افلاس اور مہلت دینے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 81 · 26 hadiths · Page 2 of 2

2951Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت کا پائجامہ خریدنا

عن سويد بن قيس قال : جلبت أنا ومخرفة العبدي بزا من هجر فأتينا به مكة فجاءنا رسول الله صلى الله عليه و سلم يمشي فساومنا بسراويل فبعناه وثم رجل يزن بالأجر فقال له رسول الله : زن وأرجح . رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح

حضرت سوید بن قیس کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی نے مقام ہجر سے ( جو مدینہ کے قریب واقع ہے) بیچنے کے لئے کپڑا لیا اور اسے لے کر مکہ میں آئے رسول اللہ ﷺ (کو جب یہ معلوم ہوا کہ ہم بیچنے کے لئے کپڑا لے کر مکہ آئے ہیں تو آپ ﷺ بہ نفس نفیس چل کر (بغیر سواری کے) ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے ایک پائجامہ خریدا چناچہ جب ہم نے وہ پائجامہ آپ ﷺ کو بیچا تو آپ ﷺ نے اس شخص سے کہ جو اس جگہ اجرت پر لوگوں کے اسباب تولا کرتا تھا فرمایا کہ تم میرے چاندی کے یہ ٹکڑے) تول دو تاکہ میں یہ ٹکڑے اس پائجامہ کی قیمت کے طور پر دیدوں) اور جتنے ٹکڑوں کی بات طے ہوئی ہے اس سے کچھ زیادہ ہی تول دینا) احمد ابوداؤد) تشریح ابولیلی نے اپنی سند میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وہ پائجامہ چار درہم کے عوض خرید فرمایا تھا احادیث سے صرف آپ ﷺ کا پائجامہ خریدنا ثابت ہوتا ہے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ نے وہ پائجامہ پہنا بھی تھا۔ اس حدیث میں جہاں آنحضرت ﷺ کی تواضع و انکساری کا بیان ہے کہ آپ ﷺ پائجامہ خریدنے کے لئے بہ نفس نفیس تشریف لے گئے تھے وہیں اس حدیث سے آپ ﷺ کے کمال اخلاق و کرم فرمائی کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے پائجامہ بیچنے والے کو طے شدہ قیمت سے زائد مال عنایت فرمایا۔ یہ حدیث بھی بظاہر اس باب کے موضوع سے متعلق نہیں ہے الاّ یہ کہ یہ کہا جائے کہ بعض وقت بیچنے والے کے افلاس اور اس کی خستہ حالت کی وجہ سے اس کو ازراہ احسان و بھلائی متعینہ قیمت سے کچھ زائد بھی دیدیا جائے اس مناسبت سے یہ حدیث یہاں نقل کی گئی ہے۔

2952Mishkaat-al-Masabih

قرض کی واپسی میں غیر مشرو ط زیادتی جائز ہے

وعن جابر قال : كان لي على النبي صلى الله عليه و سلم دين فقضاني وزادني . رواه أبو داود

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پر میرا کچھ قرض تھا چناچہ جب آپ ﷺ نے وہ قرض واپس کیا تو مجھے کچھ زیادہ دیا (ابوداؤد) تشریح ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کا کوئی مطالبہ (مثلا قرض وغیرہ) ادا کرے اور اپنی طرف سے کچھ زیادہ بھی دیدے بشرطیکہ وہ زیادتی سرے سے مشروط نہ ہو تو یہ درست ہے۔ اس زیادتی کو سود نہیں کہیں گے۔ کیونکہ سود تو اس زیادتی کو کہتے ہیں کہ جو قرض خواہ قرض دیتے وقت مشروط کر دے مثلا ایک سو روپیہ ایک متعین مدت کے وعدے سے بطور قرض کسی کو دے اور یہ شرط عائد کر دے کہ اس قرض کی واپس کے وقت دس روپیہ مزید لوں گا یہ قطعًا حرام ہے۔

2953Mishkaat-al-Masabih

ادائیگی قرض کا جلد انتظام کرو

وعن عبد الله بن أبي ربيعة قال : استقرض مني النبي صلى الله عليه و سلم أربعين ألفا فجاءه مال فدفعه إلي وقال : بارك الله تعالى في أهلك ومالك إنما جزاء السلف الحمد والأداء . رواه النسائي

اور حضرت عبداللہ بن ابی ربیعہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے ایک موقع پر چالیس ہزار (درہم) قرض لئے تھے پھر جب آپ ﷺ کے پاس ایک بڑی مقدار میں مال آیا تو آپ ﷺ نے مجھے (وہ سب مال یا اس مال میں سے میرے قرض کے بقدر) دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اہل و عیال اور تمہارے اموال میں برکت عطاء فرمائے قرض کا بدلہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ (جب قرض مل جائے تو) شکر وثنا کی جائے اور جلد سے جلد اس کی ادائیگی کا انتظام کیا جائے ( نسائی)

2954Mishkaat-al-Masabih

مہلت دینے والے کو ثواب

وعن عمران بن حصين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان له على رجل حق فمن أخره كان له بكل يوم صدقة . رواه أحمد

اور حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کا کسی پر کوئی حق (یعنی قرضہ وغیرہ) ہو اور وہ اس کو وصول کرنے میں تاخیر کرے یعنی قرض دار کو مہلت دے تو اسے دی ہوئی مہلت کے ہر دن کے بدلے صدقہ کا ثواب ملے گا (احمد)

2955Mishkaat-al-Masabih

دین میراث پر مقدم ہے

وعن سعد بن الأطول قال : مات أخي وترك ثلاثمائة دينار وترك ولدا صغارا فأردت أن أنفق عليهم فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أخلك محبوس بدينه فاقض عنه . قال : فذهبت فقضيت عنه ولم تبق إلا امرأة تدعي دينارين وليست لها بينة قال : أعطها فإنها صدقة . رواه أحمد

اور حضرت سعد بن اطول کہتے ہیں کہ جب میرا بھائی مرا تو اس نے تین سو دینار اور چھوٹے چھوٹے لڑکے چھوڑے تھے چناچہ میں نے چاہا کہ ان تین سو دیناروں کو اس کے چھوٹے بچوں پر خرچ کر دوں اور اس کا قرض ادا نہ کروں لیکن رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تمہارا بھائی اپنے قرض کی وجہ سے عالم برزخ میں محبوس کردیا گیا ہے جس کے سبب وہ وہاں کی نعمتوں اور صلحاء کی صحبت سے محروم ہے لہذا تم اس کا قرض ادا کردو حضرت سعد کہتے ہیں کہ یہ سنتے ہی میں گھر آیا اور اپنے بھائی کا قرض ادا کیا پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنے بھائی کا قرض ادا کردیا ہے اب کسی کا کوئی مطالبہ باقی نہیں ہے ہاں ایک عورت باقی رہ گئی ہے جو دو دینار کا دعوی کر رہی ہے لیکن اس کا گواہ نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کو بھی دو دینار دے دو وہ سچی عورت ہے ( احمد) تشریح یا تو آپ ﷺ کو سعد کے بھائی کے قرض کا حال بغیر وحی کے کسی اور ذریعے سے معلوم ہوا ہوگا اس لئے آپ ﷺ نے سعد کو اس کا قرض ادا کرنے کا حکم دیا کیونکہ حاکم کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی معلومات پر اعتماد کرتے ہوئے حکم جاری کر دے یا پھر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے اس کے قرض کا حال معلوم ہوا ہوگا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین میراث پر مقدم ہے یعنی مرنیوالے کے مال و زر میں سے پہلے لوگوں کے وہ مطالبات ادا کئے جائیں جو اپنے ذمہ چھوڑ گیا ہو اس کے بعد جو کچھ بچے وہ وارثوں میں تقسم کیا جائے۔

2956Mishkaat-al-Masabih

بار بار کی شہادت بھی قرض کا کفارہ نہیں ہوسکتی

وعن محمد بن عبد الله بن جحش قال : كنا جلوسا بفناء المسجد حيث يوضع الجنائز ورسول الله جالس بين ظهرينا فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم بصره قبل السماء فنظر ثم طأطأ بصره ووضع يده على جبهته قال : سبحان الله سبحان الله ما نزل من التشديد ؟ قال : فسكتنا يومنا وليلتنا فلم نر إلا خيرا حتى أصبحنا قال محمد : فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما التشديد الذي نزل ؟ قال : في الدين والذي نفس محمد بيده لو أن رجلا قتل في سبيل الله ثم عاش ثم قتل في سبيل الله ثم عاش ثم قتل في سبيل الله ثم عاش وعليه دين ما دخل الجنة حتى يقضى دينه . رواه أحمد وفي شرح السنة نحوه

اور حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ مسجد نبوی ﷺ کے قریب اس صحن میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں جنازے لا کر رکھے جاتے تھے ہمارے درمیان رسول کریم ﷺ تشریف فرما تھے اچانک آپ ﷺ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور ادھر دیکھا پھر اپنی نظر جھکالی اور اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھ کر انتہائی تعجب کے عالم میں فرمایا کہ سبحان اللہ سبحان اللہ کس قدر سختی نازل ہوئی ہے راوی کہتے ہیں کہ ہم خاموش رہے یعنی ہم نے آپ ﷺ سے کوئی سوال نہیں کیا) یہاں تک کہ وہ پورا دن گزرا پوری رات گزری اور ہمیں اچھائی کے علاوہ کوئی سخت بات نظر نہیں آئی یعنی صحابہ آپ ﷺ کے اس ارشاد سے یہ سمجھے کہ شاید اسی وقت کوئی عذاب نازل ہونیوالا ہے یا کوئی سخت مصیبت آنیوالی ہے مگر وہ پورا دن گزر گیا پوری رات گزر گئی نہ کوئی عذاب نازل ہونیوالا ہے یا کوئی سخت مصیبت مگر وہ پورا دن گزر گیا پوری رات گزر گئی نہ کوئی عذاب نازل ہوا اور نہ کوئی مصیبت پیش آئی تاآنکہ صبح ہوگئی حدیث کے راوی محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ وہ کیا سختی ہے جو نازل ہوئی ہے اور جس کا اظہار آپ ﷺ نے اتنے تعجب کے ساتھ کل فرمایا تھا آپ ﷺ نے فرمایا دین یعنی قرض وغیرہ کے بارے میں وہ سختی نازل ہوئی ہے قسم ہے اس پاک ذات کی جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں یعنی جہاد کرتے ہوئے مارا جائے اور پھر زندہ ہو پھر اللہ کی راہ میں مارا جائے اور پھر زندہ ہو پھر اللہ کی راہ میں مارا جائے اور پھر زندہ ہو اور اس پر قرض ہو تو وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ اس کا قرض ادا نہ کردیا جائے یعنی اگر کوئی قرض دار بار بار بھی اللہ کی راہ میں مارا جائے تو یہ بار بار کی شہادت بھی اس کے قرض کا کفارہ نہیں ہوسکتی) اس روایت کو امام احمد نے نقل کیا ہے نیز شرح السنہ میں بھی اسی طرح کی حدیث منقول ہے ( جس کا مضمون تو یہی ہے مگر الفاظ دوسرے ہیں) تشریح اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ جنازہ کی نماز مسجد میں نہیں پڑھتے تھے بلکہ مسجد سے باہر دوسری جگہ پڑھتے تھے۔