منسوبہ کو دیکھنے اور جن اعضا کو چھپانا واجب ہے ان کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 93 · 24 hadiths · Page 2 of 2

3149Mishkaat-al-Masabih

برہنگی کی ممانعت

وعن المسور بن مخرمة قال حملت حجرا ثقيلا فبينا أنا أمشي سقط عني ثوبي فلم أستطع أخذه فرآني رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لي : خذ عليك ثوبك ولا تمشوا عراة . رواه مسلم

اور حضرت مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ ایک دن اپنی کسی ضرورت کے تحت میں نے ایک بڑا بھاری پتھر اٹھایا اور اسے لے کر چلا تو راستہ میں میرا کپڑا یعنی تہبند میرے بدن سے گرپڑا جس کی وجہ سے میرا ستر کھل گیا مگر میں بوجھ کی وجہ سے فوری طور پر اپنے کپڑے کو اٹھا نہیں سکا اور اسی دوران رسول کریم ﷺ نے مجھے برہنگی کی حالت میں دیکھ لیا چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ فورا اپنا کپڑا اٹھاؤ اور ستر پوشی کرو اور پھر آپ ﷺ نے یہ عام حکم دیا کہ ننگے نہ چلا کرو (مسلم)

3150Mishkaat-al-Masabih

شرم وحیا کا انتہائی درجہ

وعن عائشة قالت : ما نظرت أو ما رأيت فرج رسول الله صلى الله عليه و سلم قط . رواه ابن ماجه

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ستر کی طرف کبھی نظر نہیں اٹھائی یا یہ فرمایا کہ میں نے آپ ﷺ کا ستر کبھی نہیں دیکھا ( ابن ماجہ) تشریح حرف او دراصل راوی کے اس شک کو ظاہر کرتا ہے کہ روایت میں (ما نظرت) میں نے کبھی نظر نہیں اٹھائی کے الفاظ ہیں یا (ما رایت) میں نے کبھی نہیں دیکھا کے الفاظ نقل ہوئے ہیں بہرحال ان دونوں کے معنی ایک ہی ہیں ان کے مفہوم و مطلب میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ایک روایت میں حضرت عائشہ کے یہ الفاظ ہیں کہ نہ تو آنحضرت ﷺ نے میرا ستر کبھی دیکھا اور نہ کبھی میں نے آنحضرت ﷺ کا ستر دیکھا۔ ان روایتوں سے معلوم ہوا کہ اگرچہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا ستر دیکھ سکتے ہیں لیکن آداب زندگی اور شرم وحیا کا انتہائی درجہ یہی ہے کہ شوہر اور بیوی بھی آپس میں ایک دوسرے کا ستر نہ دیکھیں۔

3151Mishkaat-al-Masabih

حسین عورت کی طرف اچانک نظر اٹھ جانے کے بد پھر فوا اپنی نظرپھیرلینے کا اجر

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من مسلم ينظر إلى محاسن امرأة أول مرة ثم يغض بصره إلا أحدث الله له عبادة يجد حلاوتها . رواه أحمد

اور حضرت ابوامامہ نبی کریم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کی نظر پہلی مرتبہ (بلا قصدوارادہ) کسی عورت کے حسن و جمال کی طرف اٹھ جائے اور پھر فورًا اپنی نظر پھیر لینے کا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک عبادت پیدا کر دے گا جس سے وہ شخص لذت حاصل کرے گا ( احمد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے چونکہ اپنے رب کی فرمانبرداری میں ایک حسن و جمال کی طرف اٹھی ہوئی نظر کو فورًا پھیرلیا اور اس طرح اس نے گویا اپنے جما لیاتی ذوق کو تسکین پہنچانے کی بجائے اپنے پروردگار کے حکم کے سامنے اپنے نفس کی خواہش کو پامال کردیا اس لئے حق تعالیٰ اس کے اس فعل (نظر پھیر لینے) کو ایسی عبادت میں تبدیل کر دے گا جس کی وجہ سے وہ اپنے قلب و دماغ میں حکم الٰہی کی تعمیل کے نتیجہ میں حاصل ہونیوالے مخصوص سکون قلب کی لذت محسوس کرے گا اور یہ لذت دراصل اس تلخی کا بدلہ ہوگی جو اس نے اپنے نفس کی خواہش پر صبر و ضبط کر کے برداشت کی تھی۔

3152Mishkaat-al-Masabih

ممنوع النظرچیز کی طرف قصدا دیکھنے والے کے لئے وعید

وعن الحسن مرسلا قال : بلغني أن رسول صلى الله عليه و سلم قال : لعن الله الناظر والمنظور إليه . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت حسن بصری نے بطریق ارسال روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے صحابہ سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص پر کہ جس نے (بلا عذر و بغیر اضطرار) دیکھا اور اس پر کہ جس کو دیکھا گیا اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو (بیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اس شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جو اس چیز کی طرف قصد و ارادہ دیکھے جس کو دیکھنا جائز نہیں ہے وہ چیز خواہ کوئی اجنبی عورت ہو یا کسی کا ستر ہو یا اور کوئی ممنوع النظر چیز ہو۔ اسی طرح اس کو بھی مستحق لعنت قرار دیا گیا ہے جس کو دیکھا جائے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کہ اس نے بغیر عذر اور اضطرار کے قصدًا اپنے آپ کو دکھایا ہو مثلًا کوئی عورت اپنے اپ کو قصدًا کسی اجنبی مرد کو دکھائے تو اس صورت میں وہ بھی اس لعنت میں داخل ہوگی ہاں اگر کسی عورت کو کسی اجنبی مرد نے اس طرح دیکھا کہ اس میں اس عورت کے قصد و ارادہ کو قطعًا دخل نہ ہو تو وہ بھی اس لعنت کا مورد نہیں بنے گی۔