کون کون رشتہ والی عورتیں محرمات میں داخل ہیں
عن ابن عباس قال : حرم من النسب سبع ومن الصهر سبع ثم قرأ : ( حرمت عليكم أمهاتكم ) الآية . رواه البخاري
حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ از روئے نسب سات رشتوں کی عورتیں حرام کی گئی ہیں۔ اور از روئے مصاہرت بھی سات رشتوں کی عورتیں حرام کی گئی ہیں پھر حضرت ابن عباس نے یہ آیت (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ ) 4۔ النساء 23) آخر تک پڑھی۔ (بخاری)
تشریح
از روئے نسب جو سات رشتہ والی عورتیں حرام قرار دی گئی ہیں وہ یہ ہیں ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی۔ مصاہرت اس رشتہ اور قرابت کو کہتے ہیں جو نکاح کے ذریعہ قائم ہو اور جسے سسرالی رشتہ بھی کہا جاتا ہے چناچہ مصاہرت یعنی سسرالی رشتہ کی وجہ سے جو سات عورتیں حرام قرار دی گئی ہیں ان میں سے چار تو ہمیشہ کے لئے حرام ہوتی ہیں کہ ان سے کسی بھی حال میں اور کسی بھی وقت نکاح کرنا جائز نہیں ہوتا اور وہ یہ ہیں، بیوی کی ماں یعنی ساس، بیٹے اور پوتے کی بیویاں یعنی بہو اور پوت بہو، اگرچہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کی ہوں جیسے پڑپوتے اور سکڑپوتے وغیرہ کی بیویاں، باپ اور دادا کی بیویاں اگرچہ اوپر کے درجہ کی ہوں جیسے پڑ دادا اور سکڑ دادا وغیرہ کی بیویاں، اپنی اس بیوی کی بیٹی جس سے جماع کرچکا ہو، سسرالی رشتہ کی وہ تین عورتیں جو ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہیں وہ یہ ہیں، بیوی کی بہن، بیوی کی پھوپھی، بیوی کی خالہ۔ حضرت ابن عباس نے اپنی بات کی دلیل کے طور پر قرآن کریم کی آیت پڑھی چناچہ اس آیت میں نسبی رشتہ والی ان ساتوں عورتوں کا ذکر ہے جو حرام قرار دی گئی ہیں اور سسرالی رشتہ کی وجہ سے جو عورتیں حرام ہیں ان میں سے اکثر کا ذکر اس آیت میں ہے پوری آیت یوں ہے (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ ) 4۔ النساء 23) آخر تک
اپنی بیوی کی بیٹی سے نکاح کی ممانعت
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أيما رجل نكح امرأة فدخل بها فلا يحل له نكاح ابنتها وإن لم يدخل بها فلينكح ابنتها وأيما رجل نكح امرأة فلا يحل له أن ينكح أمها دخل أو لم يدخل . رواه الترمذي وقال : هذا حديث لا يصح من قبل إسناده إنما رواه ابن لهيعة والمثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب وهما يضعفان في الحديث
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا حضرت عبداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص عورت سے نکاح کرے اور پھر اس سے جماع کرے تو اس کے لئے اس بیوی کی بیٹی سے جو اس کے پہلے شوہر سے ہے) نکاح کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس بیوی کو طلاق دے چکا ہو یا وہ مرگئی ہو کیونکہ اس بیوی کو اور اس کی بیٹی کو ایک ساتھ اپنے نکاح میں رکھنا اس صورت میں بھی جائز نہیں ہے) اور جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کرلیا تو اب اس کے لئے اپنی اس منکوحہ کی ماں یعنی اپنی ساس سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا خواہ اپنی اس منکوحہ سے جماع کیا ہو یا جماع نہ کیا ہو۔ اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث اپنی سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کو ابن لہیعہ اور مثنی ابن صباح نے عمرو بن شعیب سے نقل کیا ہے اور وہ دونوں حدیث روایت کرنے کے سلسلے میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں ( گویا یہ حدیث اپنے راویوں سے اعتبار سے تو صحیح نہیں ہے لیکن اپنے مفہوم ومعنی کے اعتبار سے صحیح ہے کیونکہ اس حدیث میں جو مفہوم بیان کیا گیا ہے وہ قرآن کی آیت کے مطابق ہے)
تشریح
حدیث میں اپنی بیوی کی بیٹی سے نکاح کے عدم جواز کا جو حکم بیان کیا گیا ہے وہ قرآن کریم کی اس آیت سے ثابت ہے چناچہ فرمایا کہ اور حرام ہیں تم پر تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو ان کے لئے پہلے شوہر سے ہیں اور تمہاری پرورش میں ہیں اور جو تمہاری ان بیویوں سے ہیں جن سے تم جماع کرچکے ہو اور اگر تم نے ان بیویوں سے جماع نہیں کیا ہے تو اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم ان کی بیٹیوں سے نکاح کرو۔ اور بیوی کی ماں یعنی اپنی ساس سے نکاح کے عدم جواز کا جو مطلق حکم بیان کیا گیا ہے وہ قرآن کریم کی اس مطلق آیت سے ثابت ہے۔ اور حرام ہیں تم پر تمہاری بیویوں کی مائیں۔