور کسی ایک کے قبضے میں ہو تو اس جانور یا اس چیز پر قابض کا حق تسلیم کیا جائے اور اس سے قسم کھلوائی جائے گی۔ ہاں اگر فریق مخالف نے اپنے گواہ پیش کردیئے جنہوں نے یہ گواہی دی کہ یہ جانور یا یہ چیز قابض نہیں ہے بلکہ اس فریق کی ہے تو وہ جانور یا وہ چیز قابض سے لے کر دوسرے فریق کے حوالے کردی جائے گی اور اگر یہ صورت دونوں ہی فریق اپنے اپنے گواہ پیش کردیں تو پھر قابض کے گواہوں کو ترجیح دی جائے گی۔ حنفی مسلک میں یہ مسئلہ اس طرح ہے کہ مذکورہ صورت میں (یعنی جب کہ دونوں فریق اپنے اپنے گواہ پیش کریں) قابض کے گواہوں کا اعتبار نہ کیا جائے، لیکن اگر دعوی کا تعلق جانور کے جنوانے سے ہو یعنی ہر فریق یہ دعوی کرے کرے کہ یہ جانور میری ملکیت ہے اور میں نے اس کو جنوایا ہے ہے پھر ہر ایک اپنے دعوی پر گواہ پیش کرے تو پھر قابض کے لئے فیصلہ کیا جائے گا اور اگر قضیہ کا تعلق کسی ایسی چیز سے ہو جو دونوں فریق کے قبضے میں ہو اور دونوں فریق اس کے پورے حصے پر اپنی اپنی ملکیت کا دعوی کریں تو دونوں سے قسم کھلوائی جائے اور اس چیز کو دونوں کے درمیان ہر ایک قبضے کے مطابق تقسیم کردی جائے اسی طرح اگر وہ چیز ان میں سے کسی ایک کے بھی قبضے میں نہ ہو مگر دونوں ہی اپنے اپنے دعوی کے ثبوت میں گواہ پیش کریں تو اس چیز کو دونوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے۔
دو مدعیوں کے درمیان متنازعہ مال کی تقسیم
وعن أبي موسى الأشعري : أن رجلين ادعيا بعيرا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فبعث كل واحد منهما شاهدين فقسمه النبي صلى الله عليه و سلم بينهما نصفين . رواه أبو داود وفي رواية له وللنسائي وابن ماجه : أن رجلين ادعيا بعيرا ليست لواحد منهما بينة فجعله النبي صلى الله عليه و سلم بينهما (2/359) 3773 - [ 16 ] ( لم تتم دراسته ) وعن أبي هريرة أن رجلين اختصما في دابة وليس لهما بينة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : استهما على اليمين . رواه أبو داود وابن ماجه
اور حضرت ابوموسی اشعری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں دو آدمیوں نے ایک اونٹ کے بارے میں دعوی کیا (یعنی ہر ایک نے کہا یہ اونٹ میرا ہے) اور پھر ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے (اپنے دعوی کے ثبوت میں) دو دو گواہ پیش کئے۔ چناچہ رسول کریم ﷺ نے اس کو ان دونوں کے درمیان آدھوں آدھ تقسیم کردیا۔ (ابو داؤد) اور ابوداؤد کی ایک اور روایت نیز نسائی وابن ماجہ کی روایت میں یوں ہے کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کے بارے میں دعوی کیا لیکن ان دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے اس اونٹ کو دونوں کا مشترکہ حق قرار دیا۔ (ابو داؤد)
تشریح
اس اونٹ کو ان دونوں میں آدھوں آدھ تقسیم کردیا۔ کے بارے میں خطابی کہتے ہیں کہ شاید وہ اونٹ دونوں کے قبضے میں ہوگا۔ اور ملا علی قاری کہتے ہیں کہ۔ یا وہ اونٹ کسی ایسے تیسرے آدمی کے قبضہ میں ہوگا جو اس اونٹ کے بارے میں ان دونوں سے کوئی تنازعہ رکھتا تھا۔ پہلی روایت میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ دونوں مدعی اپنے اپنے گواہ رکھتے تھے جب کہ دوسری روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں میں سے کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھے؟ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ دونوں روایتوں میں مذکورہ قضیے الگ الگ ہوں اور یہ بھی کوئی بعید نہیں ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے دعوی کے ثبوت میں گواہ رکھتا ہوں اور دوسری روایت میں حقیقت حکم کا بیان ہے کہ جب دونوں نے گواہ پیش کئے تو دونوں کی گواہیاں باہم متعارض ہونے کی بنا پر ساقط قرار پائیں لہٰذا وہ دونوں ہی ایسے دو مدعیوں کی مانند ہوئے جو گواہ نہ رکھتے ہوں۔ اس اعبتار سے ان دونوں میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے۔ کے معنی یہ ہونگے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے پاس بھی اس طرح کے گواہ نہیں تھے جن کو دوسرے کے گواہوں پر ترجیح دی جاسکتی ہو۔ اس اونٹ کو ان دونوں کا مشترکہ حق قرار دیا کے بارے میں ابن ملک کہتے ہیں کہ یہ ارشاد گرامی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اگر دو آدمی کسی ایک چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہ ہوں یا ان میں سے ہر ایک کے پاس گواہ ہوں اور وہ چیز دونوں کے قبضے میں ہو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کے بھی قبضے میں نہ ہوں تو اس چیز کو ان دونوں کے درمیان آدھوں آدھ تقسیم کیا جائے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں کا ایک جانور کے بارے میں تنازعہ ہوا (کہ ان دونوں میں سے ہر ایک اس جانور کو اپنی ملکیت کہتا تھا) اور ان دونوں کے پاس گواہ نہیں تھے۔ چناچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قسم کھانے پر قرعہ ڈال لو (جس کے نام قرعہ نکل آئے وہ قسم کھا کر کہے کہ یہ جانور میرا ہے اسی کے حق میں فیصلہ کردیا جائے گا۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ) تشریح اس روایت میں جو حکم بیان کیا گیا ہے وہ اس روایت کے حکم کی مانند ہے جو پہلی فصل کے آخر میں ذکر کی گئی ہے اور جس کو حضرت ابوہریرہ ہی نے نقل کیا ہے۔
وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لرجل حلفه : احلف بالله الذي لا إله إلا هو ماله عندك شيء يعني للمدعي . رواه أبو داود
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ایک قضیہ میں) جس شخص یعنی مدعا علیہ) سے قسم کھلوائی جانی تھی اس سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم اس بات پر اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ اس شخص (یعنی مدعی) کا تم پر کوئی حق نہیں ہے۔ (ابو داؤد)
تشریح
جیسا کہ پہلے بتایا گیا اگر مدعی اپنے دعوی کے ثبوت میں گواہ پیش نہ کرسکے اور مدعا علیہ اس کے دعوی سے انکار کرے تو اس کے مطالبہ پر مدعا علیہ کو قسم کھانا ضروری ہوگا اور وہ اس طرح قسم کھائے گا کہ میں اس خدائے واحد کی قسم کھاتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ اس شخض (یعنی مدعی ) نے مجھ پر اپنے جس حق کا دعوی کیا ہے وہ مبنی بر صداقت نہیں ہے اور اس کا مجھ پر کوئی حق نہیں ہے۔ قسم وحلف کے سلسلے میں یہ ضابطہ ملحوظ رہنا چاہئے کہ حلف، قاضی یعنی حاکم عدالت دے گا مسلمان سے خدائے واحد کا حلف لیا جائے گا، عیسائی کو خدائے انجیل کا، یہودی کو خدائے تورات کا اور مجوسی وغیرہ کو صرف اللہ کا حلف دیا جائے گا۔ یہ بات بھی پہلے بتائی جا چکی ہے کہ مدعاعلیہ کی قسم کا بہر صورت اعتبار ہوگا خواہ وہ عادل (سچا) ہو یا فاجر (جھوٹا) ہو ہاں اگر قاضی یعنی حاکم عدالت کو سچی گواہی کے ذریعہ اس کے حلف کا جھوٹ معلوم ہوجائے گا تو اس صورت میں اس کا حلف کالعدم ہوجائے گا۔
مدعا علیہ کا حلف کا حق دیا جائے گا خواہ وہ جھوٹا ہی کیوں نہ ہو
وعن الأشعث بن قيس قال : كان بيني وبين رجل من اليهود أرض فحجدني فقدمته إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ألك بينة ؟ قلت : لا قال لليهودي : احلف قلت : يا رسول الله إذن يحلف ويذهب بمالي فأنزل الله تعالى : ( إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا ) الآية . رواه أبو داود وابن ماجه
اور حضرت اشعث ابن قیس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ایک زمین میرے اور ایک یہودی کے درمیان مشترک تھی لیکن یہودی نے (اس زمین پر) میرے حصے (کو تسلیم کرنے) سے انکار کردیا، چناچہ میں اس کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گیا اور اپنا معاملہ پیش کیا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے عرض کیا نہیں آنحضرت ﷺ نے یہودی سے فرمایا کہ تم قسم کھاؤ میں نے یہ (سن کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ اس وقت قسم کھالے گا اور میرا مال ہڑپ کرلے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے (اسی طرح کے ایک قضیہ کے سلسلے میں جس کا ذکر حضرت ابن مسعود کی روایت میں گزر چکا ہے) یہ آیت نازل فرمائی۔ (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا اُولٰ ى ِكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) 3۔ آل عمران 77) یقینا جو لوگ معاوضہ حقیر لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو اللہ تعالیٰ سے انہوں نے کیا ہے اور (بمقابلہ) اپنی قسموں کے الخ اس روایت کو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے۔
تشریح
حدیث میں جو آیت نقل کی گئی ہے وہ دراصل اس قضیہ کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی جو حضرت ابن مسعود کی روایت (نمبر ٢) میں بیان ہوا ہے، چونکہ اس روایت میں جو قضیہ ذکر کیا گیا ہے وہ پھی اس قضیہ کی مانند ہے اس لئے یہاں اسی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پوری روایت حضرت ابن مسعود کی روایت کی تشریح میں نقل کی جا چکی ہے۔ حضرت اشعث کا نقطہ اعتراض یہ تھا کہ اس یہودی کو قسم کھانے کا حکم دیا جا رہا ہے اور اس کی قسم پر فیصلہ کا انحصار ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ بطور خاص مالی معاملات میں یہودیوں کی فطرت کیا ہے، اس یہودی کے لئے اس میں کوئی باک نہیں ہے کہ یہ میرا مال ہڑپ کرنے کے لئے جھوٹی قسم کھالے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس کی قسم پر فیصلہ کا انحصار نہ رکھا جائے۔ حضرت اشعث کے اس نقطہ اعتراض کے جواب میں صرف اس آیت کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے جو اس سلسلہ میں نازل ہوئی تھی، لہٰذا اس آیت کو ذکر کرنا گویا آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا ہے کہ شریعت نے اس صورت میں کے لئے جو ضابطہ مقرر کیا ہے وہ یہی ہے کہ مدعاعلیہ سے قسم لی جائے اور چونکہ اس طرح کے قضیہ میں قسم کھانا مدعا علیہ کا حق ہے اس لئے کسی نقطہ اعتراض کی بنا پر مدعا علیہ کو اس حق سے محروم کرنا اس مقررہ ضابطہ کی خلاف ورزی کرنا ہے جو ہمارے لئے غیرموزوں بات ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ اگر کوئی مدعا علیہ اپنے حق سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور اس مقصد سے جھوٹی قسم کھاتا ہے کہ مدعی کا مال ہڑپ کرے تو اس کو آگاہ ہوجانا چاہئے کہ اس کی اس جھوٹی قسم کا وبال اس کی گردن پر ہوگا اور جیسا کہ قرآن مجید نے اعلان کیا ہے۔ اس شخص کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
جھوٹی قسم کے ذریعہ دوسرے کا مال ہڑپ کرنے والے کے بارے میں وعید
وعنه أن رجلا من كندة ورجلا من حضرموت اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في أرض من اليمن فقال الحضرمي : يا رسول الله إن أرضي اغتصبنيها أبو هذا وهي في يده قال : هل لك بينة ؟ قال : لا ولكن أحلفه والله ما يعلم أنها أرضي اغتصبنيها أبوه ؟ فتهيأ الكندي لليمين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يقطع أحد مالا بيمين إلا لقي الله وهو أجذم فقال الكندي : هي أرضه . رواه أبو داود
اور حضرت اشعث ابن قیس سے روایت ہے کہ قبیلہ کندہ کا ایک شخص اور حضرموت کا ایک شخص دونوں یمن کی ایک زمین کے بارے میں اپنا قضیہ لے کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس شخص کے باپ نے میری زمین مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ اس کے قضیہ میں ہے (میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری وہ زمین مجھ کو واپس دلوائی جائے) آنحضرت ﷺ نے حضرمی سے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس گواہ ہیں (جو گواہی دے سکیں کہ وہ زمین واقعۃً تمہاری تھی؟ ) اس نے عرض کیا کہ نہیں! لیکن میں اس سے اللہ کی قسم کھلوا کر یہ اقرار کراؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ وہ زمین میری (حضرمی کی) ہے جس کو اس کے باپ نے مجھ سے چھین لیا ہے۔ چناچہ وہ (کندی) قسم کھانے کے لئے تیار ہوگیا (اور جب قسم کھانے چلا) تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ (یاد رکھو) جو بھی شخص (جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کرے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوگا۔ کندی نے یہ (سن کر) کہا کہ میں اقرار کرتا ہوں کہ) وہ زمین اسی شخص کی ہے۔ (ابو داؤد)
تشریح
( الالقی اللہ وہو اجذم)، جذام ایک مشہور بیماری کا نام ہے جس میں اعضائے جسمانی سڑ گل جاتے ہیں ویسے لغت میں جذام کی اصل جذم ہے جس کے معنی ہیں کاٹنا جلدی سے کانٹا۔ نیز یہ لفظ قطع ید یعنی ہاتھ کاٹنے یا کٹے ہوئے ہاتھ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ یہاں حدیث میں یہ لفظ قطع ید ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے جس سے مراد ہے برکت ہونا اور بھلائی سے خالی ہونا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں فرمایا گیا (من تعلم القرآن ثم نسیہ لقی اللہ وہو اجذم ) یعنی جس شخص نے قرآن سیکھا (یاد کیا) پھر اس کو بھول گیا تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہوگا۔ یعنی بےبرکت۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ کہتے ہیں کہ یہاں اجذم سے مراد مقطوع الحجۃ (بےدلیل) ہے یعنی وہ شخص اس حال میں بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوگا کہ اس کے پاس نہ تو اپنے دین و دیانت کی اور اللہ ترسی وحقوق شناسی کی بظاہر کوئی دلیل ہوگی جس سے وہ اپنی نجات کا راستہ تلاش کرسکے اور نہ اس کے پاس ایسی زبان ہوگی جس کے ذریعہ وہ عرض معروض کی جرأت کرسکے۔
جھوٹی قسم کھانا ایک بڑا گناہ ہے
وعن عبد الله بن أنيس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من أكبر الكبائر الشرك بالله وعقوق الوالدين واليمين الغموس وما حلف حالف بالله يمين صبر فأدخل فيها مثل جناح بعوضة إلا جعلت نكتة في قلبه إلى يوم القيامة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب (2/360) 3778 - [ 21 ] ( صحيح ) وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحلف أحد عند منبري هذا على يمين آثمة ولو على سواك أخضر إلا تبوأ مقعده من النار أو وجبت له النار . رواه مالك وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت عبداللہ بن انیس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں (١) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا (٢) ماں باپ کی نافرمانی کرنا (٣) اور جھوٹی قسم کھانی (یاد رکھو) جس قسم کھانے والے نے بھی مجبوری وقید کی حالت میں اللہ کی قسم کھائی اور اس قسم میں مچھر کے بازو کے برابر (یعنی تھوڑا سا) بھی جھوٹ شامل کیا تو اس کے دل میں قیامت تک کے لئے ایک نکتہ پیدا ہوجائے گا ( جس کا وبال آخرت میں ظاہر ہوگا) اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
غموس دراصل غمس سے ہے جس کے معنی ہیں غوطہ دینا اور یمین غموس کسی گذری بات پر دیدہ و دانستہ جھوٹی قسم کھانے کو کہتے ہیں۔ حنفی مسلک کے مطابق ایسی قسم کھانے والے پر کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ لیکن اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ توبہ استغفار کرے اور آئندہ اس طرح جھوٹی قسم نہ کھانے کا پختہ عہد کرے کیونکہ یمین غموس کے بارے میں دوزخ کی آگ سے ڈرایا گیا ہے چناچہ ایسی قسم کو غموس اسی اعتبار سے کہتے ہیں کہ وہ ایسی قسم کھانے والے کو دوزخ کی آگ میں غوطہ دے گی۔ نیز غیر کا حق دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کے لئے جو جھوٹی قسم کھائی جاتی ہے وہ اسی قبیل سے (یعنی یمین غموس کی قسم سے) ہے۔ یمین صبر (یعنی مجبوری وقید کی حالت میں قسم کھانا، کی تفصیل پہلی فصل (حدیث نمبر ١٢) کی تشریح میں گذر چکی ہے نتیجہ کے اعتبار سے یمین صبر بھی یمین غموس کے مفہوم میں داخل ہے کہ جس طرح یمین غموس سے کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ بلکہ آخرت کی سزا (یعنی دوزخ کی آگ) ملتی ہے اسی طرح یمین صبر میں کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی سزا بھی آخرت میں ہی میں ملے گی۔ حدیث (جعلت نکتۃ فی قلبہ الی یوم القیامۃ) (اس دل میں قیامت تک کے لئے ایک نکتہ پیدا ہوجائے گا) کا مطلب یہ ہے کہ اس نکۃ (داغ) کا اثر زنگ کی طرح ہے کہ وہ اپنی قسم میں تھوڑے سے بھی جھوٹ کی آمیزش کرنے والے شخص کے دل پر قیامت تک ہوگا پھر قیامت میں اس کا وبال اس طرح ظاہر ہوگا کہ اس کو عذاب الٰہی میں مبتلا کیا جائے گا۔ اس سے عبرت پکڑنی چاہئے جب کہ تھوڑے سے جھوٹ کی آمیزش کرنے کا انجام یہ ہے کہ تو اس صورت میں کیا حشر ہوگا جب کہ جس بات پر قسم کھائی جائے وہ سرے جھوٹ ہو۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں تین چیزوں کو ذکر کیا ہے جو بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ ہیں اور پھر ان تینوں میں سے صرف آخر کے بارے میں وعید بیان فرمائی تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ یہ بھی سب سے بڑے گناہ ہیں اور پھر ان تینوں میں سے صرف آخر میں کے بارے میں وعید بیان فرمائی تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ یہ بھی سب سے بڑے گناہوں میں داخل ہے اور لوگ یہ گمان کر کے عدالت میں جھوٹی قسم کھانا گناہ کے اعتبار سے شرک اور ماں باپ کی نافرمانی کی طرح نہیں ہے اس کو کمتر نہ جائیں اسی طرح آگے حضرت خزیمہ ابن فاتک کی جو روایت آئے گی اس کے یہ الفاظ (عدلت شہادۃ الزور بالا شراک باللہ) سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ یہ بھی اکبر کبائر میں داخل ہے۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو بھی شخص میرے منبر کے پاس قسم کھاتا ہے اور اس کی وہ قسم جھوٹی ہوتی ہے اگرچہ وہ ایک مسواک ہی کے لئے کیوں نہ ہو تو وہ (دوزخ کی) آگ میں اپنا ٹھکانہ تیار کرتا ہے۔ یا یہ فرمایا کہ۔ اس کے لئے (دوزخ کی) آگ واجب ہوتی ہے۔ (مالک، ابوداؤد، ابن ماجہ ) تشریح منبر کے پاس قسم کھانے کی قید اس لئے لگائی کہ وہ ایک مقدس وباعظمت جگہ ہے وہاں جھوٹی قسم کھانا بہت بڑا گناہ ہے۔ ورنہ مطلق جھوٹی قسم کھانا خواہ جہاں بھی کھائی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے عذاب کو واجب کرتا ہے۔ سبز مسواک کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ وہ ایک حقیر ترین چیز ہے۔ جب کہ خشک ہوجانے کے بعد اس میں قدروقیمت پیدا ہوجاتی ہے۔ حاصل یہ کہ مسواک بذات خود بہت معمولی و حقیر چیز ہے۔ جب کہ خشک ہونے سے پہلے تو اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہوتی۔ جب اس کے لئے جھوٹی قسم کھانا اتنی بڑی وعید کا محمول ہے تو جو لوگ عدالتوں میں بڑی بےباکی کے ساتھ بڑی سے بڑی چیز کے لئے جھوٹی قسمیں کھاتے پھرتے ہیں ان کا حشر کیا ہوگا؟