مرتدوں اور فساد برپا کرنے والوں کو قتل کردینے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 110 · 23 hadiths · Page 2 of 2

3518Mishkaat-al-Masabih

ساحر کو قتل کردیا جائے

وعن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حد الساحر ضربة بالسيف . رواه الترمذيعن أسامة بن شريك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما رجل خرج يفرق بين أمتي فاضربوا عنقه . رواه النسائي

اور حضرت جندب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جادوگر کو حد (شرعی سزا) یہ ہے کہ اس کو تلوار سے قتل کردیا جائے (ترمذی) تشریح علماء کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ جادو کرنا حرام ہے۔ ویسے جادو کے مسئلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، حضرت امام شافعی تو یہ فرماتے ہیں کہ جادوگر کو قتل کردیا جائے بشرطیکہ اس کا جادو موجب کفر ہو اور وہ توبہ نہ کرے۔ حضرت امام ملک اور بعض دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ ساحر کافر ہے، سحر کفر ہے، سحر سیکھنا سیکھانا بھی کفر ہے ساحر کو قتل کردی جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے خواہ اس نے کسی مسلمان پر سحر کیا ہو یا کسی ذمی پر۔ اور حنیفہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ساحر کا یہ عقیدہ ہو کہ کار ساز شیطان کی ذات ہے کہ وہ میرے لئے جو چاہتا ہے کرتا ہے تو وہ کافر ہے اور اگر یہ عقیدہ ہو کہ سحر، مجرد خیال ہے تو وہ کافر نہ ہوگا بلکہ فاسق ہے اور سحر کا سیکھنا حرام ہے۔ درمختیار کے حاشیہ طحطاوی میں یہ لکھا ہے کہ سحر کی تین قسمیں ہیں۔ (١) فرض۔ (٢) حرام۔ (٣) جائز اگر کوئی شخص اہل حرب کے ساحر کے توڑ کے لئے سحر سیکھے تو وہ فرض ہے، اگر کوئی شخص اس مقصد کے لئے سیکھے کہ اس کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دے گا تو حرام ہے اور اگر اس مقصد کے لئے سیکھے کہ اس کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان پیار و محبت پیدا کرے گا تو جائز ہے۔ سحر کے کفر ہونے میں اگرچہ حنبلی علماء کے اختلافی اقوال ہیں لیکن تنقیح میں ان کی کتابوں کے حوالہ سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ ساحر کی توبہ کا اعتبار نہ کیا جائے۔ ساحر اپنے سحر کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان پر سحر کرے اس کو قتل کردیا جائے۔ سحر کی طرح کہانت، نجوم، رمل اور علم شعبدہ کا سیکھنا اور سیکھانا بھی حرام ہے اور اس کے ذریعہ کمایا ہوا مال بھی حرام ہے۔ حضرت اسامہ ابن شریک کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص امام وقت کے خلاف خروج کرے اور اس طرح وہ میری امت میں تفرقہ ڈالے تو اس کی گردن اڑا دو (نسائی) تشریح امام وقت، امت کے اتحاد واجماعیت کا بنیادی محور ہوتا ہے اس کی اطاعت و فرمانبرداری ہر مسلمان پر اسی لئے لازم ہے کہ اس کی وجہ سے نہ صرف اسلام کی تعلیم اجتماعیت کا تقاضہ پورا ہوتا ہے بلکہ مسلمان ایک جھنڈے کے نیچے متفق ومتحد رہ کر اسلام دشمن ومسلم مخالف طاقتوں کے مقابلہ پر ایک مضبوط چٹان بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ اسلام کی شان و شوکت کو باقی رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص اس اجتماعی دائرہ سے نکلتا ہے تو وہ صرف ایک برائی کا مرتکب نہیں ہوتا بلکہ پوری امت کے اتفاق و اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی اعتراض ہو تو اس کے اس شک وشبہ اور اعتراض کو دور کیا جائے گا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی حرکت سے باز نہ آئے اور اصلاح کی کوئی کوشش اس کو سرکشی و بغاوت کی راہ سے واپس نہ لاسکے تو پھر اس کو مار ڈالا جائے جیسا کہ حضرت علی نے خوارج کے ساتھ کیا۔

3519Mishkaat-al-Masabih

خوارج کے متعلق پیشین گوئی

وعن شريك بن شهاب قال : كنت أتمنى أن ألقى رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أسأله عن الخوارج فلقيت أبا برزة في يوم عيد في نفر من أصحابه فقلت له : هل سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يذكر الخوارج ؟ قال : نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم بأذني ورأيته بعيني : أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بمال فقسمه فأعطى من عن يمينه ومن عن شماله ولم يعط من وراءه شيئا . فقام رجل من ورائه فقال : يا محمد ما عدلت في القسمة رجل أسود مطموم الشعر عليه ثوبان أبيضان فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم غضبا شديدا وقال : والله لا تجدون بعدي رجلا هو أعدل مني ثم قال : يخرج في آخر الزمان قوم كأن هذا منهم يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية سيماهم التحليق لا يزالون يخرجون حتى يخرج آخرهم مع المسيح الدجال فإذا لقيتموهم هم شر الخلق والخليقة . رواه النسائي

اور حضرت شریک ابن شہاب تابعی کہتے ہیں کہ میری ایک یہ بڑی آرزو تھی کہ میں نبی کریم ﷺ کہ کسی صحابی سے ملاقات کی سعادت حاصل کروں اور ان سے خوارج کے بارے میں پوچھوں کہ آج کل جو خوارج پیدا ہو رہے ہیں کیا آنحضرت ﷺ نے ان کے متعلق کوئی پیشین گوئی کی تھی؟ چناچہ میں ایک صحابی حضرت ابوبرزہ سے عید کے دن ان کے دوستوں کی موجودگی میں ملا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول کریم ﷺ کو خوارج کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! میں نے اپنے کانوں سے رسول کریم ﷺ کو خوارج کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اور اپنی آنکھوں سے یہ واقعہ بھی دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں کچھ مال لایا گیا، آپ ﷺ نے اس مال کو حاضرین مجلس میں اس طرح تقسیم فرمایا کہ جو لوگ آپ کی داہنی جانب بیٹھے ہوئے تھے ان کو دیا اور جو لوگ بائیں جانب بیٹھے تھے ان کو دیا لیکن جو لوگ آپ کے پیچھے تھے ان کو کچھ نہیں دیا۔ چناچہ آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ آپ ﷺ نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا۔ وہ شخص کالے رنگ کا تھا، اس کے سر کے بال منڈے ہوئے تھے اور دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ (اسکی بات سن کر) رسول کریم ﷺ سخت غضبناک ہوگئے اور فرمایا کہ اللہ کی قسم! تم میرے بعد کسی شخص کو مجھ سے زیادہ انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے اور پھر فرمایا کہ آخر زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہوگا اور یہ شخص گویا اسی گروہ کا ایک فرد ہے اس گروہ کے لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کا پڑھنا ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا اور وہ لوگ امام وقت کے خلاف خروج و سرکشی کے ذریعہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے درمیان سے نکل جاتا ہے ان لوگوں کی علامت یہ ہے کہ ان کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے اس گروہ کے لوگ ہر زمانہ میں پائے جائیں گے اور ہمیشہ خروج کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف خروج کرے گا جب کہ وہ قیامت کے قریب دنیا میں نازل ہوں گے، لہٰذا جب بھی تمہارا ان سے سامنا ہوجائے ان کو قتل کر ڈالو، وہ لوگ آدمیوں اور جانوروں میں بد ترین مخلوق ہیں۔ (نسائی )

3520Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن اہل حق کے چہرہ منور اور اہل باطل کے چہرے سیاہ ہوں گے

وعن أبي غالب رأى أبو أمامة رؤوسا منصوبة على درج دمشق فقال أبو أمامة : كلاب النار شر قتلى تحت أديم السماء خير قتلى من قتلوه ثم قرأ ( يوم تبيض وجوه وتسود وجوه ) الآية قيل لأبي أمامة : أنت سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : لو لم أسمعه إلا مرة أو مرتين أو ثلاثا حتى عد سبعا ما حدثتكموه . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن

اور حضرت ابوغالب (تابعی) کہتے ہیں کہ حضرت ابوامامہ (صحابی) نے (ایک دن) دمشق کی شاہراہ پر (خوارج کے) سر پڑے ہوئے دیکھے یا وہ سولی پر لٹکے ہوئے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ دوزخ کے کتے ہیں اور آسمان کے نیچے بدترین مقتول ہیں اور بہترین مقتول وہ ہے جس کو انہوں نے قتل کیا ہو۔ اور پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ اس قیامت کے دن کہ بہت سے منہ سفید منور ہوں گے اور بہت سے منہ سیاہ ہوں گے ابوغالب نے حضرت ابوامامہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ بات رسول کریم ﷺ سے سنی ہے؟ ابوامامہ نے فرمایا اگر میں نے یہ بات ایک بار دو بار تین بار یہاں تک کہ انہوں نے سات بار گنا نہ سنی ہوتی تو تمہارے سامنے بیان نہ کرتا یعنی اگر میں اس بات کو آنحضرت ﷺ سے اتنی کثرت سے بار بار نہ سنتا تو میں تمہارے سامنے بیان نہ کرتا۔ ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ تشریح حضرت ابوامامہ نے جو آیت پڑھی وہ پوری یوں ہے۔ (یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ فاما الذین اسودت وجوہہم اکفرتم بعد ایمانکم فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون )۔ (ال عمران ٣ ١٠٦) اس دن کو بہت سے منہ سفید (منور) ہوں گے اور بہت سے منہ کالے ہوں گے پس جن کے منہ کالے ہونگے ان سے کہا جائے گا کہ تم ایمان لانے کے بعد پھر کافر ہوگئے تھے؟ تو تم نے جو کچھ کفر کیا ہے اس کے بدلے میں عذاب چکھو۔ حدیث میں جن لوگوں کے سروں کا ذکر ہے ان کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ وہ مرتد تھے، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ بدعتی تھے، جب کہ حضرت ابوامامہ سے منقول ہے کہ وہ خوارج تھے۔