باری مقرر کرنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 100 · 43 hadiths · Page 2 of 3

3258Mishkaat-al-Masabih

کوئی عورت خواہ مخواہ اپنی سوکن کو جلانے کے کام نہ کرے

وعن أسماء أن امرأة قالت : يا رسول الله إن لي ضرة فهل علي جناح إن تشبعت من زوجي غير الذي يعطيني ؟ فقال : المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور

اور حضرت اسماء ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری ایک سوکن ہے اگر میں اس کے سامنے اپنے خاوند کی کسی ایسی چیز کا اظہار کروں جو اس نے مجھے نہیں دی ہے تو کیا یہ گناہ ہے؟ یعنی میرا خاوند مجھے جو کچھ دیتا ہے اگر میں اپنی سوکن کو جلانے کے لئے اس کے سامنے اس چیز کو زیادہ کر کے بیان کروں کہ دیکھو مجھے تم سے زیادہ ملتا ہے تو کیا اس میں کوئی برائی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں بہت بری بات ہے کیونکہ نہ دی ہوئی چیز کا اظہار کرنے والا دو جھوٹ موٹ کے کپڑے پہننے والے کے مانند ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح دو کپڑوں سے مراد چادر اور تہبند ہیں اور جھوٹ موٹ کے کپڑے پہننے والے سے وہ شخص مراد ہے جو کسی کا مانگا ہوا یا کسی کی امانت کا کپڑا پہنے اور ظاہر یہ کرے کہ گویا وہ کپڑے اسی شخص کے ہیں یا وہ شخص مراد ہے جو زاہدوں اور بزرگوں کا لباس پہنے حالانکہ واقعۃً اسے زہد و بزرگی سے کوئی نسبت نہ ہو بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ حدیث میں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو ایسا قمیص و کرتہ پہنے جس کی آستینوں کے نیچے دو اور آستینیں لگی ہوئی ہوں تاکہ دیکھنے والے یہ سمجھیں کہ دو کپڑے پہن رکھے ہیں اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ عرب میں ایک شخص تھا جو محض اس لئے وہ بہت عمدہ اور نفیس کپڑے پہنتا تھا تاکہ لوگ اسے عزت و احترام کی نظر دیکھیں اور اگر وہ کوئی جھوٹی گواہی دے تو کوئی آدمی اس کی کسی گواہی کو جھوٹ نہ جانے لہٰذا حدیث میں اسی شخص کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔

3259Mishkaat-al-Masabih

ایلاء کا مطلب

وعن أنس قال : آلى رسول الله من نسائه شهرا وكانت انفكت رجله فأقام في مشربة تسعا وعشرين ليلة ثم نزل فقالوا : يا رسول الله آليت شهرا فقال : إن الشهر يكون تسعا وعشرين . رواه البخاري

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا اور اسی زمانہ میں آپ ﷺ کے پاؤں میں موچ آگئی تھی چناچہ آپ ﷺ انتیس راتوں تک بالاخانہ ہی پر رہے پھر جب آپ ﷺ نیچے تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے تو ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا اور مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے پھر آپ انتیس دن کے بعد کیوں اتر آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ (بخاری) تشریح ایلاء کے لغوی معنی ہیں قسم کھانا اور اصطلاح شریعت میں ایلاء اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص اس بات کی قسم کھائے کہ میں چار مہینہ یا اس سے زیادہ تک اپنی بیوی کے پاس نہیں جاؤں گا یعنی اس سے جماع نہیں کروں گا اگر قسم پوری ہوجائے یعنی وہ شخص اپنی قسم کے مطابق چار مہینہ تک یا اس سے بھی زائد اس مدت تک جو اس نے متعین کی ہو، اپنی بیوی کے پاس نہ جائے تو طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے اور اگر وہ قسم پوری نہ کرے یعنی اس مدت کے پوری ہونے سے پہلے بیوی کے پاس چلا جائے تو ایلاء ساقط ہوجاتا ہے اور اس پر قسم پوری نہ کرنے کا کفارہ واجب ہوجاتا ہے یا جزا لازم ہوجاتی ہے اور اگر کسی شخص کے نکاح میں کسی کی لونڈی ہو یعنی اس کی بیوی آزاد عورت نہ ہو بلکہ کسی کی لونڈی ہو اور وہ اس سے ایلاء کرے تو اس کی کم سے کم مدت بجائے چار مہینہ کے دو مہینہ ہوگی اور اگر کسی شخص نے آزاد عورت کے حق میں چار مہینہ سے کم اور لونڈی کے حق میں دو مہینہ سے کم مدت کے لئے قسم کھائی تو یہ ایلاء شرعی نہیں کہلائے گا چناچہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کی طرف جس ایلاء کی نسبت کی گئی ہے وہ شرعی ایلاء نہیں ہے۔ بلکہ ایلاء لغوی مراد ہے یعنی آپ ﷺ نے یہ قسم کھائی تھی کہ میں اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا جس کا سبب یہ تھا کہ آپ ﷺ کی بیویوں نے آپ ﷺ سے کچھ زیادہ نفقہ کا مطالبہ کیا تھا جس سے آپ ﷺ کو سخت ناگواری ہوئی اور آپ ﷺ نے قسم کے ساتھ یہ عہد کیا کہ میں ان بیویوں کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا انہیں دنوں میں یہ حادثہ پیش آیا کہ آپ ﷺ گھوڑے سے گرپڑے جس کی وجہ سے آپ ﷺ کے پائے مبارک میں چوٹ آگئی پھر آپ ﷺ ایک مہینہ بالا خانہ پر ہی رہے نیچے نہیں آئے مگر وہ مہینہ غالباً انتیس دن کا تھا اس لئے آپ ﷺ نے انتیس دن پر اکتفا کیا اور نیچے تشریف لے آئے۔

3260Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے ایلاء کا واقعہ

وعن جابر قال : دخل أبو بكر رضي الله عنه يستأذن على رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجد الناس جلوسا ببابه لم يؤذن لأحد منهم قال : فأذن لأبي بكر فدخل ثم أقبل عمر فاستأذن فأذن له فوجد النبي صلى الله عليه و سلم جالسا حوله نسائه واجما ساكتا قال فقلت : لأقولن شيئا أضحك النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله لو رأيت بنت خارجة سألتني النفقة فقمت إليها فوجأت عنقها فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : هن حولي كما ترى يسألنني النفقة . فقام أبو بكر إلى عائشة يجأ عنقها وقام عمر إلى حفصة يجأ عنقها كلاهما يقول : تسألين رسول الله صلى الله عليه و سلم ما ليس عنده ؟ فقلن : والله لا نسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا أبدا ليس عنده ثم اعتزلهن شهرا أو تسعا وعشرين ثم نزلت هذه الآية : ( يا أيها النبي قل لأزواجك ) حتى بلغ ( للمحسنات منكن أجرا عظيما ) قال : فبدأ بعائشة فقال : يا عائشة إني أريد أن أعرض عليك أمرا أحب أن لا تعجلي فيه حتى تستشيري أبويك . قالت : وما هو يا رسول الله ؟ فتلا عليها الآية قالت : أفيك يا رسول الله أستشير أبوي ؟ بل أختار الله ورسوله والدار الآخرة وأسألك أن لا تخبر امرأة من نسائك بالذي قلت : قال : لا تسألني امرأة منهن إلا أخبرتها إن الله لم يبعثني معنتا ولا متعنتا ولكن بعثني معلما ميسرا . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ جس زمانہ میں آنحضرت ﷺ اپنی بیویوں سے ایک مہینہ کی علیحدگی اختیار کئے ہوئے مکان میں گوشہ نشین تھے تو ایک دن حضرت ابوبکر ؓ آئے اور رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت کے طلب گار ہوئے انہوں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کے دروازہ پر لوگ جمع ہیں۔ اور کسی کو حاضر ہونے کی اجازت نہیں مل رہی مگر حضرت ابوبکر ؓ کو اجازت مل گئی اور وہ آپ ﷺ کی خدمت میں چلے گئے پھر حضرت عمر فاروق ؓ آئے اور انہوں نے حاضر ہونے کی اجازت مانگی ان کو بھی اجازت مل گئی چناچہ حضرت عمر ؓ جب آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ کو اس حالت میں پایا کہ آپ ﷺ کے اردگرد آپ ﷺ کی بیویاں بیٹھی ہوئی تھیں اور آپ ﷺ اس وقت غمگین اور خاموش تھے حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے یہ صورت حال دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ اس وقت مجھے کوئی ایسی بات کہنی چاہئے۔ جس سے نبی کریم ﷺ ہنس پڑیں، چناچہ انہوں کہا کہ یا رسول اللہ! اگر آپ دیکھیں کہ خارجہ کی بیٹی یعنی میری بیوی مجھ سے روٹی پانی کا خرچ معمول سے زیادہ طلب کرے تو میں کھڑا ہو کر اس کی گردن پر مار لگاؤں۔ حضرت عمر نے یہ بات کچھ اس انداز سے کہی کہ آنحضرت ﷺ ہنس پڑے اور پھر فرمایا کہ یہ میری عورتیں جنہیں تم میرے اردگرد بیٹھی دیکھ رہے مجھ سے معمول سے زیادہ خرچ مانگ رہی ہیں یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ کی گردن پر مارنے لگے، اسی طرح حضرت عمر بھی کھڑے ہوئے اور وہ بھی اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ کی گردن پر مارنے لگے اور پھر ان دونوں یعنی حضرت ابوبکر و عمر ؓ نے کہا کہ کیا تم آنحضرت ﷺ سے اس چیز کا مطالبہ کر رہی ہو جو آپ ﷺ کے پاس موجود نہیں ہے یعنی یہ بات کتنی غیر مناسب ہے کہ تم آنحضرت ﷺ کی مالی حالت جانتی ہو اور اس کے باوجود آپ ﷺ سے اتنے خرچ کا مطالبہ کرتی ہو جس کو آپ ﷺ پورا کرنے پر قادر نہیں ہیں کیا تمہارا یہ مطالبہ آنحضرت ﷺ کو پریشانی میں مبتلا کرنے کے مترادف نہیں ہے ان عورتوں نے کہا کہ بیشک ہم نے بےجا مطالبہ کیا تھا جس پر ہم نادم ہیں اور آئندہ کے لئے ہم عہد کرتی ہیں کہ اللہ کی قسم اب ہم کبھی بھی آپ ﷺ سے اس چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ ﷺ کے پاس نہ ہو۔ لیکن آپ ﷺ نے چونکہ علیحدگی کی قسم کھالی تھی اس لئے اس قسم کو پورا کرنے کے لئے آپ ﷺ ایک مہینہ تک یا انتیس دن تک اپنی بیویوں سے علیحدہ رہے (اس جگہ حدیث کے کسی راوی کو شک ہوا کہ حضرت جابر نے یہاں ایک مہینہ کہا تھا یا انتیس دن کہا تھا) پھر یہ آیات۔ (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 28 وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا 29) 33۔ الاحزاب 28۔ 29)۔ تک نازل ہوئی حضرت جابر کہتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ رابطہ قائم کیا کیونکہ تمام ازواج مطہرات میں وہی سب سے زیادہ عقل مند اور افضل تھیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ عائشہ میں تمہارے سامنے ایک بات پیش کرنا چاہتا ہوں لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تم اس کا جواب دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ اس کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کرلو۔ حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! فرمائیے وہ کیا بات ہے؟ آنحضرت ﷺ نے ان کے سامنے مذکورہ بالا آیت پڑھی، حضرت عائشہ نے یہ آیت سن کر کہا کہ یا رسول اللہ! کیا میں آپ ﷺ کے معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ لوں یعنی مشورہ تو اس معاملہ میں کیا جاتا ہے جس میں کوئی تردد ہو جب کہ اس معاملہ میں مجھے کوئی تردد نہیں ہے۔ بلکہ میں اللہ اور اللہ کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرلیا یعنی میں اس معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضی و خواہش کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہوں کہ اسی میں میرے لئے دنیا کی بھی بھلائی ہے اور آخرت کی کامیابی بھی ہے مگر میں آپ ﷺ سے یہ درخواست کرتی ہوں کہ اس وقت میں نے آپ ﷺ سے جو کچھ عرض کیا ہے اس کا ذکر اپنی کسی اور بیوی سے نہ کریں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ بات ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی بیوی مجھ سے یہ پوچھے گی تو میں اس کے سامنے ضرور ذکر کروں گا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے نہیں بھیجا ہے کہ میں کسی کو رنج پہنچاؤں یا کسی کو خواہ مخواہ تکلیف میں مبتلا کروں بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں مخلوق اللہ کو دین کے احکام سکھاؤں اور آسانی (یعنی دینی دنیوی راحت) سے ہمکنار کروں (مسلم) تشریح حضرت عمر ؓ نے آپ ﷺ کو اس حال میں پایا الخ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ پردہ واجب ہونے سے پہلے کا ہے کیونکہ اگر پردہ واجب ہوچکا ہوتا تو نہ حضرت عمر ؓ اس طرح زنانہ خانہ میں عورتوں کے سامنے جاتے اور نہ عورتیں ان کے سامنے ہوتیں۔ جس سے نبی کریم ﷺ ہنس پڑیں اس سے حضرت عمر ؓ کا مقصد یہ تھا کہ میں کوئی دلچسپ بات کہہ دوں جس سے آنحضرت ﷺ کا غم و ملال زائل ہوجائے اور آپ ﷺ خوش ہوجائیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ مستحب ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی دوست و عزیز کو غمگین دیکھے تو وہ اس کے سامنے کوئی بات ذکر کرے جس سے وہ ہنس پڑے اور خوش ہوجائے اور خود بھی اس بات میں شریک ہو کر اپنا رنج و غم بھول جائے چناچہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ جب اپنے کسی صحابی کو غمگین دیکھتے تو اس کو خوش طبعی اور ہنسی مذاق کے ذریعہ خوش کردیتے تھے۔ حدیث میں جس آیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ پوری یوں ہے ا یت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 28 وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا 29) 33۔ الاحزاب 29-28)۔ اے پیغمبر ﷺ! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ (میں نے تو فقر کو اختیار کیا ہے) اگر تم میرے فقر پر راضی نہیں ہو بلکہ دنیا کی آرام دہ زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی خواستگار ہو تو مجھے بتادو اور آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح رخصت کر دوں (یعنی ہمیشہ کے لئے تم سے علیحدگی اختیار کرلوں) اور اگر تم میرے فقر پر راضی ہو اور یہ چاہتی ہو کہ تمہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا مندی حاصل ہو اور جنت تمہارا ٹھکانا بنے تو سن لو کہ تم میں جو نیکو کاری کرنے والی ہیں ان کے لئے اللہ نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے (یعنی تمہاری اس مشقت کے عوض جو تمہیں میری فقروفاقہ کی زندگی کی رفیق بننے میں اٹھانی پڑے گی اللہ تعالیٰ تمہیں بےاندازہ اجر وثواب عطا کرے گا۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے اپنی بیویوں میں سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ رابطہ قائم کیا اور ان کے سامنے اس آسمانی ہدایت کو رکھنے سے پہلے ان پر واضح کردیا کہ میں تمہارے سامنے جو ہدایت و ضابطہ رکھنے والا ہوں میں چاہتا ہوں کہ اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے والدین سے مشورہ کا حکم اس لئے دیا کہ حضرت عائشہ اگرچہ سب سے زیادہ سمجھدار اور عقل مند تھیں مگر بہرحال صغیر السن تھیں آپ ﷺ کو یہ خوف تھا کہ کہیں عائشہ کم عمری کے جذبات میں نہ بہہ جائیں اور وہ دنیا کی عیش و عشرت کی خاطر مجھے چھوڑ کر آخرت کی ابدی سعادتوں سے منہ نہ موڑ لیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس سے صرف عائشہ ہی کو نقصان اور تباہی سے دو چار ہونا نہیں پڑے گا، بلکہ ان کے والدین کو بھی سخت اذیت اور تکلیف پہنچے گی لیکن اگر اس معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ کریں تو وہ انہیں وہی صلاح دیں گے جو ان کی دنیا اور ان کے دین کی بھلائی اور بہتری کے مطابق ہوگی۔ مگر یہ حجرت عائشہ کی فطری سعادت کی بات تھی کہ انہوں نے اپنے والدین کے مشورہ کے بغیر اپنا یہ فیصلہ سنا دیا کہ میں دنیا کی آرام دہ زندگی پر آخرت کی ابدی سعادتوں کو ترجیح دیتی ہوں اور اللہ اور اس کے رسول کی مرضی و منشا ہی کو اختیار کرتی ہوں۔ حضرت عائشہ نے آنحضرت ﷺ سے یہ جو درخواست کی کہ میں نے آپ ﷺ کو جو کچھ جواب دیا ہے وہ آپ ﷺ اپنی کسی اور بیوی سے ذکر نہ کریں تو ان کا یہ خیال تھا کہ شاید اس موقعہ پر کوئی بیوی آپ ﷺ کے فقر پر راضی نہ ہو کہ دنیا کی آرام دہ زندگی کے لئے آپ ﷺ سے علیحدہ ہوجائے اس لئے انہوں نے سوچا کہ اگر کسی بیوی کو میرے اس ایمان و یقین سے بھرپور فیصلہ کا علم ہوا تو شاید اسے بھی راہنمائی مل جائے اور وہ بھی ایسا ہی فیصلہ کرے لیکن اگر میرے اس فیصلہ سے لاعلمی رہے گی تو بہت ممکن ہے کہ کوئی بیوی دنیا کے عیش و آرام کو آنحضرت ﷺ کی پر مشقت رفاقت پر ترجیح دے اس لئے اچھا ہی ہوگا اگر کوئی بیوی آنحضرت ﷺ کے نکاح سے نکل جائے گویا حضرت عائشہ کی اس خواہش کا محرک آنحضرت ﷺ سے ان کی وہ بےپناہ محبت تھی جس میں وہ کسی دوسری عورت کو شریک دیکھنا گوارا نہیں کرتی تھیں۔ لیکن بہرحال رسول کریم ﷺ کی نظر میں تمام بیویوں کی بھلائی و برائی یکساں حیثیت رکھتی تھی، آپ ﷺ یہ کیسے گوارا کرسکتے تھے کہ ایک بیوی تو آخرت کی سعادتوں سے نوازی جائے اور دوسری بیوی دنیا کو اختیار کر کے تباہی کے راستہ پر لگ جائے چناچہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ کی اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ان پر واضح کردیا، کہ مجھ سے جو بھی بیوی پوچھے گی میں اس کو بتادوں گا کیونکہ اس کی بھلائی اسی میں پوشیدہ ہے اگر میں کسی کو نہ بتاؤں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے اس تئیں شفقت کا رویہ نہیں اپنایا اور اس کو وہ راستہ نہیں دکھایا جو اس کی راحت، اس کی بھلائی اور اس کی اخروی فلاح کے لئے ضروری ہے حالانکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے مبعوث نہیں کیا ہے کہ میں لوگوں کے حق میں بدخواہی کروں یا کسی کو تکلیف و مصیبت اور رنج و غم میں مبتلا کروں اس دنیا میں اس لئے آیا ہوں کہ کائنات انسانی کے ہر فرد کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی تعلیم دوں اور ہر انسان کو اس کے دینی دنیاوی معاملات میں آسانی و سہولت کی راہ دکھاؤں۔

3261Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے ایلاء کا واقعہ

وعن عائشة قالت : كنت أغار من اللاتي وهبن أنفسهن لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : أتهب المرأة نفسها ؟ فلما أنزل الله تعالى : ( ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك ) قلت : ما أرى ربك إلا يسارع في هواك . متفق عليه . وحديث جابر : اتقوا الله في النساء وذكر في قصة حجة الوداع

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں ان عورتوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتی تھی جو اپنے نفس کو رسول اللہ کے لئے ہبہ کردیتی تھیں چناچہ میں کہا کرتی تھی کہ کوئی عورت اپنا نفس ہبہ کرسکتی ہے؟ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی۔ اے محمد! ان عورتوں میں سے جس کو آپ چاہیں علیحدہ کردیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جن عورتوں کو آپ نے علیحدہ کردیا ہے اگر ان میں سے کسی کو آپ بلائی تو کوئی گناہ نہیں۔ تو میں نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ میں دیکھتی ہوں کہ آپ ﷺ کا پروردگار آپ ﷺ کی مرضی و خواہش کو جلد پورا کردیتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح جو عورتیں اپنا نفس آنحضرت ﷺ کو ہبہ کردیتی تھیں ان کو حضرت عائشہ اس لئے اچھی نظر سے نہیں دیکھتی تھیں کہ کسی عورت کا اپنے نفس کو کسی غیر مرد کو ہبہ کردینا گویا عورت کی عزت و شرف کے منافی ہے اور اس کی حرص و قلت حیاء پر دلالت کرتا ہے اگرچہ جو عورتیں آنحضرت ﷺ کو اپنا نفس ہبہ کردیتی تھیں ان عورتوں کے نقطہ نظر سے اور واقعۃً بھی ان کا یہ ہبہ ان کے لئے باعث عزت ہوتا تھا جسے وہ اپنی خوش قسمتی تصور کرتی تھیں۔ کوئی عورت اپنا نفس ہبہ کرسکتی ہے حضرت عائشہ یہ بات ان عورتوں کے ہبہ کی مخالفت میں کہا کرتی تھیں جس سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ کسی عورت کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنا نفس کسی غیر مرد کو ہبہ کر دے اور ایک روایت میں حضرت عائشہ کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ کیا عورت اپنا نفس ہبہ کرتے ہوئے کوئی شرم و حیاء محسوس نہیں کرتی؟ مذکورہ آیت کا مطلب یا تو یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی ازواج میں سے جس کو چاہیں اپنا ہم بستر بنائیں اور جس کو چاہیں اپنے سے الگ رکھیں یا یہ مطلب ہے کہ آپ ﷺ اپنی ازواج میں سے جس کو چاہیں اپنے نکاح میں باقی رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نکاح سے الگ کردیں یعنی طلاق دے دیں اور یا یہ مطلب ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کی عورتوں میں جس سے چاہیں نکاح کرلیں اور جس سے چاہیں نکاح نہ کریں۔ اور امام بغوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت دراصل اس آیت (لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَا ءُ مِنْ بَعْدُ ) 33۔ الاحزاب 52) کی ناسخ ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی وفات تک آپ ﷺ کے لئے ازواج مطہرات کے علاوہ اور بھی عورتیں مباح رکھی تھیں۔ مشہور مفسر امام بغوی یہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں مذکورہ آیت کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ آیت دراصل آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کی باری کے سلسلہ میں نازل ہوئی تھی جس کی تفصیل یہ ہے کہ اپنی بیویوں کے لئے باری مقرر کرنا پہلے آنحضرت ﷺ پر بھی واجب تھا لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی تو یہ وجوب آپ کے حق میں ساقط ہوگیا اور آپ ﷺ کو اختیار مل گیا کہ اپنی بیویوں کو آپ ﷺ نے باری سے الگ کردیا ہے اور ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلانا اور ہم بستر ہونا چاہیں تو آپ ﷺ ایسا کرسکتے ہیں اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے امت کے دوسرے مردوں پر آپ ﷺ کی فضیلت و برتری ظاہر کرتے ہوئے اپنی بیویوں کے لئے باری مقرر کرنے کے حکم پر عمل نہ کرنا آپ کے لئے مباح کردیا کہ جس بیوی کے بارے میں آپ ﷺ کی خواہش ہو اسے آپ ﷺ اس کی باری کے و علاوہ بھی اپنا ہم بستر بنا سکتے ہیں اور اگر ﷺ اپنی کسی بیوی کو اس باری میں بھی اپنے پاس سلانا نہ چاہیں تو آپ ﷺ کے لئے اس کی بھی اجازت ہے۔ ( ما اریٰ ربک) الخ کے معنی یہ ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ آپ ﷺ جس چیز کی خواہش کرتے ہیں آپ ﷺ کا پروردگار اسے جلد پورا کردیتا ہے۔ علامہ نووی کہتے ہیں اس بات سے حضرت عائشہ کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ بعض احکام کی پابندی کو آپ ﷺ کے حق میں نرم کردیتا ہے اور آپ ﷺ کو اس پر عمل نہ کرنے کی آسانی فرما دیتا ہے اسی لئے مذکورہ بالا معاملہ میں بھی آپ ﷺ کو اپنی مرضی و خواہش کے مطابق عمل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون خاتون تھیں جنہوں نے اپنا نفس آپ ﷺ کو ہبہ کیا تھا؟ چناچہ بعض علماء کے قول کے مطابق حضرت میمونہ تھیں اور بعضوں نے کہا ہے کہ حضرت ام شریک تھیں بعض حضرات کہتے ہیں کہ وہ حضرت زینب بنت خزیمہ تھیں اور بعض نے کہا ہے کہ خولہ بنت حکیم تھیں لیکن اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایک خاتون نہیں تھیں بلکہ وہ کئی عورتیں تھیں۔ وحدیث جابر (اتقوا اللہ فی النساء ذکر فی قصۃ حضۃ الوداع)۔ اور حضرت جابر کی حدیث (اتقو اللہ فی النساء) الخ حجۃ الوداع کے بیان میں نقل کی جا چکی ہے۔

3262Mishkaat-al-Masabih

اپنی بیویوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا حسن مباشرت

عن عائشة رضي الله عنها أنها كانت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر قالت : فسابقته فسبقته على رجلي فلما حملت اللحم سابقته فسبقني قال : هذه بتلك السبقة . رواه أبو داود

حضرت عائشہ جو ایک سفر میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تھیں کہتی ہیں کہ اس سفر میں ایک موقع پر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ اپنے پیروں کے ذریعہ دوڑی یعنی ہم دونوں نے دوڑ میں باہم مقابلہ کیا اور میں آپ ﷺ سے آگے نکل گئی پھر جب میں عرصہ دراز کے بعد فربہ ہوگئی تو پھر ہم دونوں کی دوڑ ہوئی اور اس مرتبہ آنحضرت ﷺ مجھ سے آگے نکل گئے چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس مرتبہ میرا آگے نکل جانا پہلی مرتبہ تمہارے آگے نکل جانے کے بدلہ میں ہے۔ یعنی پہلی مرتبہ تم جیت گئی تھیں اس مرتبہ میں جیت گیا لہٰذا دونوں برابر رہے۔ (ابو داؤد) تشریح اپنے پیروں کے ذریعہ سے اس بات کو مؤ کد کرنا مقصود ہے کہ میں کسی سواری پر بیٹھ کر نہیں دوڑی تھی بلکہ اپنے پیروں پر دوڑی تھی چناچہ طیبی نے یہی فرمایا ہے کہ اس جملہ سے تاکید مقصود ہے جیسا کہ کوئی یوں کہے کہ میں نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے یا میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے۔ یہ روایت اپنی بیویوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے حسن معاشرت کی ایک مثال ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ ایک پر مسرت اور خوشگوار زندگی بسر کرتے تھے اور اپنی بیویوں کے حق میں انتہائی مہربان اور ہنس مکھ تھے۔ نیز اس روایت میں امت کے لئے بھی یہ سبق ہے کہ اپنی عائلی زندگی میں آنحضرت ﷺ کے اس حسن معاشرت کی پیروی کی جائے اور اپنی بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی اور باہمی پیار و محبت کے ساتھ رہا جائے۔ قاضی خان (رح) فرماتے ہیں کہ سباق یعنی باہمی دوڑ وغیرہ کا مقابلہ چار چیزوں میں جائز ہے اونٹ میں، گھوڑے خچر میں، تیر اندازی میں اور پیادہ پا چلنے دوڑے نے میں۔ نیز یہ مقابلہ اگر کسی شخص سے کسی شرط کے ساتھ ہو تو وہ ایسی صورت میں جائز ہوگا جب کہ دونوں مقابل میں سے صرف ایک طرف سے شرط ہو یعنی مثلا زید اور بکر کے درمیان مقابلہ ہوا اور زید بکر سے یہ کہے کہ اگر میں جیت گیا تو میں اتنے روپیہ یا فلاں چیز لے لوں گا اور اگر میرے مقابلہ تم جیت گئے تو تمہیں کچھ نہیں ملے گا اور اگر دونوں طرف سے شرط ہو یعنی دونوں مقابل ایک دوسرے کے ساتھ یہ شرط کریں کہ ہم دونوں میں سے جو بھی جیت جائے گا اسے اتنے روپے یا فلاں چیز ملے گی تو یہ حرام ہے کیونکہ یہ جوا ہوجاتا ہے ہاں اگر دونوں مقابل ایک محلل کو یعنی دونوں کی شرط حلال کرانے والے ایک تیسرے شخص کو اپنے میں شامل کریں تو اس صورت میں دونوں طرف سے شرط بھی جائز ہوجائے گی۔ محلل کو اپنے میں شامل کرنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا زید اور بکر آپ میں یہ شرط کریں کہ ہماری باہمی دوڑ میں ہم دونوں سے جو بھی آگے نکل جائے گا تو اپنے روپے یا فلاں چیز اسے مل جائے گی اور اس کے ساتھ ہی وہ ایک تیسرے شخص مثلاً خالد کو بھی اپنی دوڑ میں شامل کرلیں اور یہ طے ہوجائے کہ اگر یہ تیسرا شخص یعنی خالد آگے نکل جائے گا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔ لہٰذا یہ صورت جائز ہے اور حلال ہے لیکن جائز ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں جیتنے والے کو جو چیز ملے گی وہ اس کے حق میں حلال اور طیب مال ہوگا نہ یہ کہ وہ اس چیز کا شرعی طور پر کوئی استحقاق رکھے گا کیونکہ شریعت کی نظر میں جیتنے والا محض اس مقابلہ سے اس روپیہ پر کوئی قانونی حق نہیں رکھتا دوڑ کے انعامی مقابلے جائز ہیں یعنی کسی فرد یا ادارہ کی طرف سے بطور انعام کچھ روپے یا کوئی چیز مقرر کر کے دوڑنے والوں سے کہا جاتا ہے کہ تم میں سے جو شخص بھی آگے نکل جائے گا اسے یہ روپے یا چیز دی جائے گی فقہاء نے اسے جائز کہا ہے۔

3263Mishkaat-al-Masabih

اپنے اہل وعیال کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بہترین شخص ہے

وعنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي وإذا مات صاحبكم فدعوه . رواه الترمذي . والدارمي (2/238) 3253 - [ 16 ] ( صحيح ) ورواه ابن ماجه عن ابن عباس إلى قوله : لأهلي

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل بیوی بچوں اقرباء اور خدمت گاروں کے حق میں بہترین ہو اور میں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں یعنی اپنے اہل و عیال سے جتنا بہتر سلوک میں کرتا ہوں اپنے اہل و عیال کے ساتھ اتنا بہتر سلوک تم میں سے کوئی بھی نہیں کرتا اور جب تمہارا صاحب مرجائے تو اس کو چھوڑ دو۔ (ترمذی ودارمی) اور ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ لاھلی تک نقل کیا ہے۔ تشریح حدیث کے پہلے جزو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ اور اللہ کی مخلوق کے نزدیک تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی اپنے بچوں اپنے عزیزوں واقا رب اور اپنے خدمت گاروں و ماتحتوں کے ساتھ بھلائی اور اچھا سلوک کرتا ہے کیونکہ اس کا بھلائی اور اچھا سلوک کرنا اس کی خوش اخلاقی وخوش مزاجی پر دلالت کرتا ہے۔ اور جب تمہارا صاحب مرجائے الخ کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہارا کوئی عزیز و رشتہ دار یا دوست وغیرہ مرجائے تو اس کی برائیوں کو ذکر کرنا چھوڑ دو۔ گویا اس جملہ کے ذریعہ یہ تعلیم مقصود ہے کہ جو لوگ اس دنیا سے اٹھ چکے ہیں ان کی غیبت نہ کرو۔ جیسا کہ ایک روایت میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ اپنے مرے ہوئے لوگوں کو بھلائی کے ساتھ یاد کرو یعنی صرف ان کی خوبیاں ہی ذکر کرو ان کی برائیوں کا تذکرہ نہ کرو۔ بعض علماء نے اس جملہ کی یہ مراد بیان کی ہے کہ جب کوئی شخص مرجائے تو اس کی محبت اور اس کی موت پر رونا دھونا چھوڑ دو اور یہ سمجھ لو کہ اب اس کے ساتھ تمہارا کوئی جسمانی تعلق باقی نہیں رہا ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس جملہ میں صاحب سے اپنی ذات مبارک مراد رکھی ہے جس کا مطلب امت کو یہ تلقین کرنا ہے کہ جب میں اس دنیا سے رخصت ہوجاؤں تو تم تاسف اور تحیر و اضطراب کا اظہار نہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا کا رساز ہے جس ذات پاک نے میری حیات کو تمہاری ہدایت وسعادت کا ذریعہ بنایا تھا، وہی ذات پاک میرے انتقال کے بعد بھی تمہیں اسی ہدایت وسعادت پر قائم رکھے گی۔ بعض حضرات نے اس جملہ کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جب میں اس دنیا سے رخصت ہوجاؤں تو تم مجھے چھوڑے رکھنا بایں معنی کہ میرے اہل بیت، میرے صحابہ اور میری شریعت کے متبعین یعنی علماء و اولیاء کو ایذاء پہنچا کر مجھے ایذاء پہنچانے کا سبب نہ بننا کیونکہ اگر تم انہیں تکلیف و ایذاء پہنچاؤ گے تو ان کی تکلیف سے مجھے تکلیف پہنچے گی۔

3264Mishkaat-al-Masabih

فرمانبردار بیوی کو جنت کی بشارت

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي أبواب الجنة شاءت . رواه أبو نعيم في الحلية

حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس عورت نے اپنی پاکی کے دنوں میں پابندی کے ساتھ پانچوں وقت کی نماز پڑھی، رمضان کے ادا اور قضاء روزے رکھے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی یعنی فواحش اور بری باتوں سے اپنے نفس کو محفوظ رکھا اور اپنے خاوند کی ان چیزوں میں فرمانبرداری کی جن میں فرمانبرداری کرنا اس کے لئے ضروری ہے تو اس عورت کے لئے یہ بشارت کہ وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے، اس روایت کو ابونعیم نے حلیۃ الابراء میں نقل کیا ہے۔

3265Mishkaat-al-Masabih

اگر غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو خاوند کو بیوی کا مسجود قرار دیا جاتا

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو كنت آمر أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ وہ کسی غیر اللہ کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ (ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ رب معبود کے علاوہ اور کسی کو سجدہ کرنا درست نہیں ہے اگر کسی غیر اللہ کو سجدہ کرنا درست ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے کیونکہ بیوی پر اس کے خاوند کے بہت زیادہ حقوق ہیں جن کی ادائیگی شکر سے وہ عاجز ہے گویا اس ارشاد گرامی میں اس بات کی اہمیت و تاکید کو بیان کیا گیا ہے کہ بیوی پر اپنے شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری واجب ہے۔

3266Mishkaat-al-Masabih

شوہر کی خوشنودی کی اہمیت

وعن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما امرأة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة . رواه الترمذي

حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی وخوش ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ (ترمذی) تشریح جو شوہر عالم و متقی ہو اس کی رضا مندی اور خوشنودی کا یہ اجر بیان کیا گیا ہے، فاسق و جاہل شوہر کی رضامندی خوشنودی کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔

3267Mishkaat-al-Masabih

شوہر کی اطاعت کرو

وعن طلق بن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور . رواه الترمذي

حضرت طلق بن علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے (یعنی جماع کے لئے) بلائے تو بیوی کو شوہر کے پاس پہنچ جانا چاہئے اگرچہ وہ چولہے کے پاس ہو۔ (ترمذی) تشریح اگرچہ وہ چولہے کے پاس ہو کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی کسی ضروری کام میں مشغول ہو اور کسی چیز کے نقصان کا احتمال بھی ہو تب بھی شوہر کی اطاعت کی جائے اور اس کے بلانے پر فوراً اس کے پاس پہنچ جانا چاہئے مثلاً بیوی چولہے کے پاس ہو اور روٹی توے پر ڈال رکھی اور اسی حالت میں شوہر جماع کے لئے بلائے تو اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ آٹے روٹی کا نقصان ہوجائے گا شوہر کے حکم کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اس کے پاس پہنچ جائے۔

3268Mishkaat-al-Masabih

شوہر کو تکلیف مت پہنچاؤ

وعن معاذ رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تؤذي امرأة زوجها في الدنيا إلا قالت زوجته من الحور العين : لا تؤذيه قاتلك الله فإنما هو عندك دخيل يوشك أن يفارقك إلينا . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب

حضرت معاذ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے تو اس کی جنت والی بیوی یعنی بڑی آنکھوں والی حور کہتی ہے کہ تجھ پر اللہ کی مار پڑے (یعنی اللہ تجھے جنت اور اپنی رحمت سے دور رکھے) اپنے شوہر کو تکلیف نہ پہنچا کیونکہ وہ دنیا میں تیرا مہمان ہے جو جلد ہی تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس جنت میں آئے گا۔ (ترمذی اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے) تشریح ایک دوسری روایت میں یوں فرمایا گیا ہے کہ حدیث (لعن الملائکۃ لعاصیۃ الزوج) یعنی فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہے ان دونوں روایتوں سے جہاں شوہر کی نافرمانی کرنے یا اس کو تکلیف پہنچانے کی سخت برائی ثابت ہو رہی ہے وہیں یہ بھی واضح ہوا کہ اس دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے وہ ملاء اعلیٰ یعنی آسمان کے رہنے والوں کے علم میں آجاتا ہے۔

3269Mishkaat-al-Masabih

شوہر پر بیوی کا حق

وعن حكيم بن معاوية القشيري عن أبيه قال : قلت : يا رسول الله ما حق زوجة أحدنا عليه ؟ قال : أن تطعمها إذا طعمت وتكسوها إذا اكتسيت ولا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر إلا في البيت . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه

حضرت حکیم بن معاویہ قشیری اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی کی بیوی کا اس کے شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہ جب تم کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ جب تم پہنو تو اس کو بھی پہناؤ یعنی جس طرح تم کھاؤ پہنو اسی طرح اپنی بیوی کو بھی کھلاؤ پہناؤ۔ اس کے منہ پر نہ مارو نہ اس کو برا کہو اور نہ یہ کہو کہ اللہ تیرا برا کرے اور اس سے صرف گھر کے اندر ہی علیحدگی اختیار کرو۔ (احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح بطور خاص منہ پر نہ مارنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ تمام اعضا میں منہ ہی افضل ہے اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کہ کسی معقول وجہ کی بنیاد پر مثلاً فواحش کے صدور پر یا فرائض ترک کردینے پر اور یا مصلحت تادیب کے پیش نظر منہ کے علاوہ کسی اور جگہ پر مارے تو جائز ہے اور منہ پر مارنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ خاوند اپنی بیوی کو تادیباً مار سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرد و عورت انسانی نقطہ نظر سے یکساں مرتبہ کے حامل ہیں اور اسلام کی نظر میں عورت کو بھی وہ شرف و مرتبہ حاصل ہے جو ایک مرد کو ہوتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جب ایک مرد اور ایک عورت آپس میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر ایک دوسرے کے رفیق حیات بن جاتے ہیں تو ان دونوں کی شرعی اور معاشرتی حیثیت میں تھوڑا سا فرق ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ خاوند کو قدرتی طور پر ایک مخصوص قسم کی برتری حاصل ہوجاتی ہے جس کا تعلق انسانی شرف و مرتبہ کے فرق و امتیاز سے نہیں ہوتا بلکہ ان کے باہمی رشتہ کے تقاضوں اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی سے ہوتا ہے چناچہ شوہر اپنی اسی مخصوص برتری کی بنیاد پر بیوی کو ان معاملات میں اپنے حکم کا پابند بنانے کا اختیار رکھتا ہے جن کا شریعت نے اسے استحقاق عطا کیا ہے یا جن کا تعلق شرع فرائض و واجبات کی ادائیگی سے ہے لہٰذا اگر کوئی بیوی ان معاملات میں اپنے شوہر کے حکم کی پابندی نہ کرے اور شوہر کے کہنے سننے کا اس پر کوئی اثر نہ ہوتا ہے، یعنی زبانی نصیحت و تنبیہ کا کوئی اثر قبول نہ کرتی ہو اور شوہر کو یقین ہوجائے کہ اب یہ بغیر سختی کے راہ راست پر نہیں آئے گی تو اسے بیوی کو مارنے کی اجازت ہوگی لیکن اس بارے میں یہ بات ملحوظ ہونی چاہئے کہ بیوی کی ایسی نافرمانی کہ جس پر اس کا شوہر اس کو مار سکتا ہے صرف انہی امر میں معتبر ہوگی جن کی شریعت نے وضاحت کردی ہے چناچہ فتاویٰ قاضی خان میں لکھا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو چار باتوں پر مار سکتا ہے۔ ١۔ شوہر کی خواہش وحکم کے باوجود بیوی زینت و آرائش نہ کرے۔ ٢۔ شوہر جماع کا خواہش مند ہو مگر بیوی کوئی عذر جیسے حیض وغیرہ نہ ہونے کے باوجود انکار کر دے۔ ٣۔ اسلامی فرائض جیسے نماز پڑھنا چھوڑ دے، جنابت و ناپاکی کے بعد بیوی کا نہ نہانا بھی ترک فرائض کے حکم میں ہے یعنی اگر بیوی ناپاکی اور حیض کا غسل کرنے سے انکار کرتی ہو تو شوہر اس پر بھی مار سکتا ہے۔ 4۔ بیوی اپنے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر گھر سے باہر جاتی ہو۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی کی کسی نافرمانی یا اس کی کسی بات پر ناراضگی کی وجہ سے اس سے جدائی اختیار کرنے ہی میں مصلحت ہو تو ہمیشہ کے لئے جدائی اختیار کرنے کی بجائے یہ زیادہ بہتر ہے کہ اپنے بستر پر اس سے جدائی اختیار کرلو یعنی اس کے ساتھ لیٹنا چھوڑ دو اور رات کو گھر میں نہ رہو تاکہ وہ تمہارے اس طرز عمل کو اپنے حق میں سزا سمجھ کر راہ راست پر آجائے اور ہمیشہ کی جدائی یعنی طلاق کی نوبت نہ آئے چناچہ قرآن کریم میں اس بات کو یوں فرمایا گیا ہے۔ آیت (واللاتی تخافون نشوزہن فعظوہن واہجروہن فی المضاجع واضربوہن)۔ (النساء ٤ ٣٤) اگر جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم کو ان کی بد دماغی یعنی نافرمانی کا احتمال ہو تو ان کو پہلے زبانی نصیحت کرو اور پھر ان کو ان کے لیٹنے کی جگہوں میں تنہا چھوڑ دو۔ یعنی ان کے پاس مت لیٹو۔ اور پھر اعتدال سے ان کو مارو۔

3270Mishkaat-al-Masabih

خاوند اپنی بیوی کو تادیباً مار سکتا ہے یا نہیں ؟

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرد و عورت انسانی نقطہ نظر سے یکساں مرتبہ کے حامل ہیں اور اسلام کی نظر میں عورت کو بھی وہ شرف و مرتبہ حاصل ہے جو ایک مرد کو ہوتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جب ایک مرد اور ایک عورت آپس میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر ایک دوسرے کے رفیق حیات بن جاتے ہیں تو ان دونوں کی شرعی اور معاشرتی حیثیت میں تھوڑا سا فرق ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ خاوند کو قدرتی طور پر ایک مخصوص قسم کی برتری حاصل ہوجاتی ہے جس کا تعلق انسانی شرف و مرتبہ کے فرق و امتیاز سے نہیں ہوتا بلکہ ان کے باہمی رشتہ کے تقاضوں اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی سے ہوتا ہے چناچہ شوہر اپنی اسی مخصوص برتری کی بنیاد پر بیوی کو ان معاملات میں اپنے حکم کا پابند بنانے کا اختیار رکھتا ہے جن کا شریعت نے اسے استحقاق عطا کیا ہے یا جن کا تعلق شرع فرائض وواجبات کی ادائیگی سے ہے لہٰذا اگر کوئی بیوی ان معاملات میں اپنے شوہر کے حکم کی پابندی نہ کرے اور شوہر کے کہنے سننے کا اس پر کوئی اثر نہ ہوتا ہے، یعنی زبانی نصیحت و تنبیہ کا کوئی اثر قبول نہ کرتی ہو اور شوہر کو یقین ہوجائے کہ اب یہ بغیر سختی کے راہ راست پر نہیں آئے گی تو اسے بیوی کو مارنے کی اجازت ہوگی لیکن اس بارے میں یہ بات ملحوظ ہونی چاہئے کہ بیوی کی ایسی نافرمانی کہ جس پر اس کا شوہر اس کو مار سکتا ہے صرف انہی امر میں معتبر ہوگی جن کی شریعت نے وضاحت کردی ہے چناچہ فتاویٰ قاضی خان میں لکھا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو چار باتوں پر مار سکتا ہے۔ ١۔ شوہر کی خواہش وحکم کے باوجود بیوی زینت و آرائش نہ کرے۔ ٢۔ شوہر جماع کا خواہش مند ہو مگر بیوی کوئی عذر جیسے حیض وغیرہ نہ ہونے کے باوجود انکار کر دے۔ ٣۔ اسلامی فرائض جیسے نماز پڑھنا چھوڑ دے، جنابت وناپا کی کے بعد بیوی کا نہ نہانا بھی ترک فرائض کے حکم میں ہے یعنی اگر بیوی ناپاکی اور حیض کا غسل کرنے سے انکار کرتی ہو تو شوہر اس پر بھی مار سکتا ہے۔ 4۔ بیوی اپنے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر گھر سے باہر جاتی ہو۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی کی کسی نافرمانی یا اس کی کسی بات پر ناراضگی کی وجہ سے اس سے جدائی اختیار کرنے ہی میں مصلحت ہو تو ہمیشہ کے لئے جدائی اختیار کرنے کی بجائے یہ زیادہ بہتر ہے کہ اپنے بستر پر اس سے جدائی اختیار کرلو یعنی اس کے ساتھ لیٹنا چھوڑ دو اور رات کو گھر میں نہ رہو تاکہ وہ تمہارے اس طرز عمل کو اپنے حق میں سزا سمجھ کر راہ راست پر آجائے اور ہمیشہ کی جدائی یعنی طلاق کی نوبت نہ آئے چناچہ قرآن کریم میں اس بات کو یوں فرمایا گیا ہے۔ آیت (واللاتی تخافون نشوزہن فعظوہن واہجروہن فی المضاجع واضربوہن)۔ (النساء ٤ ٣٤) اگر جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم کو ان کی بددماغی یعنی نافرمانی کا احتمال ہو تو ان کو پہلے زبانی نصیح کرو اور پھر ان کو ان کے لیٹنے کی جگہوں میں تنہا چھوڑ دو۔ یعنی ان کے پاس مت لیٹو۔ اور پھر اعتدال سے ان کو مارو۔

3271Mishkaat-al-Masabih

بدزبان بیوی کو طلاق دے دو

وعن لقيط بن صبرة قال : قلت : يا رسول الله إن لي امرأة في لسانها شيء يعني البذاء قال : طلقها . قلت : إن لي منها ولدا ولها صحبة قال : فمرها يقول عظها فإن يك فيها خير فستقبل ولا تضربن ظعينتك ضربك أميتك . رواه أبو داود

حضرت لقیط بن صبرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری ایک عورت ہے جس کی زبان میں کچھ ہے یعنی وہ زبان دراز ہے اور فحش بکتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تم اس کی زبان درازی اور فحش گوئی کی ایذاء پر صبر نہیں کرسکتے تو بہتر یہ ہے کہ تم اس کو طلاق دے دو گویا آپ ﷺ نے یہ حکم بطور اباحت دیا میں نے عرض کیا کہ اس کے بطن سے میرے ہاں اولاد ہے اور اس کے ساتھ پرانی رفاقت اور صحبت ہے اس لئے اس کو طلاق دینا بھی میرے لئے مشکل ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اس کو حکم کرو، یعنی اس کو زبان درست کرنے اور اپنی عادات واطوار ٹھیک کرنے کی نصیحت کرو، اگر اس میں کچھ بھی بھلائی ہوگی تو وہ تمہاری نصیحت کو قبول کرلے گی اور اس کو لونڈی کی مار نہ مارو۔ (ابو داؤد) تشریح (یقول عظہا) کے الفاظ راوی کے ہیں جن کے ذریعہ وضاحت مقصود ہے کہ اس ارشاد فمرہا (تو پھر اس کو حکم کرو) سے مراد آنحضرت ﷺ کی یہ تھی کہ اس کو نصیحت کرو۔ حدیث کے آخری جملہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ پہلے اپنی بیوی کو زبانی نصیحت و تنبیہ کے ذریعہ زبان درازی اور فحش گوئی سے باز رکھنے کی کوشش کرو اگر اس پر زبانی نصیحت و تنبیہ کا کوئی اثر نہ ہو تو پھر اس کو مارو لیکن بےرحمی کے ساتھ نہ مارو بلکہ ہلکے سے تھوڑا سا مارو۔

3272Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کو مارنے کی ممانعت

وعن إياس بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تضربوا إماء الله فجاء عمر إلى رسول الله فقال : ذئرن النساء على أزواجهن فرخص في ضربهن فأطاف بآل رسول الله صلى الله عليه و سلم نساء كثير يشكون أزواجهن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقد طاف بآل محمد نساء كثير يشكون أزواجهن ليس أولئك بخياركم . رواه أبو داود وابن ماجه والدارمي

اور حضرت ایاس ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی لونڈیوں ( یعنی اپنی بیویوں) کو نہ مارو پھر اس حکم کے کچھ دنوں بعد حضرت عمر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ ﷺ نے چونکہ عورتوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے اس لئے عورتیں اپنے خاوندوں پر دلیر ہوگئیں ہیں آپ ﷺ نے عورتوں کو مارنے کی اجازت عطا فرما دی اس کے بعد بہت سی عورتیں رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس جمع ہوئیں اور اپنے خاوندوں کی شکایت کی کہ وہ ان کو مارتے ہیں رسول کریم ﷺ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ محمد ﷺ کی بیویوں کے پاس بہت سی عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئی ہیں یہ لوگ جو اپنی بیویوں کو مارتے ہیں تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں ( ابوداؤد ابن ماجہ دارمی) تشریح حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں یا مطلق مارتے ہیں تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں بلکہ بہتر لوگ وہی ہیں جو اپنی بیویوں کو نہیں مارتے ان کی ایذاء اور تکلیف دہی پر صبر و تحمل کرتے ہیں یا ان کو اتنا زیادہ نہیں مارتے جو ان کی شکایت کا باعث ہو بلکہ بطور تادیب تھوڑا سا مارتے ہیں۔ شرح السن میں لکھا ہے کہ اس روایت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی بیوی اپنے شوہر کے حقوق نکاح کی ادائیگی سے انکار کرے تو اس کو مارنا مباح ہے لیکن بہت نہیں مارنا چاہئے۔ پچھلے صفحات میں حضرت حکیم ابن معاویہ کی جو روایت ٢٠ گزری ہے اور اس کی تشریح میں جو آیت نقل کی گئی ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بطور تادیب اپنی بیویوں کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے جب کہ اس روایت سے اس کی ممانعت ثابت ہوتی؟ گویا دونوں میں بظاہر تضاد وتعارض معلوم ہوتا ہے لہذا اس تضاد وتعارض کو حضرت امام شافعی سے منقول اس وجہ تطبیق کے ذریعہ ختم کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے عورتوں کو مارنے سے منع کیا ہوگا پھر جب عورتیں شوہروں پر غالب ہوگئیں اور ان کی جرات ودلیری بڑھ گئی تو آپ ﷺ نے ان کو مارنے کی اجازت دیدی اور آپ ﷺ کے حکم کی توثیق میں یہ آیت نازل ہوئی لیکن اس کے بعد جب عورتوں کی طرف سے یہ شکایت کی گئی کہ ان کے خاوند ان کو بہت مارتے ہیں تو آپ نے اعلان کیا کہ اگرچہ بیوی کی بداطواری پر اس کو مارنا مباح ہے لیکن اس کی بداطواری پر صبر و تحمل کرنا اور ان کو نہ مارنا ہی بہتر و افضل ہے۔

3273Mishkaat-al-Masabih

بیوی کو اسکے خاوند کے خاوند کے خلاف بہکانے کی مذمت

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس منا من خبب امرأة على زوجها أو عبدا على سيده . رواه أبو داود

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص ہمارے تابعداروں میں سے نہیں ہے جو کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف یا کسی غلام کو اس کے آقا کے خلاف بدراہ کرے ( ابوداؤد) تشریح کسی بیوی کو اس کے خاوند کے خلاف یا کسی غلام و لونڈی کو اس کے مالک کے خلاف گمراہ کرنا انتہائی نازیبا فعل ہے چناچہ اس حدیث کا یہی مطلب ہے کہ وہ شخص ہمارے تابعداروں میں سے نہیں ہے جو کسی بیوی کا دل اس کے خاوند کی طرف سے برا کرے مثلا بیوی کے سامنے اس کے خاوند کی برائی کرے یا اس کے سامنے کسی اجنبی شخص کی خوبیاں اور بڑائیں بیان کرے۔ یا اس کو بہکائے کہ اپنے خاوند سے زیادہ مال و اسباب کا مطالبہ کرو یا اپنے شوہر کی خدمت و اطاعت نہ کرو اسی طرح کسی غلام و نوکر کو بہکائے کہ تم اپنے مالک کا گھر چھوڑ کر چلے جاؤ یا اس کی خدمت میں کوتاہی کرو اسی طرح بیوی کے خلاف خاوند کو یا لونڈی کو اس کے مالک کے خلاف یا مالک کو اس کے غلام و لونڈی کے خلاف بہکانا بھی اسی حکم میں داخل ہے۔

3274Mishkaat-al-Masabih

اپنے اہل وعیال کے حق میں کمال مہربانی، کمال ایمان کی دلیل ہے

وعن عائشة رضي الله عنه قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا وألطفهم بأهله . رواه الترمذي 27 ] وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا وخياركم خياركم لنسائهم . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح ورواه أبو داود إلى قوله خلقا

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مؤمنین میں کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو خوش اخلاق ہو اور اپنے اہل و عیال پر بہت مہربان ہو ( ترمذی) تشریح خوش اخلاق اور اپنے اہل و عیال پر بہت مہربان مسلمان کو کامل ترین مؤمن اس لئے فرمایا گیا ہے کہ کمال ایمان خوش اخلاقی اور مخلوق اللہ بالخصوص اپنے اہل و عیال کے حق میں سراپا مہربان وخوش اخلاق ہوگا۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مؤمنین میں کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں بہت زیادہ خوش اخلاق ہو (یعنی پوری مخلوق اللہ کے ساتھ خوش اخلاقی کا برتاؤ کر) اور تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہے ( کیونکہ عورتیں اپنے عجز و کمزوری کی بناء پر زیادہ مہربانی اور مروت کی مستحق ہیں) امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے نیز امام ابوداؤد نے اس روایت کو لفظ خلقا تک نقل کیا ہے۔

3275Mishkaat-al-Masabih

حضرت عائشہ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا ایک پرلطف واقعہ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم من غزوة تبوك أو حنين وفي سهوتها ستر فهبت ريح فكشفت ناحية الستر عن بنات لعائشة لعب فقال : ما هذا يا عائشة ؟ قالت : بناتي ورأى بينهن فرسا له جناحان من رقاع فقال : ما هذا الذي أرى وسطهن ؟ قالت : فرس قال : وما الذي عليه ؟ قالت : جناحان قال : فرس له جناحان ؟ قالت : أما سمعت أن لسليمان خيلا لها أجنحة ؟ قالت : فضحك حتى رأيت نواجذه . رواه أبو داود

اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ غزوہ تبوک یا غزوہ حنین سے واپس گھر تشریف لائے تو اس وقت ان کے یعنی حضرت عائشہ کے گھر کے دریچہ پر پردہ پڑا ہوا تھا جب ہوا چلی تو اس پردہ کا ایک کونا کھل گیا جس سے عائشہ کے کھیلنے کی گڑیاں نظر آئیں جو اس دریچہ میں رکھی ہوئی تھیں) آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ عائشہ یہ کیا ہے؟ عائشہ نے کہا کہ یہ میری گڑیاں ہیں ان گڑیوں میں آنحضرت ﷺ نے ایک گھوڑا بھی دیکھا جس کے کپڑے یا کاغذ کے دو پر تھے چناچہ آپ ﷺ نے پھر پوچھا کہ ان گڑیوں کے درمیان جو چیز میں دیکھ رہا ہوں یہ کیا بات ہے؟ حضرت عائشہ نے کہا کہ کیا آپ ﷺ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس جو گھوڑے تھے ان کے پر تھے) حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ میرا یہ جواب سن کر ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی کچلیاں دیکھیں ( ابوداؤد) تشریح تبوک یا حنین میں حرف یا راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے یعنی راوی کو یقین کے ساتھ یاد نہیں ہے کہ حضرت عائشہ نے اس موقع پر غزہ تبوک کا ذکر کیا تھا یا غزوہ حنین کا؟ تبوک ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے ٤٦٥ میل کے فاصلہ پر دمشق اور مدینہ کے درمیانی راستہ پر واقع ہے ٩ ھ میں نبی کریم ﷺ یہاں فوج لے کر گئے تھے لیکن دشمن کو مقابلہ کی ہمت نہ ہوئی اس لئے جنگ نہیں ہوسکی۔ حینین ایک وادی کا نام ہے جو مکہ مکرمہ سے شمال مشرقی جانب طائف کے راستہ میں واقع ہے اس کو وادی اوطاس بھی کہا جاتا ہے ٨ ھ میں فتح مکہ کے کچھ ہی دنوں بعد مشہور غزوہ حنین یہیں ہوا تھا گڑیوں سے بچیوں کے کھیلنے کا جو شرعی حکم ہے اس کی تفصیل باب الولی میں گزر چکی ہے۔

3276Mishkaat-al-Masabih

غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے

عن قيس بن سعد قال : أتيت الحيرة فرأيتهم يسجدون لمرزبان لهم فقلت : لرسول الله صلى الله عليه و سلم أحق أن يسجد له فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : إني أتيت الحيرة فرأيتهم يسجدون لمرزبان لهم فأنت أحق بأن يسجد لك فقال لي : أرأيت لو مررت بقبري أكنت تسجد له ؟ فقلت : لا فقال : لا تفعلوا لو كنت آمر أحد أن يسجد لأحد لأمرت النساء أن يسجدن لأزواجهن لما جعل الله لهم عليهن من حق . رواه أبو داود

حضرت قیس ابن سعد کہتے ہیں کہ میں کوفہ کے قریب ایک شہر حیرہ پہنچا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ رسول کریم ﷺ بہت زیادہ اس کے مستحق ہیں کہ آپ ﷺ کو سجدہ کیا جائے چناچہ جب میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا کہ میں حیرہ گیا تو وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں لہذا آپ ﷺ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ ﷺ کو سجدہ کیا جائے آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے بتاؤ اگر تم میری قبر پر جاؤ تو کیا تم میری قبر کو سجدہ کرو گے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر میری زندگی میں بھی ایسا نہ کرو اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرے تو میں عورتوں کو حکم کرتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر مردوں کا بہت زیادہ حق مقرر کیا ہے (ابوداؤد) اس روایت کو احمد نے بھی معاذ ابن جبل سے نقل کیا ہے۔ تشریح حضرت قیس ابن سعد نے جب حیرہ میں لوگوں کو اپنے سردار کو سجدہ کرتے دیکھا تو ان کے دل میں یہ خیال گزرا کہ اگر یہ لوگ اپنے سردار کی عظمت و مرتبہ کے پیش نظر اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں تو کائنات انسانی میں سرکار دو عالم ﷺ سے زیادہ عظمت و مرتبہ کا حامل کون شخص ہوسکتا ہے تو کیوں نہ آپ ﷺ کو سجدہ کیا جائے چناچہ ان کے اس خیال نے بارگاہ رسالت میں عرض کی صورت اختیار کرلی جہاں اس عرض کو بڑے لطیف انداز میں رد کردی گیا اور یہ واضح کردیا گیا کہ انسان کی پیشانی اتنی مقدس ہے کہ وہ نہ صرف اپنے خالق ہی کے سامنے سجدہ ریز ہوسکتی ہے کسی مخلوق کے سامنے نہیں جھک سکتی خواہ وہ مخلوق کتنی ہی باعظمت وبافضلیت ذات کیوں نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ا یت (لا تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا للہ الذی خلقہن ان کنتم ایاہ تعبدون) ( فصلت ٤١ ٣٧) نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو سجدہ کرو بلکہ صرف اللہ ہی کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا ہے اگر تم اللہ کی عبادت کرتے ہو۔

3277Mishkaat-al-Masabih

نا فرمان بیوی کو مارنے پر مواخذہ نہیں ہوگا

وعن عمر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يسأل الرجل فيما ضرب امرأته عليه . رواه أبو داود وابن ماجه

اور حضرت عمر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر مرد اپنی عورت و کسی معقول چیز پر مارے تو قابل مواخذہ نہیں ہوتا ( ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح قابل مواخذہ نہیں ہوتا کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بیوی کو مارنے سے کوئی گناہ لازم نہیں ہوتا کہ جس پر اس سے دنیا اور آخرت میں باز پرس ہو بشرطیکہ بیوی کو مارنے کی جو قیود و شرائط ہیں ان کو ملحوظ رکھا جائے اور حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ لفظ علیہ کی ضمیر مجرور حرف ما کی طرف راجع ہے اور ما سے مراد نشوز نافرمانی ہے جو اس آیت (وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ ) 4۔ النساء 34) میں مذکور ہے لہذا اس جملہ اس چیز پر مارنے کا حاصل یہ ہوگا جو مرد اپنی بیوی کو اس کی نافرمانی پر مارے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔