عطایا کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 88 · 24 hadiths · Page 2 of 2

3053Mishkaat-al-Masabih

کمترچیز کے تحفہ کا لینا دیناحقیر نہ سمجھو

وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : تهادوا فإن الهدية تذهب وحر الصدر ولا تحقرن جارة لجارتها ولا شق فرسن شاة . رواه الترمذي (2/185) 3029 - [ 14 ] ( لم تتم دراسته ) وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث لا ترد الوسائد والدهن واللبن . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب قيل : أراد بالدهن الطيب

اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا آپس میں تحفہ دیا لیا کرو کیونہ تحفہ سینے کی کدورت کو دور کرتا ہے اور یاد رکھو کوئی ہمسایہ اپنے دوسرے ہمسایہ کے واسطے کسی کمتر چیز کے تحفہ کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کے کھر کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو ( ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ کوئی اپنے ہمسایہ کو کسی کمتر اور تھوڑی سی چیز کے بطور تحفہ بھیجنے کو اس ہمسایہ کے حق میں حقیر نہ سمجھے بلکہ جو بھیجنا چاہے اسے بھیجدے خوہ وہ کتنی ہی کمتر اور تھوڑی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح جس ہمسایہ کو تحفہ بھیجا گیا ہو اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اپنے ہمسایہ کے کسی تحفہ کو حقیر سمجھے بلکہ اس کے پاس جو بھی تحفہ آئے اسے رغبت وبشاشت کے ساتھ قبول کرلے اگرچہ وہ کتنی ہی تھوڑی اور کیسی ہی خراب کیوں نہ ہو۔ اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جنہیں قبول کرنے سے انکار نہ کرنا چاہئے (١) تکیہ (٢) تیل (٣) دودھ۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ نیز کہا جاتا ہے کہ تیل سے آنحضرت ﷺ کی مراد خوشبو تھی۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے مہمان کو تواضع کے طور پر تکیہ دے یا تیل دے اور یا پینے کے لئے دودھ دے تو اس مہمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دے بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ دھن یعنی تیل سے مراد خوشبو ہے جیسا کہ ترجمہ میں ذکر کیا گیا لیکن زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ دھن سے مراد تیل ہی ہے کیونکہ اس زمانہ میں بھی اہل عرب اپنے سروں میں عمومیت کے ساتھ تیل لگایا کرتے تھے۔

3054Mishkaat-al-Masabih

خوشبودار پھول کا تحفہ واپس نہ کرو

وعن أبي عثمان النهدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أعطي أحدكم الريحان فلا يرده فإنه خرج من الجنة . رواه الترمذي مرسلا

اور حضرت ابوعثمان نہدی تابعی کی روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو خوشبودار پھول بطور تحفہ وہدیہ دیا جائے تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار نہ کرے کیونکہ وہ پھول جنت سے آیا ہے اس روایت کو امام ترمذی نے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔ تشریح وہ پھول جنت سے آیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ خوشبودار پھول کی ایک فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس کی جڑ جنت سے آئی ہے اس طرح اس میں سے جو خوشبو آتی ہے وہ گویا جنت کی خوشبو ہے پھر یہ کہ پھول کا تحفہ بہت سبکسار (یعنی بہت کم احسان رکھتا ہے) جیسا کہ گذشتہ صفحات میں اس کی وضاحت بیان کی جا چکی ہے۔ لہذا جب کسی کو خوشبو دار پھول دیا جائے تو اسے قبول کرنے سے انکار نہ کرنا چاہئے۔

3055Mishkaat-al-Masabih

اولاد میں سے کسی ایک کے ساتھ ترجیحی سلوک مناسب نہیں ہے

عن جابر قال : قالت امرأة بشير : أنحل ابني غلامك وأشهد لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن ابنة فلان سألتني إن أنحل ابنها غلامي وقالت : أشهد لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أله إخوة ؟ قال : نعم قال : أفكلهم أعطيتهم مثل ما أعطيته ؟ قال : لا قال : فليس يصلح هذا وإني لا أشهد إلا على حق . رواه مسلم

حضرت جابر کہتے ہیں کہ (ایک صحابی) حضرت بشیر کی بیوی نے ان سے کہا کہ تم میرے بیٹے نعمان کو اپنا غلام ہبہ کردو اور اس پر میرے اطمینان کے لئے رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا لو چناچہ حضرت بشیر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ فلاں کی بیٹی یعنی عمرہ بنت رواحہ نے جو میری بیوی ہے مجھ سے یہ خواہش کی ہے کہ میں اس کے بیٹے (نعمان) کو اپنا غلام ہبہ کر دوں نیز اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس بارے میں میرے اطمینان کے لئے رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا لوں! آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ کیا اس بیٹے کے اور بھائی بھی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے ان سب کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے جس طرح اس بیٹے نعمان کو دیا ہے انہوں نے کہا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہ مناسب نہیں ہے اور میں صرف حق بات پر گواہ بنتا ہوں۔ (مسلم) تشریح حق سے مراد یا تو یہ ہے کہ میں صرف اسی معاملہ میں گواہ بنتا ہوں جو بلا شک و شبہ اور بلا کراہت خالص طور پر حق اور صحیح ہو یا پھر یہ کہ آپ ﷺ نے عمومی طور پر یہ فرمایا کہ میں حق پر گواہ بنتا ہوں باطل پر گواہ نہیں بنتا بہرکیف اس سلسلے میں تفصیلی بحث پہلی فصل کی حدیث نمبر ٤ کے ضمن میں گزر چکی ہے۔

3056Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نئے پھل کا ہدیہ کس طرح قبول کرتے تھے

وعن أبي هريرة قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتي بباكورة الفاكهة وضعها على عينيه وعلى شفتيه وقال : اللهم كما أريتنا أوله فأرنا آخره ثم يعطيها من يكون عنده من الصبيان . رواه البيهقي في الدعوات الكبير

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو جب کوئی نیا پھل پیش کیا جاتا تو پہلے اس پھل کو قبول فرما کر اپنی آنکھوں اور ہونٹوں پر رکھتے پھر یہ فرماتے اے اللہ! جس طرح تو نے ہمیں اس پھل کی ابتداء دکھائی اسی طرح اس کی انتہاء بھی دکھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ وہ پھل کسی اس بچے کو دیدیتے جو آپ ﷺ کے پاس ہوتا ( بیہقی) تشریح تازہ پھل کو اپنی آنکھوں پر رکھنے سے آپ ﷺ کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ایک تازہ نعمت کی تعظیم ہوتا تھا انتہاء کا تعلق اگر دنیا سے ہے تو پھر یہ دعا درازی عمر کے لئے ہوگی اور اگر اس کا تعلق عقبی سے ہے تو اس سے اس طرف اشارہ ہوگا کہ آخرت کے آگے دنیا کی کیا حقیقت ہے بڑی نعمت تو آخرت کے نعمت ہے اس طرح اس دعا کا مطلب یہ ہوگا کہ اے اللہ جس طرح تو نے ہمیں اس دنیا کی نعمت عطا کی ہے اسی طرح آخرت کی نعمت بھی کہ حقیقی نعمت وہی ہے عطا فرما۔